ستارہ دیوی – ایک مرد مار عورت کی تصویر
اس کی مسرتوں کا دن، مگر وہ پھر بھی مطمئن نہیں تھا۔ اس نے ستارہ سے کہا کہ دیکھو، تمہارا میرا سمبندھ بہت مضبوط ہوجانا چاہیے۔ ہرجائی پن چھوڑو، بس ایک کی ہو جاؤ۔ ستارہ نے اسے یقین دلایا کہ وہ آصف کے سوا کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے گی۔ آصف مطمئن ہوگیا مگر اس خوف سے نذیر اس سے اتنی دیر لگانے کی وجہ نہ پوچھ بیٹھے۔ عاشق صادق کی طرح اس کا ہاتھ چوم کر چلا گیا اور وعدہ کرگیا کہ وہ دوسرے روز ضرور آئے گا۔ وہ گیا، تو ستارہ اٹھی، سنگار میز کے پاس جا کر اس نے اپنے بال درست کئے،ساڑھی تبدیل کی اور کسی کی طرف آنکھ اٹھائے بغیر نیچے اتری اور ٹیکسی لے کر پی۔ این اروڑہ کے پاس چلی گئی۔
ستارہ کو مجھ سے سخت نفرت تھی۔ میں مصور کا ایڈیٹر تھا اور بے لاگ لکھتا تھا۔ بال کی کھال، اور’’نت نئی‘‘ کے کالموں میں کئی بار میں نے اس کی دُرگت بنائی تھی لیکن بڑے سلیقے سے۔ اس میں کوئی سوقیانہ پن نہیں تھا۔ پھر بھی وہ ناراض تھی اور مجھے اس ناراضی کی سچ پوچھئے تو کوئی پرواہ بھی نہیں تھی اس لیے کہ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں تھی اور یوں بھی فلمی ہستیوں سے دور دور ہی رہتا تھا۔ میں نے’’نت نئی‘‘ یا’’بال کی کھال‘‘ کے کالموں میں جب نذیر اور اس کی لڑائی کا ذکر ذرا نمک مرچ لگا کر کیا تو وہ بہت سیخ پا ہوئی اور اس نے مجھے خوب گالیاں دیں۔ اس کے بعد جب مجھے اپنے جاسوسوں کے ذریعے سے آصف اور اس کے خفیہ معاشقے کا پتہ چلا اور میں نے چبھتے ہوئے اشاروں اور کنایوں میں اس کا ذکر اپنے کالموں میں کیا تو وہ بِھنا گئی اور اس نے آصف سے کہا۔ ’’تم اس شخص کو پیٹتے کیوں نہیں، خود نہیں پیٹتے تو کسی سے پٹواؤ یا کسی اور اخبار والے کہو کہ وہ اسے اپنے اخبار میں ڈھیروں کے ڈھیر گالیاں دے۔ آصف، بڑے ظرف کا آدمی ہے۔ اس میں برد باری ہے، تحمل ہے، مذاق سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے، حالانکہ ان پڑھ ہے اس نے ستارہ کی یہ باتیں اس کان سے سنیں، اس کان سے نکال دیں۔
معاملہ اب زیادہ نزاکت اختیار کرگیا تھا۔ یہ تو آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ ستارہ کس قسم کی عورت ہے۔ اگر اس سے کسی مرد کا واسطہ پڑ جائے تو اس کی رہائی مشکل ہو جاتی ہے۔ فقط ایک الناصر ہی تھا جو چند ماہ اس کے ساتھ گزار کر ڈیرہ دون بھاگ گیا ورنہ ایک روز اس کی انتڑیاں بالکل جواب دے جاتیں اور اس کی قبر بمبئی کے قبرستان میں بنی ہوتی۔ جس کے کتبے پر کچھ اس قسم کا شعر مرقوم ہوتا
لحد پر مری وہ پردہ پوش آتے ہیں
چراغ گور غریباں، صبا بجھا دینا
