دندان ساز صدر، کھلاڑی وزیراعظم اور بے خبر فروغ نسیم – ناقابلِ اشاعت کالم
فروغ نسیم اس قدر قابل وکیل ہیں کہ انہیں عصر حاضر کا ”شریف الدین پیرزادہ“ کہا جا سکتا ہے۔ جب بھی حکومت کو کسی قانونی پیچیدگی یا مشکل کا سامنا ہوتا ہے تو فروغ نسیم وزارت کا قلمدان چھوڑ کر کالا کوٹ پہن لیتے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی انہوں نے اپنی وکالت کا جادو دکھانے کی بھرپور کوشش کی۔ اگرچہ اس اہم ترین مقدمے کی سماعت مکمل ہو چکی اور سپریم کورٹ کا لارجر بنچ تحقیقات کے بھاری پتھر کو چوم کر ایف بی آر کی طرف لڑھکانے کا حکم صادر کرچکا مگر میں ابھی تک فروغ نسیم کے ابتدائی دلائل کے سحر میں گرفتار ہوں۔
اخبارات میں جو تفصیلات شائع ہوئیں ان کے مطابق معزز جج صاحبان نے استفسار کیا کہ وزیراعظم اور صدر کو جب ایسٹ ریکوری یونٹ سے سپریم کورٹ کے جج کے خلاف شکایت موصول ہوئی تو کیا انہوں نے اپنا ذہن استعمال کرتے ہوئے یہ جانچنے کی کوشش نہیں کی کہ کیا موصول ہونے والی معلومات اس قابل ہیں کہ انہیں سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے۔
اس پر وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ صدرمملکت دندان ساز ہیں جبکہ وزیراعظم اگرچہ آکسفورڈ کے گریجوایٹ ہیں مگر وہ کھلاڑی رہے ہیں اس لیے انہیں جو کچھ سیکریٹریز کی وساطت سے بھیجا گیا، وہ انہوں نے آگے بھیج دیا۔
Read more
