فحاشی اور نئی دنیا: ادب، بصری فنون اور انٹرنیٹ کے تناظر میں
آئیے، اب لگے ہاتھوں ایک ڈیڑھ مثال فلم کی بھی دیکھ لیجیے۔ "رام تیری گنگا میلی” راج کپور کی فلم تھی۔ جب یہ فلم سینسر کے لیے گئی تو بورڈ نے اس کے ایک سین پر جس میں مرکزی نسوانی کردار اپنے بچے کو بھرے بازار میں دودھ پلانے بیٹھتی ہے اور کیمرہ ایک لمحے کو اس کے اس آسن کو فوکس کرتا ہوا گذرجاتا ہے، قابل اعتراض گردانا۔ راج کپور نے اعتراض کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اس کا مقدمہ لڑتے ہوئے کہا کہ پہلی بات وہ عورت چھاتی کی نمائش نہیں کر رہی بلکہ وہ تو صرف اور صرف ایک ماں ہے جو اپنے بچے کو دودھ پلانے بیٹھی ہے۔ دوسرے یہ کہ اس پر پہلے ہی ایسی افتاد گذرتی دکھائی گئی ہے کہ اسے کچھ ہوش ہی نہیں کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔ اگر اس عورت کو اس بپتا کے ساتھ اور پیش آنے والے واقعات کی پوری صورت حال میں دیکھا جائے گا تو اس کے مسئلے کی نوعیت واضح ہو سکے گی ورنہ نہیں۔ یہ ٹھیک ہے، اگر ہم ایک عورت کو دیکھتے ہیں تو اس کے اعضا پر ہماری نگاہ کسی اور طرح پڑتی ہے لیکن جب ہم ایک ماں کو دیکھتے ہیں تو ہمارا زاویہ نگاہ بالکل بدل جاتا ہے۔ اپنے دلائل سے راج کپور اپنی فلم کو سینسر سے جوں کا توں پاس کرانے میں کامیاب رہا۔
ایک اور مثال دیکھیے، فلم کا نام ہے "Roots”۔ یہ اصل میں ایلکس ہیلے کے ناول کی کہانی ہے جسے فلمایا گیا ہے۔ یہ ناول خود اپنی جگہ ایک بڑی مثال ہے۔ اس ناول میں ایک سے زائد مقامات پر مصنف نے کرداروں کا ماجرا بیان کرنے اور ان کے احوال واقعی سنانے کے لیے بعض ایسے واقعات بھی قلم بند کیے ہیں جو ذرا سی بے احتیاطی کے باعث obscenity گردانے جاتے لیکن ایلکس ہیلے نے کرداروں کی ماجرائیت کو اس رنگ میں لکھا ہے کہ پڑھنے والے کی نگاہ ان کے جسم سے کہیں زیادہ ان کی روح کے کرب پر مرتکز رہتی ہے۔ اس ناول پر فلم بھی بنی ہے اور ڈراما سیریل بھی۔ فلم میں جب یہ سین آتا ہے کہ پہلے مرکزی کردار کی بیٹی کو اس کا مالک ناراض ہو کر فروخت کر دیتا ہے اور اس کا نیا مالک لا کر اسے ایک اندھیرے کمرے میں ڈال دیتا ہے۔ پھر دن ڈھلے وہ اس کے پاس آتا ہے، اور اب وہ اس سے جسمانی لذت کے حصول کا خواہاں ہے۔ یہ واقعہ ناول میں بھی ہے اور فلم میں بھی۔ فلم کے ڈائریکٹر نے بھی اس سین کو ہنرمندی سے فلمایا ہے۔ یہ پورا سین ہمارے سامنے ایک بے بس لڑکی کی ابتلا کی صورت گذرتا چلا جاتا ہے۔ مالک کی دست درازی، لڑکی کا پسپا ہوتا ہو ا احتجاج اور پھر وہ سب کچھ جس کا ایک مرد، عورت کے جسم سے متمنی ہوتا ہے۔ فلم کے ڈائریکٹر نے اس سین کو بلکہ آگے بھی جو ایسے سین آئے ہیں، انھیں نہ صرف یہ کہ احتیاط سے شوٹ کیا بلکہ اس نے اپنے فنکاروں سے جو کام لیا ہے اور سین کی ضرورت کو پورا کرنے، اسے حقیقت بنانے کے لیے جیسے تاثرات ریکارڈ کیے ہیں، وہ اس فلم کو "اوبسین” نہیں ہونے دیتے۔ مثال کے طور پر جس سین کا ابھی ذکر کیا گیا، اس میں لڑکی کو جس طرح دکھایا گیا ہے، وہ ہم پر ایک بے بس، مجبور اور بے آسرا لڑکی کا مکمل تاثر چھوڑتی ہے۔ اس کا مالک اس کے ساتھ جو سلوک کر رہا ہے، اس میں اس کی شمولیت لاچاری کے باعث ہے۔ اس کی کیفیت اور مجبوری کو دیکھتے ہوئے ہم یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ وہ وجودی طور پر تو بے شک انسان ہے لیکن اس کے ساتھ سلوک ایسا ہی کیا جا رہا ہے جیسے خریدے ہوئے جانور وں کے ساتھ ان کے مالک کیا کرتے ہیں یعنی جب چاہا باندھ کر رکھا، جب چاہا چرنے کو چھوڑدیا، جب تک جی چاہا پالتے رہے اور جب جی چاہا ذبح کر لیا۔ اس لڑکی کا کردار اور اس پر گذرتی افتاد ہمارے اندر یہی احساسات پیدا کرتے ہیں اور یہی وہ شے ہے جو اس سین کو x rated نہیں بننے دیتی بلکہ انسانی المیے کی طرف ہمیں متوجہ رکھتی ہے اور ہم اس ایک کردار کی نسبت سے انسانی تہذیب، اس کے تمدنی سفر اور اخلاقی نظام اور اقدار کے تصور ایسے سوالوں پر سوچتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارا ذہن انسانی زندگی کی حقیقت اور اس کی تقدیر پر غور کرتا ہے۔ تو اصل میں یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ وہ کوئی ادیب یا فلم کا ڈائریکٹر اور اس کا میڈیم کیا ہے، پڑھنے والا یا دیکھنے والا اس کے کام سے کیا تاثر لے رہا ہے، اہمیت حقیقتاً اس کی ہے۔ چنانچہ جو مسئلہ اپنے فن میں اس نے پیش کیا ہے، اگر واقعی اتنا بڑا ہے کہ ہم اسے خالص انسانی سطح پر رکھ دیکھ سکیں تو باقی سب باتیں ثانوی ہو جاتی ہیں اور فن پارہ فن کے معیار پر آ جاتا ہے، بصورت دیگر فحاشی کے کھاتے میں جا پڑتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ فحاشی کا تصور ہر معاشرے میں الگ ہوتا ہے اور اس کا تعین وہ ضابطہ اخلاق کرتا ہے جسے اس معاشرے کی تہذیبی اقدار مرتب کرتی ہیں۔ جب تک تہذیب in tact رہتی ہے، اس کی اقدار کا پورا نظام موثر رہتا ہے اور معاشرتی زندگی کے جملہ شعبوں اور تمام ثقافتی اوضاع میں ان کا اظہار ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کسی قوم یا تہذیب کا نظام اقدار کس اصول کے تحت تشکیل پاتا ہے؟ یہ تشکیل پاتا ہے اس کے تصور حیات کے تحت۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ روایتی یا مذہبی معاشروں کی اخلاقیات سیکولر اور ماڈرن معاشروں سے مختلف ہوتی ہے۔ دونوں میں بنیادی فرق اصل اصول کا ہوتا ہے۔ اس وقت ہماری نئی دنیا کی تمام قوموں اور تہذیبوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ دانستہ یا نادانستہ ایک ایسی معاشرت میں مدغم ہونے جا رہی ہیں جو روایتی یا مذہبی اخلاقیات سے نہ صرف عاری ہے بلکہ اس کو مسترد کرتی ہے۔ چنانچہ ہم بھی اسی ریلے میں بہے جاتے ہیں۔ ویسے تو ہمارے یہاں وہ نظام اقدار جو معاشرے کو اکائی کی صورت جوڑکر رکھتا ہے، ڈیڑھ صدی پہلے ٹوٹ گیا تھا لیکن اس کے باوجود ہم نے بہت دنوں تک، یوں کہنا چاہیے کہ صدی بھر سے اوپر کچھ برسوں تک اس نظام اقدار کو کسی نہ کسی درجے میں اپنے طرز احساس میں شامل رکھا۔ تقسیم ہند کے بعد خصوصاً یہ احساس تازہ ہوا کہ اب پھر وہی نظام اقدار اور اس کا تہذیبی ڈھانچا revive ہو گا اور یہی وہ زمانہ تھا جب ہم اس مسئلے کی طرف اپنی حساسیت کے زیر اثر منٹو اور عصمت وغیرہ پر مقدمات چلا رہے تھے۔ ظاہر ہے یہ ایک جذباتی دور بھی تھا لیکن چند ایک برس کی گرما گرمی کے بعد ایسے سارے جذبے ماند پڑنے لگے۔ گذشتہ تین دہائیاں تو خیر ایک ایسی رستا خیز سے عبارت ہیں کہ جس نے ہماری کایا کلپ کر کے رکھ دی۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا، یہ کچھ ہماری ہی افتاد نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں سارے روایتی تہذیبی معاشروں کو اس عرصے میں کچھ اسی قسم کا ماجرا پیش آیا ہے۔ خیال رہے کہ یہاں روایتی اور تہذیبی معاشروں سے مراد وہ اقوام و ملل ہیں جہاں کسی نہ کسی سطح پر کوئی اخلاقی ضابطہ اور اقدار کا کوئی نظام موثر حیثیت میں پایا جاتا ہے۔ بہرحال خلاصہ یہ کہ انسانوں کی دنیا میں آنے والے اپنی قبیل کے اس انوکھے انقلاب میں الیکڑانک میڈیا نے نہایت غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


