فحاشی اور نئی دنیا: ادب، بصری فنون اور انٹرنیٹ کے تناظر میں


آج ہماری دنیا اگر یکسر نہیں تو اب سے تین چار دہائی پہلے کی دنیا سے اس حد تک ضرور مختلف ہو چکی ہے کہ اب ہم اپنے زمانے میں، اس کے رجحانات اور مسائل کے حوالے سے جن موضوعات پر بات کرتے ہیں، وہ بڑی حد تک بدل چکے ہیں۔ ان نئے موضوعات میں فحاشی آج کی انسانی دنیا کا ایک ایسا موضوع ہے جس کی بابت تمام متمدن معاشرے سوچنے پر مجبور ہیں اور کم و بیش یکساں حالات اور بے بسی کے ایک جیسے احساسات سے دوچار ہیں۔

فحاشی کوئی نیا موضوع تو ہر گز نہیں ہے لیکن آج اس نے جس طرح مسئلے کی شکل اختیار کر لی ہے، وہ اپنی نوعیت میں اگر یکسر نہیں تو بہرحال بڑی حد تک نیا ہے اور اس سے پہلے کی تہذیبوں اور قوموں کو اس کا تجربہ تو کجا، شاید ان کے لیے اس قسم کی صورت حال کا تصور بھی محال تھا۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ گذشتہ ادوار میں فحاشی کا مسئلہ پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ نہیں، بات یہ نہیں ہے۔ انسانی تہذیب کے سفر میں بہت پہلے سے ہمیں اس مسئلے کا سراغ ملتا ہے، بلکہ تاریخ دانوں نے ماقبل تاریخ کے زمانوں اور جہانوں میں بھی اس مسئلے کی نشان دہی کی ہے۔ غاروں میں رہنے والے لوگوں تک کی چھوڑی ہوئی یادگاروں میں ان عناصر اور رجحانات کے واضح نشانات ملتے ہیں جنھیں ہم فحاشی سے تعبیر کرتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ مسئلہ تو یہ پہلے بھی انسانی معاشروں میں موجود تھا لیکن اب اس کی نوعیت اور صورت بہت کچھ بدل چکی ہے۔

جدید یعنی معاصر دنیا اصل میں انسان کے حسی تجربے سے زیادہ سروکار رکھتی ہے اور اس کے تجربے کی ماہیت ایک پرانی اصطلاح کے مطابق بیش از بیش عین الیقین کے درجے میں آتی ہے۔ یہ عہد Information Explosion کا ہے۔ چنانچہ آج انسانوں پر اور ان کی دنیا پر سب سے بڑا قبضہ ذرائع ابلاغ کا ہے۔ اس لیے معاصر دنیا میں فحاشی کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہم اس مضمون میں ممکنہ حد تک اختصار کے ساتھ عہد حاضر کے جن تین اہم حوالوں سے بات کریں گے، ان میں سے ایک تہذیبی اقدار سے موسوم ہے یعنی ادب اور دیگر دو ذرائع ابلاغ سے یعنی بصری فنون (فلم وغیرہ) اور انٹرنیٹ۔

ہمارے یہاں فحاشی کے مسئلے کی نوعیت اب تک کیا تھی اور اس کی طرف ہمارا تہذیبی اور سماجی رویہ کیا رہا ہے، یہ جاننے کے لیے ہمیں ماضی بعید میں جانے کی ضرورت نہیں ہے، محض پچاس ساٹھ برس پہلے تک کی صورت حال پر ایک نظر ڈالنے سے بھی ہم بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ اب دیکھیے، ہمارے یہاں ایک زمانہ تھا کہ سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی اپنی صاف گوئی، بے باکی اور حقیقت نگاری یا فحاشی اور ابتذال کا خمیازہ مقدمات کی صورت میں بھگتتے تھے۔ لیکن آج جب ہم ان کے بدنام زمانہ افسانوں (مثلاً ٹھندا گوشت، اوپر، نیچے ، درمیان اور لحاف وغیرہ) کو پڑھتے ہیں تو کہیں کہیں ذرا سی بے باکی کا احساس ضرور ہوتا ہے مگر ایسا تو کچھ ان افسانوں میں نظر نہیں آتا کہ جس پر مقدمہ بازی، پیشیوں، جرحوں اور جرمانوں کا طومار باندھا جائے۔ تو کیا نصف صدی قبل ہمارا معاشرہ دقیانوسی، تنگ نظر اور rigid تھا اور اگر اب اس قسم کے احتسابی واقعات پیش نہیں آ رہے، تو کیا ہم ماضی کے مقابلے میں آزاد خیال، کشادہ فکر اور enlightened ہو گئے ہیں ، یا پھر کوئی اور بات ہے ؟