ہاں تو معاملہ بہت نزاکت اختیار کرگیا تھا اس لیے کہ نذیر کے دل میں شکوک پیدا ہورہے تھے۔ وہ سوچتا تھا۔ یہ میرا بھانجھا، اتنی اتنی دیر کہاں غائب رہتا ہے جب وہ اس سے پوچھتا تھا وہ کوئی بہانہ پیش کردیتا۔ مگر یہ بہانے کب تک چلتے۔ اس کا اسٹاک ایک روز ختم ہونا ہی تھا، نذیر کے دل میں ستارہ کے لئے اب کوئی جگہ نہیں تھا۔ وہ ایسا آدمی نہیں تھا کہ اپنا فیصلہ تبدیل کردے۔ اس کو ستارہ کی نہیں آصف کی فکر تھی۔ اپنے بھانجنے کی جس کو وہ اپنا عزیز سمجھتا تھا اور جس کو اس نے صرف اس غرض سے اپنے پاس رکھا تھاکہ وہ کچھ بن جائے۔ البتہ اس کو فکر تھی کہ وہ کہیں اس عورت کے ہتھے نہ چڑھ جائے۔ وہ اس عورت کے ساتھ کئی برس گزار چکا تھا۔ اس کی رگ رگ اور نس نس سے واقف تھا۔ اس کومعلوم تھا کہ آصف جیسے نوجوان اس کا من بھاتا کھاجا ہیں اور ان کو اپنے دام میں پھنسانا اس ایسی تجربہ کار عورت کے لئے کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ لطف کی بات تو یہ ہے کہ وہ خود بخود اس کے دام کے نیچے آجاتے تھے۔ ایک بار پھنس جاتے تو پھر رہائی مشکل ہو جاتی تھی۔ ستارہ سے کسی مرد کا سابقہ پڑ جائے اور اتفاق سے وہ ستارہ کو پسند آجائے تو پھردن اور رات کا بیشتر حصہ اسی کے ساتھ کاٹنا پڑتا ہے۔ نذیر کو آصف کی پے در پے غیر حاضریوں ہی سے پتہ چل گیا تھا مگر جب آصف کہتا کہ ماموں جان! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، میں اس کے متعلق تو سوچ بھی نہیں سکتا تو وہ شش و پنج میں پڑ جاتا لیکن دل میں اسے پورا یقین تھا کہ یہ لونڈا پھنس چکا ہے اور جھوٹ بول رہا ہے۔ آصف واقعی جھوٹ بول رہا تھا۔
معاملہ اگر کسی اور عورت کا ہوتا تو وہ یقیناً کبھی جھوٹ نہ بولتا مگر ستارہ اس کے ماموں کی داشتہ تھی۔ اس کے ساتھ وہ ایسے تعلقات قائم نہیں کرسکتا تھا، وہ تعلقات جو قائم ہو چکے تھے۔ پیچھے ہٹنا اور فرار اب بہت مشکل تھا۔ آصف اس’’زین تسمہ پا‘‘ کی گرفت میں تھا۔ بھاگ نکلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا مگر ادھر نذیر کی آنکھوں میں برابر خون اتررہا تھا۔ اس کو بس ایک موقع چاہیے تھا۔ ایسا موقع کہ وہ سب کچھ خود اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ ایک روز نذیر نے وہ سب کچھ دیکھ بھی لیا جو وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ خون جو نذیر کی آنکھوں میں ایک عرصے سے اتر رہا تھا وہ اس وقت پی گیا اور ان دونوں پر ٹوٹ پڑا۔ آصف نے اپنے ماموں کو قسمیں کھا کھا کر یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ دونوں بے گناہ ہیں۔ ان کے درمیان ایسا کوئی رشتہ، ایسا کوئی تعلق نہیں جس کے لئے انہیں مورد عتاب بنایا جائے نذیر اس وقت کچھ بھی سننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ مار مار کے ان دونوں کی ہڈیاں پسلیاں توڑ دینا چاہتا ہے تاکہ سارا قصہ ہی ختم ہو، مگر مجید (مشہور ایکٹر جواب پاکستان میں ہے) نے بڑی ہوشیاری سے بیچ بچاؤ کرایا۔ مجید کو آصف اورستارہ کے معاشقے کا علم تھا۔ سنا ہے کہ اس نے آصف کو کئی بار متنبہ کیا تھا کہ وہ اس خطرناک کھیل سے باز آجائے مگر جوانی کے وہ دیوانے دن جن میں سے آصف کی زندگی گزر رہی تھی، نہ مانے اور نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ جس راز کو وہ اپنی دانست کے مطابق بڑے دبیز پردوں کے اندر چھپائے بیٹھے تھے، فاش ہوگیا۔
باقی حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے




