فحاشی اور نئی دنیا: ادب، بصری فنون اور انٹرنیٹ کے تناظر میں


اب رہا یہ سوال کہ مغربی معاشرے کا اخلاقی ضابطہ اور اس کا نظام اقدار ان مسائل کی طرف کس طرح دیکھتا ہے اور ان کی بابت کیا رویہ اختیار کرتا ہے ؟ وہاں کے اہل دانش اس حوالے سے کیا سوچتے ہیں اور انسانی تہذیب و معاشرت کو درپیش اس مسئلے کے سلسلے میں کیا مغرب کوئی مثبت اور موثر کردار ادا کر سکتا ہے ؟ قرائن و شواہد سے اس سوال کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ مغرب میں اخلاق و اقدار کا کوئی تصور ہی نہیں پایا جاتا۔ تصور تو بے شک پایا جاتا ہے لیکن اب وہ بے روح اور غیر موثر ہو چکا ہے۔ ایسا جن اسباب کی بنیاد پر ہوا ہے ، ان میں سے بعض کی نشان دہی گذشتہ صفحات میں کی جا چکی ہے، تاہم ایک سبب اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ مغرب میں تہذیب و اقدار کے بنیادی تصور میں تبدیلی آ چکی ہے، اور تصورات کی اسی تبدیلی کے زیر اثر الفاظ کے معانی و مفاہیم تک بدل گئے ہیں۔ اب اس لفظ پورنوگرافی ہی کو لے لیجیے اور دیکھیے کہ مغرب اس لفظ کوکس آزادی اور سہولت کے ساتھ استعمال کر رہا ہے کہ اب وہاں کتابوں کے نام، (1) Pornography of Death, (2) Pornography of Power رکھے جانے لگے ہیں۔

بات یہ نہیں کہ عریانیت یا برہنگی کا تصور اس سے قبل بیان نہیں ہوتا تھا، ضرور ہوتا تھا لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ موت کی حقیقت یا طاقت کے کھیل کو عریانیت کے حوالوں سے بیان کرنے کا جو چلن آ رہا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ مطلب سیدھا اور صاف ہے کہ ان الفاظ کو سنتے ہی وہ جو خاص تصورات اجاگر ہوتے تھے اور جن کے سامنے تہذیبی معاشرے کا اخلاقی نظام پشتہ بندی کرتا تھا، اب ان کے الفاظ کا یوں بے تکلفانہ استعمال اس پشتہ بندی کو ختم کر کے انھیں روزمرہ کی چیز بنا دے گا اور وہ جو سماجی سطح پر ان الفاظ اور ان کے ساتھ وابستہ تصورات کی طرف ایک resentment تھی، وہ رفتہ رفتہ معدوم ہوتی چلی جائے گی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آج مغرب خود ایک دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ اس کی روشن خیالی اور مادی ترقی کی چکاچوند اپنی جگہ لیکن جاننے والوں کی نگاہ سے اس کی روح کی ابتری کا احوال پوشیدہ نہیں ہے۔ مغرب میں آج جرائم کا جو تناسب ہے، اسے دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی مثال ایک ایسے جہاز کی ہے، جس کا ایک حصہ ڈوب چکا ہے اور اس پر سوار افراد کو یہ معلوم تک نہیں کہ وہ ڈوبنے جا رہے ہیں۔ وہاں پر نوجوانوں میں جرائم کی شرح سب سے زیادہ ہے اور پھر ان جرائم میں جنسی جرائم سر فہرست ہیں اور اسی تناسب سے نتیجتاً ذہنی اور جنسی امراض بھی۔ خیر، یہ بحث ہمارے موضوع کے دائرے میں نہیں آتی، اس لیے ہم اسے یہیں چھوڑتے ہیں۔ ہم بات کر رہے تھے مغر ب کے اخلاقی نظام کی، جو کمزور ہوتے ہوتے بالکل غیر موثر ہو چکا ہے۔ خود مغرب کے سوچنے اور غور وفکر کرنے والے اذہان مایوسی کے ساتھ اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ انھیں اپنے آگے اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔ خصوصاً جدید دنیا کی اس سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اخلاقی ابتری میں جس تیزی کے ساتھ وہاں اضافہ ہوا، اس کی بابت اہل نظر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ چنانچہ ایسی صورت حال میں ہم مغرب سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔ مغرب کے تو اپنے زخموں کا اندمال ممکن نہیں، وہ کسی اور کے دکھوں کا بھلا کیا مداوا کرے گا۔

یوں اگر دیکھا جائے تو ادب، آرٹ، بصری فنون یا انٹرنیٹ خواہ کسی بھی ذریعے سے فحاشی کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس سوال کے مخاطب وہ تہذیبیں یا معاشرے ہیں جہاں اخلاق و اقدار کا کوئی نظام قائم اور روبہ عمل ہے۔ تو اس مسئلے کے بابت سوچنا بھی انھی کو پڑے گا اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنا کوئی دفاعی نظام اگر وہ بنا سکتے ہیں اور بنا نا چاہتے ہیں تو انھیں خود ہی بنانا پڑے گا۔

آخری بات یہ کہ ادب، آرٹ یا فلم کے پیچھے اصلاً ایک دماغ کام کرتا ہے۔ اولاً وہ دماغ اپنی ایک جمالیاتی حس رکھتا ہے۔ دوم وہ چاہے سماجی ہی سہی، بہرحال کسی نہ کسی اخلاقی ضابطے میں یقین رکھتا اور اس کے زیر اثر اپنی حدود کا تعین کرتا ہے۔ سوم یہ کہ وہ کسی نہ کسی تہذیب، معاشرے، مقتدرہ یا مقننہ کو جواب دہ ہوتا ہے۔ چہارم یہ کہ وہ ان لوگوں کی طرف سے کہ جن کے سامنے وہ اپنا فن پیش کر رہا ہے، اپنے ہر کام پر اچھے یا برے ردعمل کا سامنا کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب چیزیں اس پر اثر انداز ہوتی ہیں اور اس کے ذہنی رویوں کی ساخت اور فکر کی تشکیل میں ایک کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم ان میں سے کسی ایک بات کا بھی کمپیوٹر یا انٹرنیٹ پر اطلاق نہیں ہوتا۔ کمپیوٹر کی اپنی کوئی جمالیاتی حس ہوتی ہے اور نہ اس کے لیے کوئی اخلاقی ضابطہ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ کسی کو جواب دہ ہے۔ پھر یہ اس کے لیے ہر امیج محض بائٹس کا مجموعہ ہوتا ہے، وہ اچھا ہے یا برا، نیک ہے یا بد، اس سے اسے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ ہو بھی نہیں سکتا، اس لیے کہ اچھائی برائی میں امتیاز کرنے کا شعور اسے حاصل نہیں ہے۔ اس سے اگر آپ نے تتلی (Butterfly) کا امیج طلب کیا ہے تو وہ تتلی کے نام کے وہ ساری امیج جو اس کے پاس ہوا میں ہیں، آپ کو لا کر پیش کر دے گا۔ وہ یہ فرق نہیں کر سکتا کہ یہ اصل تتلی ہے اور یہ طوائف ہے جس نے اپنی برہنہ تصویر تتلی کے نام سے ہوا میں رکھ دی ہے۔ وہ ایسا اس لیے بھی نہیں کر سکتا کہ اس کے لیے ایسا کوئی ضابطہ اب تک device ہی نہیں ہوا ہے جو اسے غلط اور درست میں تمیز کا شعور دے سکے۔ پھر دوسرے یہ کہ کمپیوٹر کسی بھی jurisdiction میں نہیں آتا، اس لیے اس کا ہر عمل اضافی یا پھر قیاسی ہے۔ تو یوں اس virtual reality کی سینسر شپ یا احتساب کے لیے کوئی نظام وضع کرنا کاردارد ہے۔ اور اگر کر بھی لیا جائے تو وہ کس حد تک موثر ہو گا، اس کی بابت بھی ماہرین کے ہاں کوئی ایسی خوش فہمی نہیں پائی جاتی۔

خیر، تو اب کیا کہا جائے، یہ کہ ہم ایک غیر اخلاقی اور ہر قسم کے ضابطے سے عاری دنیا کی طرف جا رہے ہیں ؟ اگر اس سوال کا جواب ہمارے پاس اثبات میں آتا ہے تو ہمیں یقینا سوچنا چاہیے کہ کیا ہم اور ہماری نئی دنیا واقعی ترقی کر رہی ہے ؟ اس لیے کہ یہ لباس، یہ شائستگی، یہ قرینہ، یہ تہذیب، اخلاق اور قوانین وغیرہ سب ہم نے تاریخ کی تاریک را ہوں پر طویل اور کٹھن سفر کے بعد روشنی کی شاہراہ پر آ کر حاصل کیا ہے۔ تو لارڈ ناتھ بورن کے بقول اب ہمیں پل بھر کو رک کر عقب میں اپنی ترقی کی راہ پر ایک نگاہ ڈال کر جان لینا چاہیے کہ ہم آگے جا رہے ہیں یا پیچھے ؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7