ادب و فن میں فحاشی کا مسئلہ ایک بے حد اہم موضوع ہے۔ ہر تہذیب کسی نہ کسی موقعے پر اپنے ادب اور فنون سے اس مسئلے پر سوال کیا ہی کرتی ہے۔ ہمارے یہاں اس مسئلے کی گونج پہلے پہل چالیس کی دہائی کے اواخر میں سنائی دی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد ہمیں خصوصیت سے اس نوع کے بنیادی مسائل کا سامنا تھا کہ اس وقت ایک آزاد ریاست کو وطن کی حیثیت سے حاصل کرنے کے بعد ہم نے من حیث القوم اپنی اپنی تہذیبی شناخت کی بابت سوچنا شروع کیا تھا اور اپنی اقدار کی طرف ہمارا رویہ بے حد سنجیدہ تھا بلکہ اس سنجیدگی میں شاید ایک حد تک حساسیت بھی شامل ہو گئی تھی۔ چنانچہ بعض مواقع پر یہ بھی ہوا کہ معمولی سے مسئلے کو بھی ہماری اس حساسیت نے ضرورت سے زیادہ سنگین بنا دیا۔ خیر، جیسا کہ اس طرح کی صورت حال میں عام طور پر ہوا کرتا ہے، ہمارے یہاں بھی وہی ہوا، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس شدت میں کمی آتی گئی اور اب یہ عالم ہے کہ بعض سنگین قسم کے مسائل کی طرف بھی ہمارا رویہ اتنا سنجیدہ نہیں جتنا کہ ہونا چاہیے۔ فحاشی اس قسم کے مسائل میں سے ایک ہے۔

مثال کے طور پر دیکھیے کہ جو کچھ لکھنے پر منٹو اور عصمت نے پیشیاں بھگتیں اور جرمانے بھرے، اس سے کئی گنا زیادہ فحاشی اب ہمارے اخبارات و رسائل میں عام ہے بلکہ رنگین تصاویر کے ساتھ ہے لیکن کوئی اس پر معترض نظر نہیں آتا جیسے آج یہ کوئی بات ہی نہیں ہے۔ خیر، اخبارات و رسائل تو رہے ایک طرف، اس وقت الیکٹرونک میڈیا جو کچھ دکھا رہا ہے، وہ تو کسی اور ہی دنیا، کسی الگ ہی معاشرے کا سامان ہے۔ اس کے آگے تو منٹو اور عصمت کی کہانیوں میں فحاشی کے مسائل محض بے ضر ر اور بچوں کی سی تفریحی باتیں معلوم ہوتے ہیں۔ آج ہم یہ سب کچھ اطمینان سے دیکھ رہے ہیں، کسی احتجاج، جھنجھلاہٹ اور خوف کے بغیر۔ ظاہر ہے، اس کا مطلب تو یہی ہو گا کہ ہمارا فحاشی کا تصور یا اخلاقی اقدار کا نظام غیر موثر ہو گیا ہے یا پھر بدل گیا ہے۔

یہ بات یوں تو بہت سادہ سی معلوم ہو رہی ہے لیکن واقعتا ہے نہیں۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ تسلیم کرنا چاہیے کہ جنسی حسیت اور جنسی عمل ہماری زندگی کا حصہ ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا بیان ادب اور فن کے لیے شجر ممنوعہ نہیں ہو سکتا۔ اس مرحلے پر ہمارے سامنے پہلا اہم سوال یہ ہو گا کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو اس بیان کو کہیں ادب یا فن بنا دیتی ہے اور کہیں فحاشی؟ اس کامپلیکس سوال کا جامع جواب تو اصل میں اس تہذیب اور اس کے نظام اقدار کے تناظر میں دیا جا سکتا ہے جس کے سیاق و سباق میں کوئی ادب پارہ تخلیق کیا جاتا اور پیش ہوتا ہے۔ تاہم اپنے سمجھنے کے لیے اگر ہم ایک سادہ سا عمومی اصول وضع کرنا چاہیں تو کہا جائے گا کہ جنسی حسیت یا اس کے پہلووں کا ایسا بیان جس میں پڑھنے یا دیکھنے والے کے لیے اس فن پارے میں پیش کیا گیا اصل مسئلہ ثانوی درجے کا ہو جائے اور فن پارے کے مرتب کردہ اثرات کے تحت اس پر لذتیت غالب آ جائے، فحاشی میں شمار ہو گا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7