ستارہ دیوی – ایک مرد مار عورت کی تصویر
اب بمبئی میں ہر شخص کو جسے فلمی صنعت سے دلچسپی تھی۔ معلوم ہو چکا تھا کہ کوئی آصف ہے، جس سے ستارہ نے شادی کرلی ہے۔ بھنڈی بازار اور محمد علی کے ایرانی ہوٹلوں میں پنجاب اور یو۔ پی کے مسلمان جو مسلم لیگ کی حمایت میں تھے۔ چائے کی پیالیاں سامنے رکھ کر اپنی بے پناہ مسرت کا اظہار کرتے تھے کہ میاں بھائی (مسلمان) نے ایک کافر عورت کو مسلمان کر کے اپنے عقد میں لے لیا۔ بعض کہتے تھے کہ آصف کو اب اس سالی سے ایکٹنگ نہیں کرانی چاہیے۔ بعض کہتے تھے کہ کوئی واندہ(حرج) نہیں مگر جب باہر نکلے تو پردہ ضرور کیا کرے۔ بعض کہتے تھے ہٹاؤ یار۔۔۔ ۔۔۔ یہ سب اسٹنٹ ہے۔ بہرحال جہاں تک میں سمجھتا ہوں، آصف ، ستارہ سے قانونی طور پر شادی کرچکا تھا مگر ایک عرصے کے بعد جب میں نے اس سے پوچھا۔ ’’کیوں دھانسو کیا واقعی ستارہ تمہاری منکوحہ بیوی ہے۔ ‘‘ تو وہ ہنسا۔ ’’کیسا نکاح اور کیسی شادی؟‘‘ اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اصل معاملہ کیا تھا اورکیا ہے۔
آصف کا اپنا مکان کوئی بھی نہیں تھا۔ بس دونوں وہیں خداداد سرکل(دادر) میں رہتے تھے اور کُھلے بندوں رہتے تھے۔ ستارہ کی موٹر تھی اس میں گھومتے تھے۔ میرا خیال ہے، دہلی میں آصف نے شاید لالہ جگ نرائن کو اس بات پر آمادہ کرلیا تھا کہ وہ اسے ایک فلم بنانے کا سرمایہ دے۔ اس سے شاید اس نے کچھ ایڈوانس بھی لیا ہوگا جبھی تو وہ تنگ دست نہیں تھا۔ آصف میں ایک بڑی خوبی ہے کہ خود اعتماد ہے۔ اس کے اندر احساس کمتری کا شائبہ تک موجود نہیں۔ وہ بڑے بڑے ڈائریکٹروں اور اسٹوری رائٹروں کے چھکے چھڑا سکتا ہے۔ محض اپنی خدادا قابلیت کی بدولت۔ اس خداداد قابلیت کو میں’ ہاؤس سنس‘ کہا کرتا تھا۔ آصف کے سامنے بھی، مگر اس نے کبھی برا نہ مانا۔ ایک زمانہ گزر گیا۔ آصف اور ستارہ میاں بیوی کی زندگی گزار رہے تھے مگر یہاں مجھے ایک اور لطیفہ یاد آگیا۔ جس زمانے میں آصف اور میری دوستی نہیں تھی اور اس کا تعلق بھی ستارہ کے ساتھ قائم نہیں ہوا تھا۔ کے۔ آصف صاحب کے چہرے پر بلامبالغہ دس ہزار کیلیں تھیں اور اتنے ہی مہاسے تھے۔ جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ جوانی کی نشانیاں ہیں۔ میں سوچتا تھا کہ اگر جوانی کی نشانیاں اتنی بدنما اور تکلف دہ ہیں تو خدا کرے کسی پر جوانی نہ آئے۔ ( مجھ پر اللہ کا شکر ہے کبھی آئی ہی نہیں) میں جب اس کے چہرے کی طرف دیکھتا جو کہ بلامبالغہ خانہ زنبور دکھائی دیتا تھا تو مجھے بڑی کوفت ہوتی۔ میں نیم حکیم بھی ہوں۔ اپنی دانست کے مطابق اور اپنے ڈاکٹر دوستوں سے مشورہ کرکے میں نے کئی دوائیں خرید کر اس کو دیں مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ کیلیں اسی طرح موجود تھیں مگر جب ستارہ اس کی زندگی میں آئی تو چند مہینوں کے اندر اندر اس کا چہرہ بالکل صاف ہوگیا صرف نشان باقی رہ گئے تھے۔ ایک اور لطیفہ سن لیجئے۔ بمبئے ٹاکیز میں کمال امروہی اور میں دونوں اکٹھے کام کررہے تھے۔ اسکی کہانی’’محل‘‘ کو فلم کے لئے موزوں و مناسب شکل دینے کے لئے سوچ بچار ہورہی تھی۔ اس دوران میں کمال کے داہنے گال پر ایک چھوٹی سی پھنسی نمودار ہوئی جو اس کو بہت تکلیف دینے لگی۔ اس نے تکلیف کا ذکر مجھ سے کیا۔ میں نے اس سے کہا۔ ’’ایک بڑا سہل علاج ہے اور تیر بہدف۔ ‘‘ اس نے مجھ سے پوچھا۔ کیا؟‘‘ میں نے اسے کہا۔ ’’ تم ستارہ کا گھر جانتے ہو نا؟‘‘ ’’ہاں ہاں، کیوں نہیں !‘‘ ’’تو ایسا کرو۔ اس کی سیڑھیوں کا ایک چکر لگا آؤ مگر دیکھو اندر نہیں جانا۔ ‘‘ کمال ذہین آدمی ہے، میرا مطلب سمجھ گیا اور بہت دیر تک ہنستا رہا۔
بہت دیر تک ستارہ اور آصف اکٹھے ازدواجی زندگی بسر کرتے رہے۔ اب دونوں غالباً ماہم کے ایک فلیٹ میں رہتے تھے۔ وہاں کہیں رہتے تھے کیوں کہ وہاں میرا کئی مرتبہ آنا جانا ہوا۔ لیڈی جمشید روڈ، جی ٹی روڈ کے چرچ کے سامنے ایک گلی تھی جس کے آخری سرے پر ایک تین منزلہ بلڈنگ، غالباً تیسری منزل پر ستارہ کا فلیٹ تھا۔ مجھے یہاں جانے کا کئی بار اتفاق ہوا۔ ان دنوں آصف’پھول‘ بنانے کے بعد غالباً’انار کلی‘ بنانے کی تیاری کررہا تھا۔ اس کی کہانی کمال امروہی نے لکھی تھی مگر وہ شاید اس سے مطمئن نہیں تھا کیوں کہ وہ کئی آدمیوں کو دعوت دے چکا تھا کہ وہ اس میں کچھ جدت پیدا کریں۔ میں بھی ان ہی لوگوں میں سے ایک تھا۔ میں عام طور پرصبح آٹھ بجے کے قریب وہاں پہنچتا۔ دروازہ ایک بڑھیا کھولتی جو ململ کی باریک ساڑھی پہنے ہوتی۔ اسے دیکھ کر مجھے سخت کوفت ہوتی۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا کہ دروازہ الف لیلیٰ کی کسی کُٹنی نے کھولا ہے۔ میں اندر جاتا اور صوفے پر بیٹھ جاتا۔ ساتھ والے کمرے سے جو غالباً خوابگاہ تھی۔ ایسی ایسی آوازیں آتیں کہ روح لرز لرز جاتی۔ تھوڑی دیر کے بعد آصف نمودار ہوتا۔ حسب عادت اپنے ہونٹ چاٹتے ہوئے۔ اس کی ہیئت کذائی دیکھنے کی چیز تھی۔ ململ کا کرتہ جگہ جگہ سے پھٹا ہوا ہے۔ گردن اور سینے پر نیل پڑے ہیں۔ بال پریشان ہیں، سانس پھولی ہوئی ہے، معمولی علیک سلیک ہوتی اور وہ فرش پر ڈھیر ہو جاتا۔ تھوڑی دیر کے بعد ستارہ، آصف کے لیے ایک پیالہ بھیجتی۔ جس میں معلوم نہیں کس چیز کی کھیر ہوتی۔ آصف آہستہ آہستہ بادل نخواستہ پیالہ ختم کرتا، اس کے بعد ہم اپنا کام شروع کردیتے جو زیادہ تر گپوں پر مشتمل ہوتا۔
باقی حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے



