فحاشی اور نئی دنیا: ادب، بصری فنون اور انٹرنیٹ کے تناظر میں


alex haley

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ الیکٹرانک میڈیا as such کوئی بری شے نہیں ہے۔ انسانی معاشرے کے لیے یہ خاصا مفیدطلب سامان رکھتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ بھی وہی مسئلہ پیش آیا جو ایٹم بم کے ساتھ پیش آیا تھا کہ مقتدر قوموں نے اسے کمزور تہذیبوں، چھوٹے معاشروں اور غیر مستحکم قوموں کے فکری استحصال اور ذہنی قلب ماہیت کے حربے کے طور پراستعمال کیا۔ چنانچہ اسے ایک ایسی انڈسٹری بنا دیا گیا ہے جو عامتہ الناس کی تفریح طبع کا سامان فراہم کرتی ہے۔ اس سے بھلا کسے انکار ہو سکتا ہے کہ تفریح طبع کا سامان بھی متمدن انسانی زندگی کی ضرورتوں میں آتا ہے۔ پرانے معاشرے بھی زندگی میں تفریح کا اہتمام کرتے تھے لیکن اس ستم ایجاد نے غضب یہ ڈھایا کہ تفریح کے تصور کو دھیرے دھیرے ابتذال سے جوڑدیا۔ اس کاروائی میں انسانی جذبات کو تقدم حاصل ہوا جب کے عقل، فکر اور روح کے مطالبات ثانوی چیز ہو کر رہ گئے بلکہ رفتہ رفتہ عام انسانوں کی زندگی میں ان پر توجہ کی ضرورت ختم ہوتی چلی گئی۔ نتیجہ یہ کہ نئی دنیا کا انسان بڑی حد تک impulsive انسان بن گیا۔ اس کی توجہ کا محور محض اس کی مادی ضرورتیں ہیں اور اس کے نزدیک زندگی کی سب سے بڑی حقیقتیں صرف وجودی حقیقتیں ہیں۔ اس کے برعکس پرانی تہذیب کا انسان مادی ضرورتوں اور وجودی حقیقتوں کے ساتھ ساتھ اپنی روح کے مطالبات کا بھی شعور رکھتا تھا اور ماورائے وجود حقائق اور روح کے مطالبات کو باقی سب چیزوں پر فوقیت دیتا تھا۔

اس ساری صورت حال کے پیش نظر ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ماضی میں ہم دقیانوسی یا تنگ نظر نہیں تھے بلکہ اس وقت ہمیں اپنی تہذیب، اس کی اقدار اور نظام اخلاق کا شعور تھا اور ہم ان پر یقین رکھتے تھے جب کہ آج نئی دنیا کی ہوا میں آ کر ہم اس شعور سے عاری ہو گئے ہیں اور اپنی تہذیب اور اس کی اقدار پر سے ہمارا یقین اٹھ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کل جن باتوں کا ہمارے یہاں تصور تک محال تھا، آج وہ ہماری زندگی کا معمول ہو گئی ہیں۔ ان پر ہمیں نہ کوئی الجھن یا تشویش ہے اور نہ ہمارے اندر ان کے خلاف کو احتجاج یا ردعمل ہے۔ ہم نے خود کو اس نئی بے اقدار، بے تہذیب دنیا کے دھارے پر بہنے کے لیے چھوڑدیا ہے۔ اس رویے کو آج آزادہ روی اور روشن خیالی کا نام دیا جا رہا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں رونما ہونے والی یہ سرگرمیاں اپنے باطن میں انسانی تمدن اور تہذیبی اقدار کے اس سارے سفر کی نفی کرتی ہیں جو انسان نے صدیوں میں اپنی وحشتوں اور جبلتوں کو قابو کرتے ہوئے انسانیت کی منزل کو پانے کے لیے طے کیا ہے۔

بات یہ نہیں ہے ادب میں، میڈیا اور انٹرنیٹ پر جنسی موضوعات پر پابندی عائد کی جائے اور ان کو سامنے لانے کی ممانعت ہو۔ نہیں، یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اگر جنس اور اس کے مسائل ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں تو ان کو بیان بھی ہونا چاہیے اور انھیں سامنے بھی لایا جانا چاہیے۔ اس لیے کہ اگر ہم انھیں دبا دیں گے تو وہ ختم نہیں ہوں گے بلکہ پورے معاشرے کو متعفن کر دیں گے۔ ہیرا منڈیوں ، شراب خانوں اور جوا اڈوں کو ہم نے ختم کرنے کی جو کوششیں، اتھلی سطح پر محض جذباتی انداز میں کی تھیں، اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ تیس چالیس برس پہلے ان کاموں کے مخصوص ٹھکانے ہوا کرتے تھے اور وہاں آنے جانے والے بھی الگ کینڈے کے لوگ تھے لیکن اب یہ جراثیم ہمارے اپنے گلی محلوں تک آ گئے ہیں۔ برائی کو دبانا اس کا علاج نہیں ہے بلکہ اس کا سامنا کرنے اور معاشرے کی حقیقتوں اور ضرورتوں کے تناظر میں ا سے دیکھنے کے بعد ہی اس کا سد باب ممکن ہے، لیکن برائی کا سامنا کرنے اور معاشرتی تناظر میں اس کی حقیقت جاننے کے لیے بڑی اخلاقی جرات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم میں آج اسی جرات کا فقدان ہے۔ ہم اپنے الیکٹرانک میڈیا اور فلم انڈسٹری کو دوسروں کے مقابلے میں لانے کے بھی خواہاں ہیں ، سو سے زیادہ چینلز، ڈش اور کیبلز کو بھی عام کر رہے ہیں اور پھر یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل آلائشوں سے محفوظ رہے اور آزادی کے اس تصور سے بھی دور رہے جو مغرب کا مادر پدر آزاد سماج پیش کرتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے ہم میڈیا میٹریل کو جو آندھی طوفان کی رفتار سے آ رہا ہے، آسانی سے نہیں روک سکتے۔ اس کے آگے بند باندھنا واقعتا بے حد دشوار بلکہ کم و بیش ناممکن العمل ہے، لیکن اس عفریت کا مقابلہ کرنے کی ابھی ایک صورت باقی ہے اور وہ یہ کہ ہم اپنی تہذیب اور اس کی اقدار پر اپنا یقین بحال کریں اور اپنی نئی نسل کو ان اقدار کے شعور سے بہرہ مند کرنے کی کوشش کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے باطن کو اور اپنی روحوں کو عہد جدید اور اس کی دنیا میں طوفانی رفتار سے آتی ہوئی جبلت انگیز ہواؤں کی گذرگاہ نہ بننے دیں۔ ہمیں اپنے محسوساتی سانچے کو اپنے معاشرتی نظام سے مربوط رکھنے کی راہ نکالنی چاہیے اور اپنے اندر اس اخلاقی جرات کو پھر سے بیدار کرنے کی تگ و دو کرنی چاہیے جو مسائل سے آنکھیں نہیں چراتی بلکہ اس کا سامنا کرتی ہے۔ اگر ہم الیکٹرانک میڈیا کی اس یلغار کو نہیں روک سکتے تو کم سے کم اتنا تو کر سکتے ہیں کہ یہ زندگی کی حقیقتوں اور تفریحات کا جو تصور پیش کر رہا ہے، ہم اسے قبول نہ کریں۔ اس لڑائی میں ہمارا ادب ایک تہذیبی قوت کا کام کر سکتا ہے اور یوں ہماری کوششیں اس بے اقدار معاشرت کے طوفان کے آگے بند باندھنے کے مترادف ہو سکتی ہیں جو اس وقت پوری انسانیت کو بہا لے جانے کے درپے ہے۔

یہ تو ہوئی ادب اور فلم کی بات۔ ان شعبوں میں اخلاقیات اور اقدار کا جو تصور اب سے پہلے رائج رہا ہے، اس پر تو ہم ایک سرسری نظر ڈال چکے۔ اب جو تبدیلیاں ان میڈیمز پر تیزی سے آ رہی ہیں، ان کی جانب بھی اشارے کیے جا چکے ، علاوہ ازیں یہاں ضابطہ اخلاق اور اقدار کا نظام کس طرح کام کرتا ہے اور کتنا موثر ہو سکتا ہے اور ذمہ دار، باشعور افراد اس حوالے سے خود پر جو پابندیاں عائد کرتے ہیں، اس پر بھی ہم بات کر چکے ہیں۔ تاہم اس وقت مسئلہ ادب، آرٹ اور فلم کا نہیں ہے بلکہ آج سب سے بڑا مسئلہ ہے انٹرنیٹ کا۔ اس لیے کہ انفارمیشن ٹیکنا لوجی کا یہ شعبہ حالات کی جیسی ابتری کا نقشہ پیش کر رہا ہے، اس کا تو اس سے قبل شاید تصور بھی ممکن نہیں تھا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7