ستارہ دیوی – ایک مرد مار عورت کی تصویر

میں یہ اس زمانے کی بات کررہا ہوں جب ڈاکٹر محبوب کا ستارہ مائل بہ عروج تھا۔ محبوب نے اسے اپنی کسی فلم میں لیا تو اس کے ساتھ ستارہ کے جنسی تعلقات فوراً قائم ہوگئے۔ اس کی روداد میرا قلم بیان نہیں کرسکتا۔ صرف ببو(عشرت جہاں) کی زبان ہی بیان کرسکتی ہے۔ آؤٹ ڈور شوٹنگ کے سلسلے میں محبوب کو حیدر آباد جانا پڑا تھا۔ وہاں محبوب صاحب حسبِ دستور باقاعدہ نماز پڑھتے تھے اور باقاعدہ ستارہ سے عشق فرماتے تھے۔ بمبئی میں ایک اسٹوڈیو فلم سٹی تھا۔ محبوب نے غالباً اسی میں اپنی کوئی پکچر بنانا شروع کی تھی۔ ان دنوں وہاں ساؤنڈ ریکارڈ کرنے والے مسٹر پی۔ این اروڑہ تھے (جو اب مشہور پروڈیوسر ہیں) بڑے محنتی قسم کے نوجوان۔ فضل بھائی نے جو فلم سٹی کے کرتا دھرتا تھا ان کوولایت بھیجا تھا کہ وہ صدا بندی کا کام سیکھ کے آئیں۔ اسی زمانے میں سیٹھ شیراز علی حکیم بھی وہیں تھے اور لیبارٹری کے انچارج تھے۔
ڈائریکٹر محبوب سے تو ستارہ کا سلسلہ چل رہا تھا لیکن بقول دیوان سنگھ مفتون ایڈیٹرریاست دہلی اس کا ٹانکا پی۔ این اروڑہ سے بھی مل گیا۔ ڈائریکٹر محبوب نے فلم ختم کیا تو ستارہ پی۔ این اروڑہ کے ہاں بطور بیوی یا داشتہ کے رہنے لگی۔ لیکن اس دوران میں ایک اور حادثہ پیش آیا۔ سٹی ہی میں یا (کسی اور سٹوڈیو میں جہاں ستارہ کا کام کررہی تھی) ایک نو وارد الناصر تشریف لائے۔ یہ بڑے خوبصورت جوان تھے۔ کم عمر تازہ تازہ ڈیرہ دون سے تعلیم حاصل کرکے آئے تھے۔ گال سرخ و سپید تھے ان کو شوق تھا کہ فلمی دنیا میں داخل ہوں۔ جب آئے تو فوراً انہیں ایک فلم میں رول مل گیا۔ اتفاق سے اس کی کاسٹ میں ستارہ بھی شامل تھی جو بیک وقت پی۔ این اروڑہ، ڈائریکٹر محبوب اور اپنے اصلی خاوند مسٹر ڈیسائی کے پاس آیا جایا کرتی تھی۔
معلوم نہیں یہ پہلے کی بات ہے یا بعد کی مگر ستارہ کی دوستی نذیر سے بھی ہوگئی جس کی پہلی داشتہ جو کہ ایک یہودن ایکٹرس یاسمین تھی اسے داغ مفارقت دے گئی تھی۔ مجھے معلوم نہیں کن حالات میں ان دونوں کی ملاقات ہوئی لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ان دونوں میں گاڑھی چھننے لگی۔ نذیر ستارہ کا فریفتہ تھا اور ستارہ نذیرپر اپنی جان چھڑکتی تھی۔ میں نذیر کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ وہ بہت سخت مزاج کا آدمی ہے۔ وہ عورت کو تابع رکھنے کا قائل ہے، عورت کا ذکرہی کیا۔ مرد بھی جو اس کی ملازمت میں ہوں، انہیں اس کی گالیاں اور گھرکیاں سہنا پڑتی ہیں۔ وہ آدمی نہیں دیوہے لیکن بڑا مخلص دیو، وہ میرا دوست ہے۔ جب کبھی مجھ سے ملتا ہے سلام دعا کے بجائے گالیاں دیتا ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ بے ریا ہے اس کا دل خلوص سے معمور ہے۔ اس بے ریا اور مخلص آدمی نے ستارہ کو کئی برس برداشت کیا۔ اس کی سخت گیر طبیعت کے باعث ستارہ کو اتنی جرأت نہ ہوئی کہ وہ اپنے پرانے آشناؤں سے راہ و ربط قائم رکھے لیکن وہ عورت جو صرف ایک مرد کی رفاقت پرقانع نہ رہتی ہو اس کا کیا علاج ہے۔
