فحاشی اور نئی دنیا: ادب، بصری فنون اور انٹرنیٹ کے تناظر میں


solzhenitsyn

یہ طے ہے کہ ادب اور فن جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی بالغ اور صحت مند رجحانات کے لوگوں کی سرگرمی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے، ان لوگوں کا جنس کی طرف وہی رویہ ہو گا جو زندگی کے دوسرے حوائج مثلاً بھوک، پیاس، نیند وغیرہ کی طرف ہوتا ہے۔ کوئی بھی صحت مند اور نارمل آدمی چوبیس گھنٹے نہ تو کھانے میں صرف کرتا ہے اور نہ ہی اس کے تصور میں غرق رہتا ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ جنس کا ہوتا ہے۔ اب اگر لکھنے والا اس شعور کا حامل ہے تو جنس اور اس کے بیان کو محض زندگی کی احتیاجات اور مسائل کے تناظر میں رکھ کر دیکھتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو خود اپنی ابنارمیلٹی کو ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر منٹو کے افسانے "ٹھنڈا گوشت” کو لیجیے۔ جب تک ہم کلونت کور کی نسائی کیفیت کو پڑھتے ہیں جو ایشر سنگھ کی مردانگی کی بیداری کی منتظر ہے اور ایشر سنگھ کو دیکھتے ہیں جو اس لمحے مرد بننے کا شدت سے آرزومند ہے تو یہ سب پڑھنے والے کے حواسوں پر اور انداز سے اثر ڈالتا ہے ، لیکن یک بیک افسانے میں ایک موڑآتا ہے اور گھڑی بھر میں ہم کلونت کو ایشر سنگھ کے گلے پر کرپان پھیرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ پھر ایشر سنگھ وہی جوان، گبھرو اور کلونت کور کے برابر کا جوڑایشر سنگھ ہمارے سامنے ٹھنڈا ہوتا چلا جاتا ہے۔ جب افسانے اور اس کے کرداروں کا اصل مسئلہ ہمارے سامنے آتا ہے اور اس طرح آتا ہے کہ انسانی زندگی کے ایک اندوہ ناک تجربے اور ایک انسان کے اس پر ہول ناک اثرات کا منظر نامے پر ہماری نگاہ ٹھہرتی ہے تو بھلا کیسی جنسی جبلت اور کیسا حسیاتی ہیجان؟ یہاں ہم انسانی احساس کی ایسی متغیر ہوتی ہوئی کیفیات کو دیکھتے ہیں جو ہمارے اعصاب کو شل کر دیتی ہیں اور ہمارے لیے یہ طے کرنا ممکن نہیں رہتا کہ ہمیں افسانے اور اس کے کردار کے اس انجام سے اتفاق ہے یا اختلاف یا پھر تاسف۔ اور یہ بھی کہ زیادہ بڑا مسئلہ ایشر سنگھ کا تھا یا کلونت کور کا، ہمیں ان میں کس سے ہمدردی ہے ؟ اور پھر انسان اور اس کے عمل اور تقدیر کے سوال ہمارے ذہن میں گونجنے لگتے ہیں۔ یہ تاثر اور کیفیت پیدا ہی نہیں ہو سکتی تھی اگر اس سے پہلے منٹو نے وہ سب بیان نہ کیا ہوتا۔

منٹو کے ایک اور افسانے کو دیکھیے، "موذیل” کا مرکزی کردار…ایک شوخ چنچل، بے باک عورت جو کہانی کے اختتام پر برہنہ حالت میں ہمارے سامنے ہے۔ لیکن اس کردار کو افسانے کی بنت میں ہم جس طرح اور جیسے حالات کے زیر اثر بڑھتا ہوا دیکھتے ہیں اور پھر اختتام پر آ کر جس انجام سے دو چار پاتے ہیں، اس سب کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی بھی طرح ہمارے جنسی جذبے کو تحریک نہیں ملتی۔ اس کے برعکس اس کی برہنگی کا جو جواز ہمیں ملتا ہے، وہ اتنا بڑا اور اہم ہے کہ ہماری ساری توجہ اسی پر مرکوز ہو کر رہ جاتی ہے اور موذیل کے برہنہ جسم کی طرف ہمارا دھیان جاتا ہی نہیں۔ اس وقت موذیل نے یہ برہنگی جس انسانی صورت حال میں اختیار کی ہے، وہ ہماری توجہ کا اصل مرکز بن جاتی ہے۔ چنانچہ موذیل کا گورا جسم ہمیں کسی لذت کی طرف مائل کرنے کی بجائے انسانی بربریت اور اس کے گھناؤنے پن پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور ہم موذیل کو مسکرا کر موت کے منھ میں جاتے ہوئے دیکھ کر ایک طرف گہری افسردگی سے دوچار ہوتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے دل میں یہ کھد بھد ہوتی ہے کہ جس کرپال کور کو بچانے کے لیے موذیل نے جان وار دی، کیا ترلوچن سنگھ موذیل کے پاس سے اٹھ کر اس کو مجمعے کے وحشیانہ جذبات کی بھینٹ چڑھنے سے بچاکر نکال لے جانے میں کامیاب ہوا کہ نہیں۔

اسی طرح سولزے نتسن کے ناول "کینسر وارڈ” کی اس عورت کو یاد کیجیے جو سینے کے سرطان میں مبتلا ہے اور ڈاکٹر آپریشن کر کے اس کی چھاتی کاٹنے جا رہے ہیں۔ آپریشن سے پہلے اسے خواہش ہوتی ہے کہ اس کا منگیتر آ کر اسے ایک بار سر سے پاؤں تک عریاں حالت میں دیکھ لے۔ اس خواہش کو پڑھتے ہوئے ایک لمحے کے لیے ہمیں اس میں ابتذال کا احساس ہوتا ہے اور کم سے کم ایک بار تو پڑھنے والے کا دھیان ایک نوجوان عورت کے ہیجانی جذبات کی طرف ضرور جاتا ہے، اس کے جسمانی تقاضوں کی شدت کا خیال آتا ہے لیکن اگلے ہی لمحے یہ احساس اس وقت کافور ہو جاتا ہے جب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس عورت کی اس خواہش کا محرک وصال کا جذبہ یا لذت کا حصول نہیں ہے بلکہ یہ المیہ خیال ہے کہ آپریشن کے بعد وہ پورے وجود کی عورت نہیں رہے گی۔ اس لیے وہ چاہتی ہے کہ کم سے کم ایک بار تو کوئی اس کو ثابت و سالم حالت میں دیکھے، اس کے پورے وجود کی گواہی دے۔ جب ہم کردار کے اس المیے کو share کرتے ہیں تو ہمیں کسی قسم کی فحاشی اپنی طرف متوجہ نہیں کرتی بلکہ انسانی وجود کی ایک ٹریجڈی ہمارے پیش نظر ہوتی ہے اور اس مسئلے کی سنگینی یہ تک فراموش کر دیتی ہے کہ یہ مسئلہ عورت کا ہے یا مرد کا بلکہ ہم صرف انسانی وجود کے المیے میں کھو کر رہ جاتے ہیں۔ ہمارے ذہن سے عورت، اس کی جوانی اور اس کی نسوانی شناخت کے اعضا اس لیے محو ہو جاتے ہیں کہ ہم ایک انسانی وجود کی زندگی اور موت کی حدوں کو پہنچی ہوئی بے بسی کے مسئلے میں الجھ جاتے ہیں۔ موت اپنی تمام تر ہولناکی کے ساتھ ہمارے سامنے آ جاتی ہے۔ تب ہم زندگی کو سکڑتا، سمٹتا اور اپنی بقا کے لیے اپنی شناخت کی تمکنت تک سے دستبردار ہوتا دیکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں بھلا اس بات کا دھیان کسے آئے گا کہ عورت اپنے پورے وجود کے ساتھ کیسی لگتی ہے یا اس کے جسمانی خطوط کا نظارہ کیا معنی رکھتا ہے۔ یہاں تو سوال سیدھا اور صاف ہے یعنی زندگی یا موت۔

milan kundera

اب ذرا میلان کنڈیرا کے ناول کا وہ نسوانی کردار یاد کیجیے جسے جبری ہجرت نے اکھاڑپھینکا ہے۔ وہ عورت اپنے خطوط حاصل کرنا چاہتی ہے جو چھوڑے ہوئے وطن میں اس کے گھر میں رہ گئے ہیں۔ ان خطوط کی اہمیت یہ ہے کہ اس کے شوہر نے اسے لکھے تھے۔ اب جب کہ شوہر نہیں رہا، یہ خط اس کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ ایک کمینہ پروفیسر اس کی اس جذباتی ضرورت کو exploit کر کے اختلاط کی راہ نکالتا ہے۔ وہ اسے باور کراتا ہے کہ اسے بخوبی احساس ہے کہ یہ خط بیوی کی حیثیت سے مرحوم شوہر کی یادگار کے طور پر اس کے لیے کیا جذباتی وقعت رکھتے ہیں۔ وہ اس سے وعدہ کرتا ہے کہ چاہے اسے کتنا ہی خطرہ کیوں نہ مول لینا پڑے لیکن وہ اس کے وطن جائے گا اور اسے وہ خط لا کر دے گا۔ عورت جو خود اب جسمانی ضرورتوں سے ذہنی طور پر بے نیاز ہو چکی ہے، اپنی بے زبان طلب کا شعور رکھنے اور لاینحل مسئلے میں مدد کے وعدے پر کسی حیل و حجت کے بغیر اور امیدوں کے نام پر اس پروفیسر کو اپنا آپ سونپ دیتی ہے۔ کنڈیرا نے اس سارے قصے کو شرح و بسط کے ساتھ ناول کا حصہ بنایا ہے، لیکن یہ پورا واقعہ کہیں بھی فحش نہیں ہو پاتا کہ اس میں کردار کا جذباتی بحران مسلسل ہماری توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے اور ہم باقی سب باتوں سے سرسری گذرتے چلے جاتے ہیں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7