فحاشی اور نئی دنیا: ادب، بصری فنون اور انٹرنیٹ کے تناظر میں
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسانی تہذیب اس کو رد کرتی ہے تو آخر فحاشی اور عریانی کا یہ رجحان مہذب اور متمدن اقوام میں کیوں فروغ پا رہا ہے ؟ اصل میں اس کے پس منظر میں کئی عوامل کارفرما ہیں، ان میں اہم ترین حقیقتاً مقتدر اقوام کا سیاسی کھیل ہے۔ ممکن ہے یہ بات بعض لوگوں کے لیے استعجاب کا باعث ہو کہ بھلا فحاشی و عریانی کا کسی سیاسی کھیل سے کیا تعلق؟ دیکھیے، سیاست پہلے بھی طاقت اور اقتدار کے حصول کا کھیل تھا اور آج بھی ہے۔ لیکن آج اس کی نوعیت بہت کچھ بدل چکی ہے۔ اب علاقے اور لوگ physically فتح کر کے قبضے میں نہیں لے جاتے۔ اب فتح اور قبضے کا نظریہ بدل چکا ہے۔ آج فتح کا مطلب ہے ذہنوں پر غلبہ پانا اور resources پر تصرف حاصل کرنا اور ترقی یافتہ اقوام اپنے مفتوحہ علاقوں میں خود جانے کی بجائے وہاں صرف اپنے ہم خیال اور ہم فکر افراد منتخب کر کے ان کے ذریعے نظم و نسق چلاتی ہیں۔ رہی بات عامتہ الناس کی تویہ جو تفریح کا مبتذل تصور ہے اور عریانی کی ترویج و فروغ ہے، یہ ان کے ذہنوں کو مسخ کر نے کے ہتھکنڈے ہی تو ہیں۔ ان کا مقصد اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ انھیں سوچنے اور غور کرنے اور اپنی حیثیت جاننے اور آواز پانے کی خواہش سے بھی بے نیاز کر دیا جائے۔ انھیں ایسی چیزوں میں مبتلا کر دیا جائے جو ایک نشے اور لت کی طرح ہوں اور جن سے چھٹکارا پانا آسان نہ ہو۔
ایک رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ کی ہزاروں porn sites پر کروڑوں نہیں ، اربوں عریاں اور فحش تصاویر اور ویڈیو کلپس قطعی بے قیمت اور با آسانی دستیاب ہونے کا آخر کیا مقصد ہے ؟ یہ ب بے شک کاروبار بھی ہو گا۔ لیکن ذرا غور تو کیا جائے کہ یہ کیسا کاروبار ہے جس میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور لوگوں کو اس کی طرف کسی معاوضے کے بغیر یا انتہائی قلیل معاوضے کے ذریعے مائل کیا جا رہا ہے۔ یہ کیسا کاروبار ہے جس میں سرمایہ کاری کرنے والے intangible نفع حاصل کر کے خوش ہیں۔ یہ میگا سائٹس جو لوگ فنانس کر رہے ہیں، آخر انھیں کس طور اور کتنا سرمایہ واپس مل رہا ہے اور کہاں سے مل رہا ہے ؟ اس بزنس کی کوئی ریگولیٹری ا تھارٹی کیوں نہیں ہے ؟ اس پر کوئی وتھ ہولڈنگ ٹیکس کیوں نہیں ہے ؟ اس کی امپورٹ پر کوئی ڈیوٹی عائد کیوں نہیں ہوتی؟ اس کاروبار کے کسی بھی مرحلے پر جی ایس ٹی کا اطلاق کیوں نہیں ہوتا؟ اس پورے کاروبار ی نظام کا کوئی چیک سسٹم کیوں نہیں ؟ اس ذیل میں غور کیا جائے تو ان گنت سوالات اٹھتے ہیں لیکن یہ چند سوالات بھی اس کاروبار کو سمجھنے اور اس کے پس منظر میں کارفرما اصل محرکات کا جائزہ لینے کے لیے کافی ہیں۔ ان سوالات پر غور کرنے کے بعد یہ سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ اس کاروبار سے وابستہ افراد اور اقوام کے یہاں منفعت کا تصور وہ نہیں جو عام کاروبار سے ہوتا ہے بلکہ وہ کسی اور انداز سے، کسی اور شکل میں نفع وصول کر رہے ہیں۔ یہ کاروبار اصل میں کسی اور ہی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ وہ مقصد ہے انسانی معاشروں میں اخلاقیات کا تصور تبدیل کرنا، انسانوں کو روح اور ذہن سے آزاد محض جسمانی سطح پر اور وہ بھی روبوٹ یا مشین کے سے انداز میں زندگی گذارنا سکھانا۔ سائبر اسپیس اور اس کے مسائل پر لکھنے والے ڈینس آلٹ مین، ہاورڈرین گولڈ اور جوناتھن زٹرین ایسے لوگ سائبر سینسر شپ کے بارے میں کسی امید اور کامیابی کا اظہار نہیں کرتے۔ چرچ آف اسکاٹ لینڈ کے تحت کام کرنے والے ادارے، "سوسائٹی، ریلیجن اینڈ ٹیکنا لوجی، کی رپورٹس میں کھلے بندوں اس کا اعتراف ملتا ہے کہ انٹرنیٹ پر ہونے والی عریانیت کا احتساب ممکن نہیں ہے۔ "وکی پیڈیا دی فری انسائیکلو پیڈیا” میں یہ تو بے شک لکھا گیا ہے کہ چاہے کوئی فحش کار کسی قانونی آزادی کے مطابق ہی اپنا فحش مواد پھیلا رہا ہو تو بھی اس کا یہ کام غیر قانونی ہو سکتا ہے، اس لیے کہ ممکن ہے اس سے استفادہ کرنے والوں میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہو سکتا ہے جس کا مقام قانون اسے اس کام کی اجازت نہ دیتا ہو۔ اس اخلاقی یا قانونی نکتے کی نشان دہی کے بعد انسائیکلوپیڈیا خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ یہ نہیں بتاتا کہ فحاشی کے فروغ کے سد باب کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہیئں۔ انھیں موثر اور نافذالعمل بنانے کے لیے کیا methodology اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور اس سے کس طور کام لیا جا سکتا ہے۔
انٹرنیٹ کے ماہرین اور اس کے لیے قانون سازی کرنے والے افراد اور ادارے کم و بیش سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ انٹرنیٹ جو کچھ اپنے جلو میں لے کر آ رہا ہے، وہ سب اچھا نہیں ہے۔ اس میں بہت کچھ اچھا ہے اور اس نے زندگی کے بہت سے شعبوں کے بارے میں بڑی سہولت پیدا کر دی ہے اور ترقی کی رفتار کو بڑھا دیا ہے۔ با ایں ہمہ اس حقیقت سے بھی کس طور انکار ممکن نہیں ہے کہ جتنی اس میں اچھائی ہے، اگر اس سے زیادہ نہیں تو کم سے کم اس کے برابر تو لازماً اس میں برائی بھی ہے۔ ایک پرانے محاورے کے مطابق دودھ تو بے شک یہ بکری دیتی ہے لیکن مینگنیوں کے ساتھ۔ اگر آج ترقی کی رفتار بڑھی ہے تو اس کے ساتھ ہی ساتھ تباہی کے بھی کتنے ہی نئے راستے کھل گئے ہیں۔ اور سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ کے لیے کوئی موثر قسم کا چیک اینڈ بیلنس نظام اب تک وضع نہیں ہو سکا ہے، بلکہ ماہرین کا کہنا ہے ایسا کوئی نظام ہی ممکن نہیں ہے۔ وہ اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ کمپیوٹر آج کی دنیا کے حقائق کی شکلیں بے شک تبدیل کر رہا ہے لیکن وہ خود اصل میں ایک vital reality کی دنیا ہے۔ یعنی ایک ایسی دنیا جسے جاننے، سمجھنے یا جس کا تجربہ کرنے کے لیے بعض لوازم مطلوب ہوتے ہیں، ان کے بغیر اس دنیا کی تصدیق یا اثبات تک نہیں ہو سکتا۔ ظاہر ہے، یہ دنیا ان لوگوں کے لیے وجود ہی نہیں رکھتی، جو مطلوبہ لوازم کے بغیر اس کا تجربہ کرنا چاہیں۔ اس domain میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے کچھ تقاضے پورے کیے جائیں۔ چنانچہ وہ لوگ جو اس دنیا کا تجربہ کرتے ہیں، وہ اس تجربے سے قبل ہی اپنے ذہن اور اپنی روح کو اس کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ظاہر ہے ان کے اندر اس کے لیے کوئی مدافعت یا مزاحمت نہیں ہوتی۔ بہرحال، یہ ایک لمبی اور دقیق بحث ہے کہ ورچوئل ریلیٹی آخر کیا ہے، کیا کام کرتی ہے، کیسے اور کہاں کام کرتی ہے؟ یہ الگ موضوع ہے، اس پر الگ سے اور شرح صدر کے ساتھ لکھا جانا چاہیے۔
انٹرنیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے کوئی چیک یا سینسر شپ ممکن ہی نہیں۔ ایک تو یہ ورچوئل ریلیٹی کا مسئلہ ہے، دوسری بات یہ ہے کہ یہ کسی ایک آجر اور اجیر کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس میں ہر مقام پر ایک کمپیوٹر کوئی کردار ادا کر رہا ہے اور اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں کہ اس وقت اگر کراچی کے کسی کیفے میں بیٹھا ہوا کوئی آدمی کسی سائیٹ کی سرفنگ کر رہا ہے تو وہ کتنے کمپیوٹرز کے سلسلوں سے ہوتا ہوا اپنے مطلوبہ ہدف تک پہنچتا ہے۔ شاید وہ درجنوں نہیں، سیکڑوں کڑیوں سے جڑا ہو گا۔ تو اب سوال یہ ہے کہ ان میں سے کون کس شے کا ذمہ دار گردانا جا سکتا ہے۔ اگر بفرض محال گردانا بھی جائے تو آخر کس بنیاد پر؟ تیسری بات یہ کہ وہ جس شے کا تجربہ کر رہا ہے ، وہ تو بس ہوا میں ہے اور ایک غیر وجودی (یا غیر مرئی) وجود رکھتی ہے۔ وہ کوئی tangible reality نہیں ہے کہ اسے جب ہم چاہیں، دیکھ، پرکھ اور سمجھ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے روکنا یا اس پر کوئی قدغن عائد کرنا ممکن نہیں ہے۔ تو یہ ہیں وہ مسائل جن کی بنیاد پر انٹرنیٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے جو فحاشی پھیل رہی ہے، اس کا سد باب آسان نہیں ہے۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


