ستارہ دیوی – ایک مرد مار عورت کی تصویر


نذیر بہت سخت گیر آدمی ہے مگر ایسے بہت کم آدمی ہیں جن کو معلوم ہے کہ وہ نرم دل بھی ہے۔ جو کام وہ خود کرتا ہے اس کی اچھائی برائی کا شعور رکھتا ہے۔ جو اوسط درجے کا آدمی نہیں رکھتا۔ وہ ستارہ سے ایک عرصے تک جسمانی طور پر وابستہ رہا لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ یہ وابستگی آصف کی ستارہ سے بھی ہو۔ آصف اس کا بھانجا تھا۔ کہا جاسکتا تھا کہ وہ اسی رشتے کی بناء پر آصف اور ستارہ کا ملاپ پسند نہیں کرتا تھا مگر میں جو نذیر کے کردار کے تمام ٹیڑھے ترچھے زاویوں سے واقف ہوں،وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر آصف کے بجائے کوئی اور آدمی ہوتا تو وہ اس سے بھی یہی کہتا کہ دیکھو اس عورت سے بچو۔ ایک صرف میں ہی تھا جسے اپنی توانائی اور قوت پر ناز تھا لیکن میں بھی ہار گیا۔ نذیر خلوص کا پُتلا ہے۔ ایک ایسے خلوص کا جو ہر وقت بڑا درشت اور کھردرا لباس پہنے رہتا ہے۔ نذیر نے مجید کے کہنے پر ستارہ اور آصف دونوں کو چھوڑ دیا اس لیے بھی کہ آصف نے اپنے ماموں کو یقین دلایا تھا کہ ان دونوں کے تعلقات بالکل پاک اورصاف ہیں۔ نذیر چلا گیا مگر وہ مطمئن نہیں تھا۔ بظاہر وہ ایک اکھڑ آدمی معلوم ہوتا تھا۔ شے لطیف سے کورا مگر وہ دوسروں کے دل کی گہرائیوں میں ایک ماہر غوطہ زن کی طرح اتر سکتا ہے اور پھر وہ ستارہ کی ایک ایک رگ سے واقف تھا۔ اس نے ایسی کئی منزیلیں دیکھی تھیں جو آصف شاید ساری عمربھی نہ دیکھ سکھے۔ وہ مطمئن نہیں تھا۔ اس حادثے کے بعد آصف اور ستارہ کے درمیان کچھ دیر باتیں ہوئیں۔ وعدے وعید ہوئے، قسمیں کھائی گئیں کہ وہ کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد آصف نے سچے عاشقوں کے انداز سے ستارہ سے رخصت لی اور چلا گیا۔ ستارہ نے اپنا میک اپ درست کیا۔ نئے کپڑے پہنے اور ٹیکسی منگوا کر پی۔ این اروڑہ کے پاس چلی گئی، جس کی صحت دہلی کے حکیموں کے علاج سے اب کسی قدر بحال ہو چکی تھی اور اس کے پچکے ہوئے گالوں میں تھوڑا سا گوشت آگیا تھا۔

الناصر بھی تھا۔ ڈائریکٹرمحبوب بھی تھے اور خدا معلوم اور کتنے تھے۔ آصف گو ایک بہت ہی کڑے مرحلے سے گزر چکا تھا مگر اس نے ستارہ کے یہاں اپنی آمدورفت یکسر منقطع نہ کی اور وہ کر بھی کیسے سکتا تھا جب کہ پرانی جادوگرنیوں کی طرح اس جادوگرنی نے آصف کو ایک مکھی بنا کر اپنی دیوار کے ساتھ چپکارکھا تھا۔ اب صرف نجات کا ایک ہی راستہ تھا کہ پرانی کہانیوں کا کوئی شہزادہ سلیمانی تعوید کے ذریعے سے اس جادوگرنی کا مقابلہ کرتا اور انجام کار آصف اس کے چنگل سے نکلتا۔ میں جانتا ہوں اور اچھی طرح جانتا ہوں کہ طاقتور سے طاقتور سلیمانی تعویذ بھی ستارہ پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ وہ ایک ایسا حصار ہے جسے لندھور بھی سر نہیں کرسکتا۔ یہ چکر یونہی چلتا رہا۔ نذیر اور آصف کے تعلقات روز بروز کشیدہ ہوتے چلے جارہے تھے ہاں میں ایک بات کہنا بھول ہی گیا۔ جب نذیر نے ستارہ کا بستر گول کیا تھا تو رفیق غزنوی، مشہور موسیقار نے مفاہمت کی کوشش کی۔ اس نے ستارہ، اروڑہ اور نذیر کو اپنے یہاں بلایا۔ شراب کے دور چلے، رفیق نے جو گفتار کا غازی ہے، بڑے فلسفیانہ انداز میں کئی پیگ شراب کے پلائے مگر کوئی صورت پیدا نہ ہوئی اور جب کوئی صورت پیدا نہ ہوئی تو خود بخود ایک صورت پیدا ہوگئی۔ رات بھر ستارہ رفیق کے فلیٹ میں رہی اور وہ اس کو سمجھاتا رہا کہ اب کوئی صورت پیدا نہیں ہوسکتی۔ عجیب بات ہے کہ رفیق نے پھر مفاہمت کی کوشش نہ کی اور نہ ستارہ اس کے یہاں رات کو یہ سننے کے لیے گئی کہ اب کوئی صورت پیدا نہیں ہوسکتی۔ شاید اس لیے کہ ستارہ کے کسی توڑے میں رفیق کو ایک دو ماترے کم محسوس ہوئے ہوں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ستارہ نے یہ محسوس کیا ہو کہ رفیق سُر سے ایک آدھ سوتر اوپر یا نیچے گاتا ہے۔۔۔ ۔۔۔ اس کے متعلق وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

اب ہم پھر ستارہ اور آصف کی طرف پلٹتے ہیں۔ ستارہ اس پر بہت بری طرح لٹو تھی کہ وہ نوجوان خامکار تھا۔ اس کی زندگی میں ستارہ شاید سب سے پہلی عورت تھی۔ کہا جاتا ہے کہ نذیر نے ایک بار پھر چھاپہ مارا اور دونوں کو عین موقع پر جا پکڑا۔ اس دفعہ کس نے بیچ بچاؤ کیا۔ اس کا مجھے علم نہیں بہر حال معاملہ رفع دفع ہوگیا کیوں کہ آصف نے اپنے ماموں کو یقین دلا دیا کہ اس کے ستارہ کے درمیان ایسی ویسی کوئی بات نہیں۔ بہر حال آصف اور ستارہ کے سر سے آئی بلا ایک دفعہ پھر ٹل گئی مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دن آصف غائب ہوگیا۔ دوسرے دن معلوم ہوا کہ ستارہ غائب ہے۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ وہ کسی تیرتھ کی یاترا کرنے گئی ہے۔ اگر موسم حج کا ہوتا تو یار لوگ یقیناً اڑا دیتے کہ حضرت آصف حج کرنے گئے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں وہ دونوں کہاں گئے تھے مگر دہلی سے خبر موصول ہوئی کہ ستارہ مشرف با اسلام ہو چکی ہے اور اس کا اسلامی نام اللہ رکھی رکھا گیا اوریہ کہ آصف نے اس سے باقاعدہ نکاح پڑھوالیا ہے۔ اس کے ماموں نذیر پر اس کا کیا رد عمل ہوا، اس کے متعلق آپ خود سوچ سکتے ہیں مگر پُر لطف بات یہ ہے کہ ہندوؤں کے قانون کے مطابق طلاق ہو ہی نہیں سکتی۔ عورت ایک دفعہ کسی مرد سے وابستہ ہو جائے تو سو حِیلے کرنے پر بھی خود کو اپنے پتی سے جدا نہیں کرسکتی۔ یوں وہ آوارہ گردی کرسکتی ہے، سینکڑوں مردوں کی آغوش کی زینت بن سکتی ہے مگر رہے گی اپنے پتی کی پتنی۔ اور یہ بھی ہے کہ ہندوعورت چاہے دوسرا مذہب اختیار کرلے مگر اس کی اصل پوزیشن میں فرق نہیں آسکتا۔

اس لحاظ سے گو ستارہ اللہ رکھی بن کر بیگم کے آصف ہوگئی تھی مگر قانون کی نظروں میں وہ مسز ڈیسائی تھی۔ اس بیمار صورت ڈیسائی کی بیوی جو روٹی کمانے کے لئے بہت بری طرح ہاتھ پاؤں ماررہا تھا۔ جب اس خبر کی تصدیق ہوگئی تو میں نے مصور کے کالموں میں جی بھر کے لکھا۔ قریب قریب ہر ہفتے اس نئے بیاہتا جوڑے کا ذکر ہوتا تھا۔ بڑے طنزیہ مزاحیہ اور فکاہیہ انداز میں۔ ماہ غسل یعنی ہنی مون منانے کے بعد جب یہ جوڑا بمبئی واپس آیا تو نذیر خون کے گھونٹ پی کے رہ گیا۔ ایک دفعہ مجھے ریس کورس جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے دیکھا کہ ہجوم میں سے آصف شارک سکن کے بے داغ سوٹ میں ملبوس، پھرتیلی ستارہ کی کمر میں ہاتھ دیئے چلا آرہا ہے۔ جب وہ میرے قریب پہنچا تو وہ پہلے مسکرایا پھر ہنسنے لگا اور میری طرف ہاتھ بڑھا کر کہنے لگا۔ ’’بھئی خوب۔۔۔ ۔۔۔ بہت خوب، نمک مرچ اور بال کی کھال کے کالموں میں تم جو لکھ رہے ہو خدا کی قسم کی لاجواب ہے۔ ‘‘ ستارہ تیوری چڑھا کر ایک طرف ہٹ گئی مگر آصف نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور مجھ سے بڑے بلند بانگ خلوص کے ساتھ دیر تک باتیں کرتا رہا۔ وہ بڑے ظرف کا آدمی ہے اور ان پڑھ ہونے کے باوجود مزاح اور فکاہ سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

باقی حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8