ستارہ دیوی – ایک مرد مار عورت کی تصویر
کافی عرصہ گزر گیا۔ ستارہ اور آصف کے تعلقات بڑے مستحکم نظر آتے تھے مگر ایک دم جانے کیا ہوا کہ یہ سننے میں آیا کہ آصف اپنے عزیزوں میں کسی لڑکی سے شادی کررہا ہے۔ تاریخ پکی ہوگئی اور وہ عنقریب اپنے دوستوں کے ساتھ لاہور روانہ ہونے والا ہے۔ میں ان دنوں بہت مصروف تھا ورنہ اسے مل کر ضرور دریافت کرتا کہ یہ کیا قصہ ہے لیکن مجھے اس کا موقع نہ ملا لیکن ایک روز اس سے سرراہ ملاقات ہوگئی۔ میں نے سرسری طور پر اس سے پوچھا تو اس نے صرف اتنا کہا۔ ’’میں نے وہ قصہ ختم کردینے کی ٹھانی تھی۔ چنانچہ ہو جائے گا۔ ‘‘ وہ کار میں تھا، میں پیدل تھا اور اس کو عجلت بھی تھی اس لیے زیادہ باتیں نہ ہوسکیں۔ چند روز کے بعد معلوم ہوا کہ آصف ایک بہت بڑی پارٹی کے ساتھ روانہ ہوگیا ہے۔ اس کے بعد یہ اطلاع ملی کہ لاہور میں اس کی شادی بڑے ٹھاٹ سے ہوئی۔ خم کے خم لنڈھائے گئے۔ مجرے ہوئے اور راگ رنگ کی کئی محفلیں جمی پھر سنا کہ آصف اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ بمبئی پہنچ چکا ہے اور پالی ہل باندرہ میں اس نے ایک کوٹھی کا نصف حصہ کرائے پر اٹھا لیا ہے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ پوری کوٹھی نذیر کے پاس تھی جس نے آدھی اپنے بھانجے کو دے دی۔ یہ بڑا خوشگوار انقلاب تھا۔ مجھے معلوم نہیں ستارہ کا رد عمل کیا تھا لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ اروڑہ کے ہاں وہ اکثر جایا کرتی تھی اور وہ بھی اس کے ہاں اکثر آیا کرتا تھا۔ ان دنوں آصف پالی ہل میں رہتا تھا۔ نئی نویلی دلہن پاس تھی۔ میرا خیال ہے کہ وہ ان دنوں مغل اعظم کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ اس کی کہانی کمال امروہی نے لکھی تھی مگر آصف اس سے مطمئن نہیں تھا۔
آصف اور اس کی نئی نویلی بیوی، سنہرے جلوؤں کی بیاہی۔ چند روز اکٹھے رہے۔ اس کے بعد یہ دیکھنے میں آیا کہ آصف صاحب گھر سے غائب ہیں اور راتیں ستارہ کے ساتھ گزارتے ہیں۔ یہ شادی زیادہ دیر تک قائم نہ رہی۔ نذیر کا نوجوان لڑکا بھی وہیں تھا۔ معلوم نہیں کیا ہوا کہ آصف نے اپنی بیوی کے پاس جانا چھوڑ دیا۔ ناچاقی ہوئی، اس کے بعد پتہ چلا کہ طلاق ہونے والی ہے اور اس دوران میں آصف برابر ستارہ کے یہاں جاتا تھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ستارہ کاریگر ہے۔ اس کا مقابلہ نئی نویلی دلہن نہیں کرسکتی۔ چنانچہ چند مہینوں کے بعد آصف کی دلہن اپنے گھر واپس چلی گئی اور بعد میں معلوم ہوا کہ طلاق ہوگئی ہے۔ اب پھر آصف اور ستارہ اکٹھے تھے۔ آصف کی بیاہتا بیوی کے متعلق کئی افسانے مشہور ہیں مگر میں ان کا ذکر کرنا نہیں چاہتا اس لیے کہ مجھے ان کی صداقت کے متعلق اچھی طرح علم نہیں۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ آصف نے بیاہ کیا۔ لاہور میں بڑے ٹھاٹ کی مجلسیں جمیں، اس کے بعد آصف اپنی بیوی کو لے کر بمبئی آیا۔ پالی ہل پر ٹھہرا اور دو تین مہینے کے اندر اندر اس نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا۔ اس کی وجہ ستارہ کے سوا اور کیا ہوسکتی تھی۔
ستارہ مردم شناس عورت ہے۔ اس کووہ تمام ڈھب آتے ہیں جو مرد کو اپنے طرف راغب کرسکتے ہیں بلکہ یوں کہئے کہ اسے دوسری عورتوں کے لیے بالکل ناکارہ بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آصف نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا اور ستارہ کی آغوش میں چلا گیا اس لیے کہ اس میں کشش تھی۔ آصف کی شادی اپنے خاندان میں ہوئی تھی۔ آصف نے اپنی بیاہتا بیوی کو چھوڑ دیا شاید اس لیے کہ اس میں وہ خصوصیتیں موجود نہیں تھیں جو ستارہ میں تھیں، شاید اس لیے کہ آصف کنواری لڑکی کا قائل نہیں تھا آصف کی نئی نویلی دلہن چلی گئی اور آصف نے پھر سے ستارہ کے یہاں قیام شروع کردیا، اس قیام کے دوران میں عجیب و غریب افواہیں منتشر ہوئیں مگر ان کے متعلق کچھ کہنا نہیں چاہتا۔ میں نے یہ مضمون لکھا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ آصف مجھ سے ناراض نہیں ہوگا اس لیے کہ وہ بڑے ظرف کا آدمی ہے، ستارہ یقیناً ناراض ہوگی۔۔۔۔۔ مگر وہ مجھے تھوڑی دیرکے بعد بخش دے گی اس لیے کہ اس کا ظرف بھی چھوٹا نہیں ہے۔ وہ بڑی قد آور عورت ہے( حالانکہ اس کا قد بہت پست ہے)۔۔۔ وہ مجھے معلوم نہیں کیسا آدمی سمجھتی ہے مگر میں اسے بحیثیت عورت کے ایسی عورت سمجھتا ہوں جو سو سال میں شاید ایک مرتبہ پیدا ہوتی ہے۔