ستارہ نے کچھ دیر کے بعد وہی سلسلہ شروع کر دیا جس کی وہ عادی تھی۔ اروڑہ، الناصر، محبوب اور اس کا خاوند ڈیسائی سب ہی اس کے التفات سے مستفید ہوتے رہے۔ یہ چیز نذیر کی خوددار طبیعت پر بہت گراں گزرتی تھی۔ وہ ایسا آدمی ہے کہ ایک مرتبہ کسی عورت سے تعلق قائم کرلے تو اسے نبھانا چاہتا ہے مگر ستارہ کسی اور ہی آب و گل کی بنی تھی۔ وہ نذیر جیسے آدمی سے بھی مطمئن نہیں تھی۔ میں اس میں ستارہ کا کوئی قصور نہیں دیکھتا۔ جو کچھ بھی اس سے سرزد ہوا، سراسر اس کی جبلت کے باعث ہوا۔ قدرت نے اس کو اس طور سے بنایا ہے کہ وہ جادۂ ہر جام ہی بنی رہے گی۔ کوشش کے باوجود وہ اپنی اس فطرت کے خلاف نہیں جاسکتی۔ یاسمین معتدل عورت تھی، خوبصورت، نسوانیت کا بڑا اچھا نمونہ، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس نے جب نذیر سے مستقل گھریلو زندگی بسر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو نذیر نے جسے ہزاروں اشخاص بہت سخت گیر سمجھتے تھے، یاسمین کو اجازت دے دی کہ وہ جس کسی کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے، کرسکتی ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ نذیر اور ستارہ کا جسمانی تعلق اتنی دیر کیسے قائم رہا۔
نذیر سے میری ملاقات ہندوستان سینے ٹون میں ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فلم انڈسٹری نہایت نازک حالت میں تھی۔ وہ اس وجہ سے کہ فائی نینسر سٹے باز تھا آج لاکھوں کے مالک ہیں دوسرے دن دیوالہ پٹ رہاہے۔ ہندوستان سنے ٹون پہلے سروج فلم کمپنی تھی۔ اس سے پہلے خدا معلوم اس کا کیا نام تھا۔ میں نے ایک کہانی’’کیچڑ‘‘ کے عنوان سے لکھی۔ جب میں نے سیٹھ نانو بھائی ڈیسائی کو سنائی تو اس نے بے حد پسند کی۔ کسی نہ کسی طرح سرمائے کا بندوبست ہوگیا۔ فلم کے ڈائریکٹر داد گنجال تھے۔ گجراتی، فلم مکمل ہو کر ریلیز ہوگیا۔ لوگوں نے اس کی تعریف کی، پسند کیا مگر میں مطمئن نہیں تھا لیکن اس کا میرے موضوع سے کوئی اتنا زیادہ تعلق نہیں۔ مجھے صرف یہ کہنا تھا کہ اس دوران میں نذیر کو اپنی ذاتی فلم کمپنی قائم کرنے کی خواہش پیدا ہوگئی۔ اسی زمانے میں یاسمین اس سے رخصت ہونے کی تیاریاں کررہی تھی۔ نذیر عزم کا مالک ہے۔ اس نے بہت جلد اپنا ذاتی فرم بنانے کا ارادہ کرلیا چنانچہ جہاں تک میرا حافظہ کام دیتا ہے اس کا پہلا فلم’’سندیسہ‘‘ تھا۔ اس کے بعد اس نے اپنا دوسرا فلم بنایا جس کا نام غالباً’’ سوسائٹی‘‘ تھا، اس میں اس نے ستارہ کو بھی کاسٹ میں شامل کیا اور جو نتیجہ ہوا، وہ ظاہر ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے میں مدغم ہوگئے اور بہت دیر تک رہے لیکن اس دوران میں جہاں تک میں جانتا ہوں، ستارہ اپنے پرانے دوستوں کے ہاں بھی آتی جاتی رہی۔ پی۔ این اروڑہ کے پاس وہ اکثر جاتی تھی۔
میں آپ کو ایک دلچسپ لطیفہ سناؤں، مجھے بمبئی چھوڑ کر دہلی جانا پڑا وہاں میں نے آل انڈیا ریڈیو کی ملازمت اختیار کی۔ قریب قریب ایک سال تک میں بمبئی کی فلمی دنیا کے حالات و کوائف سے غافل رہا۔ ایک دن اچانک میں نے نئی دلی میں اروڑہ کو دیکھا۔ ہاتھ میں موٹی چھڑی، کمر دوہری ہورہی تھی، یوں بھی بے چارہ مخنی قسم کا انسان ہے مگر اس وقت بہت خستہ حالت میں تھا۔ بڑی مشکل سے قدم اٹھا رہا تھا جیسے اس میں جان ہی نہیں۔ میں ٹانگے میں تھا اور وہ پیدل غالباً چہل قدمی کے لئے نکلا تھا۔ میں نے ٹانگہ روکا اور اس سے پوچھا کہ یہ قصہ کیا ہے اس کا حلیہ کیوں اتنا بگڑا ہوا ہے۔ اس نے ہانپتے ہوئے مگر ذرا پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ ’’ستارہ۔۔۔ ۔۔۔ منٹو ستارہ‘‘ میں سب سمجھ گیا۔ میرا خیال ہے کہ آپ کو بھی سمجھ جانا چاہیے۔
باقی حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے



