بیٹے پر قابض ساس اور بے بس بہو
وہ میرے ساتھ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم میں کولیگ تھی۔ تین سال بعد حادثاتی طور پر ہماری ملاقات ہوئی۔ اس دوران اس کی شادی ہوچکی تھی۔ اب اس کے لہجے میں کڑواہٹ اور باتیں سٹریٹ فارورڈ تھیں۔ اس سے قبل اس کا لہجہ کسی شاعرہ کی لہجے سے کم نہیں تھا۔ رسمی سلام دعا کے بعد اس نے روایتی بہو کی طرح ساس کی برائیاں شروع کر دیں۔ حالانکہ میں نے اس کا حال احوال
Read more
