ستارہ دیوی – ایک مرد مار عورت کی تصویر


اس زمانے میں ڈائریکٹر نیر(پاکستان کا ذہین مگر بدقسمت ڈائریکٹر) بھی نذیر کے ساتھ تھا۔ آصف اور وہ دونوں ہم عمر تھے۔ دونوں کنوارے اور خوابوں کی دنیا میں بسنے والے، آپس میں ملتے تو عورتوں کی باتیں کرتے، ان عورتوں کی جو مستقل میں ان کی ہونے والی تھیں، پر جب ستارہ کا ذکر آتا تو وہ دونوں کانپ اٹھتے اور ایک ایسی دنیا میں چلتے جاتے جہاں جن، دیو اور چڑیلیں رہتی ہیں۔ ان کو کیا معلوم کہ’’نیفومینک‘‘ عورت کیا ہوتی ہے۔ ان کو کیا معلوم کہ ستارہ کے مقابلے میں ایسی عورتیں بھی ہیں جنہیں اگر برف کی سل کہا جائے تو بجا ہے۔ لیکن ان کو اتنا معلوم تھا کہ ستارہ نذیر کے ساتھ وفادار نہیں وہ ہرجائی ہے۔

یوں تو نذیر کی’’ہول ٹائم‘‘ داشتہ کے طور پر رہتی ہے مگر پی۔ این اروڑہ کے پاس بھی جاتی ہے اور کبھی کبھی اپنے پتی ڈیسائی کے پاس بھی جو بے چارہ بڑے حسرت کے دن گزار رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔ اور پھر اور بھی تھے جن میں الناصر بھی شامل تھا۔ دونوں چکرائے چکرائے رہتے تھے، ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ نذیر کے بستر کی ہر شکن کا پس منظر ان کو معلوم تھا۔ نذیر کے کھردرے اور گہرے سانولے رنگ کے چہرے کی گینڈے ایسی سخت کھال پر جو آئے دن داغ دھبے پڑتے تھے، اس کا جواز بھی ان کو معلوم تھا لیکن اس قدر دونوں کو یقین تھا کہ یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا مگر وہ چلتا رہا اپنے معمول کے مطابق۔ صبح سویرے ستارے اٹھتی اور دوسرے کمرے میں ریاض شروع کردیتی۔ یہ بھی حیرت ناک چیز تھی کہ صبح اٹھتے ہی دو گھنٹے لگاتار وہ وحشیوں کی مانند ناچتی رہے۔ ایسے ایسے توڑے لے کہ زمین گھوم جائے۔ طبلچی کے ہاتھ شل ہو جائیں مگر اسے کچھ نہ ہو۔ ریاضت کے بعد وہ اپنے مخصوص مالشئے سے مالش کرالتی تھی۔ اس کے بعد نہا دھو کر وہ نذیر کے کمرے میں جاتی جو کہ سو رہا ہوتا۔ اس کو جگاتی اور اپنے ہاتھ سے دودھ یا خدا معلوم کس چیز کا ایک پیالہ اسے زبردستی پلاتی اور دوسرا ناچ شروع ہوجاتا۔

یہ سب کچھ آصف اور نّیر کی آنکھوں کے سامنے ہورہا تھا۔ ان کی عمر تجسس کی عمر تھی جب آدمی خالی کمروں میں بھی خواہ مخواہ کھڑکی، درزوں سے جھانک کر دیکھتا ہے۔ روشن دانوں سے بھرے کمروں کا جائزہ لیتا ہے۔ ذرا سی آواز آنے پر اس کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ ان میں معانی بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نّیر، آصف کے مقابلے میں جسمانی لحاظ سے بہت کمزور تھا۔ اس کی جنسی خواہشیں بھی اسی لحاظ سے معتدل تھیں مگر آصف کے مضبوط اور تنومند جسم کی رگ رگ میں بجلی بھری ہوئی تھی جو کسی پر گرنا چاہتی تھی اسی لیے آصف چاہتا تھا کہ اندھیری رات ہو، آسمان پر کالے بادلوں کا ہجوم ہو، کان بہرے کردینے والی بجلی کی کڑک اور طوفان بادوباراں میں وہ کسی کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لے اور اسے کھینچتا کہیں دور لے جائے جہاں پتھروں کا بسر ہو۔ نذیر کا عزیز ہونے کے باعث ستارہ گھنٹوں آصف کے پاس بیٹھی رہتی اور اِدھر اُدھر کی باتیں کرتی رہتی تھی۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا آصف کا حجاب کم ہوتا گیا جو وہ لاہور سے اپنے ساتھ لایا تھا مگر اس کو اتنی جرأت نہیں تھی کہ وہ ستارہ کو ہاتھ لگاتا کیوں کہ وہ اپنے ماموں کی سخت گیر طبیعت سے واقف تھا اور اس سے ڈرتا تھا۔ لیکن اس دوران میں اتنا جان گیا تھا کہ ستارہ اس کی طرف مائل ہے۔ وہ جب بھی چاہے اس کی کلائی اپنے مضبوط ہاتھ میں پکڑ کر اسے جہاں چاہے لے جاسکتا ہے۔۔۔ ۔۔۔ مگر وہ گھپ اندھیری رات، وہ طوفانِ بادو باراں اور وہ پتھروں کا پتر! آصف جھنجلا رہا تھا کہ قدرت اتنی تعویق کیوں کررہی ہے جو ہونا ہے آج ہی کیوں نہیں ہو جاتا۔ گاڑیاں جنہیں کل ایک دوسرے سے ٹکرانا ہے، آج ہی کیوں نہیں ٹکرا جاتیں مگر یہ کیسے ہوتا جب کانٹا بدلنے والا کانٹا نہ بدلتا۔ وہ دو گاڑیوں کی طرح ایک پلیٹ فارم پررکتے تھے مگر ان میں فاصلہ ہوتا تھا۔ بہت معمولی سا فاصلہ مگر جس طرح ایک گاڑی دوسری گاڑی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی تھی اس لیے کہ وہ اپنی اپنی پٹریوں کے ساتھ جکڑی ہوتی ہیں۔ اسی طرح وہ بھی ایک دوسرے سے ہمکنار نہیں ہو سکتے تھے۔ جس طرح ادھر کے مسافر ادھر کے مسافروں سے کھڑکیوں میں سے سر باہر نکال نکال کر باتیں کرتے ہیں اسی طرح وہ بھی کرتے تھے مگر فوراً ایک گاڑی ادھر روانہ ہوجاتی اور دوسری ادھر، آصف کو بڑی جھنجلاہٹ ہوتی تھی مگر وہ گپ اندھیری رات اور طوفان بادو باراں کا منتظر تھا۔ آخروہ گھپ اندھیری رات، طوفانِ بادو براں، رعد و برق کی جملہ ہولناکیوں کے ساتھ آہی گئی۔

بالآخر ستارہ کے کرتوت دیکھ کر نذیر بھونچکا رہ گیا۔ نذیر کے سر سے اب پانی گزر چکا تھا۔ کافی لعن طعن کے بعد اس نے ستارہ سے کہا اب تم یہاں نہیں رہ سکتیں۔ اپنا بستر فوراً گول کرو۔ ستارہ، کچھ بھی ہو، آخر عورت ذات ہے۔ نذیر کی سرزنش کے بعد اس میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اکیلی اپنا بستر گولی کرسکتی۔ نذیر سے وہ کیسے مدد مانگتی۔ وہ غصے میں بپھرا، منہ میں جھاگ نکالتا باہر نکل کر اپنے دفتر میں جا بیٹھا۔ آصف نے اس کے یہ تیور دیکھے تو اس کو یقین ہوگیا کہ وہ اندھیری رات آگئی۔ تھوڑی دیر وہ خاموش بیٹھا اس کے بعد اٹھا اور آہستہ آہستہ دوسرے کمرے میں پہنچ گیا۔ جہاں ستارہ پلنگ پر بیٹھی اپنی چوٹیں سہلا رہی تھی۔ چند باتوں ہی سے اس کو معلوم ہوگیا کہ معاملہ ختم ہے۔ دل ہی دل میں وہ بہت خوش ہوا۔ چنانچہ اس نے ستارہ کو ڈھارس دی۔ کچھ اس طور پر کہ ایک نیا معاملہ شروع ہوگیا۔ آصف نے اس کا بستر بوریا باندھا اور اس کے ساتھ اس کے گھر واقع دادر (خداداد سرکل) چھوڑنے گیا۔ یہاں ستارہ نے آصف کا بہت بہت شکریہ ادا کیا۔ آصف نے جرأت سے کام لے کر ستارہ کا ہاتھ پکڑ لیا اورکہا۔ ’’اس کی کیا ضرورت تھی ستارہ۔ ‘‘ ستارہ نے اپنا ہاتھ آصف کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش نہ کی مگر آصف مطمئن نہ تھا۔ تھوڑی دیر رازونیاز کی باتیں ہوئیں۔ ستارہ نے آصف کو اپنے اس سحر کا نمونہ چکھایا جس سے وہ اس وقت تک سینکڑوں مرد، دبلے پتلے، ہٹے کٹے، ضدی اور وحشی اپنی خواہشات کا غلام بنا چکی تھی۔ اگر دن ہوتا تو آصف کو یقیناً تارے نظر آجاتے مگررات کو اسے خداداد سرکل کے اس فلیٹ میں دن طلوع ہوتا نظر آیا۔۔۔ ۔۔۔

باقی حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8