فحاشی اور نئی دنیا: ادب، بصری فنون اور انٹرنیٹ کے تناظر میں


Hugh Hefner poses with Playmates

دیکھا جائے تو بیسویں صدی ٹیکنا لوجی کی صدی ہے اور خصوصاً اس کی آخری تین دہائیاں تو ٹیکنالوجی کے تیز سفر سے عبارت ہے۔ تاریخ کے سیاق و سباق میں دیکھیے تو انسان کی مادی ترقی کا سب سے تیز رفتار زمانہ نظر آتا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ اسی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی تہذیب و معاشرت کے اخلاقی نظام کا ملیا میٹ جس طوفانی رفتار اور جیسے تباہ کن انداز سے اس زمانے میں ہوا ہے، اس کی بھی کوئی مثال انسانی تمدن کی تاریخ کے کسی دوسرے دور میں نہیں ملتی۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتا ر اکیسویں صدی کے اس اولین عشرے میں تو حیرت ناک ہے اور اس کے ساتھ اسی آندھی طوفان کی رفتار سے انسانی معاشرے میں اخلاقی قدریں مٹتی اور تہذیبی ضابطے ٹوٹتے جا رہے ہیں۔ اس مسئلے کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے سب سے موثر اور اہم مثال انٹر نیٹ ہے۔

انٹرنیٹ، اب تک کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ معلومات اور اطلاعات کا جتنا بڑا ذخیرہ جس آسانی کے ساتھ اس کے ذریعے آج عام آدمی کی دسترس میں ہے، وہ اس سے قبل کبھی نہیں تھا۔ ٹیکنالوجی کے حوالے سے اگر یہ کہا جائے کہ اس دنیا کی طنابیں کھینچ کر رکھ دی ہیں تو ہرگز غلط نہ ہو گا۔ آج دنیا کے ایک سرے پر بیٹھا ہوا آدمی دوسرے سرے پر ہونے والے واقعات، مسائل اور ان کے حقائق سے عین اس وقت واقف ہو سکتا ہے جب وہ رونما ہو رہے ہوں۔ آج ایک شخص دوسروں کے بارے میں وہ سب کچھ جان سکتا ہے جو وہ جاننے کی خواہش کرے۔ معلومات کا عالم یہ ہے کہ وہ اب کسی ایک دو زاویے سے نہیں، بیک وقت چھ چھ زاویوں سے دستیاب ہیں۔ افراد سے لے کر اقوام تک، جسم سے لے کر ذہن تک اور تفریح سے لے کر تفکر تک کون سا ایسا موضوع ہے جس پر آپ کو کام کرنا ہو، معلومات درکار ہوں اور اس کے بارے میں ٹیکنالوجی سکوت اختیار کرلے۔ نہیں، کوئی چیز ایسی نہیں ہے۔ سو اگر یوں دیکھا جائے تو مغرب جب انفارمیشن ٹیکنالوجی کو نئی دنیا کی سب سے بڑی نعمت کہتا ہے تو کیا غلط کہتا ہے۔ لیکن اس سہولت یا نعمت کا ایک رخ ہے اور وہ جو اکبر الہٰ آبادی نے کہا تھا کہ

ہم تو سمجھے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم

یہ نہ معلوم تھا آ جائے گا الحاد بھی ساتھ

تو کچھ ایسا ہی معاملہ اس ٹیکنالوجی کا بھی ہے۔ اچھی چیزوں کے ساتھ ساتھ اس میں برائی کے بھی سات سمندر اکٹھے ٹھاٹھیں مارتے ہیں۔

عریانی یا فحاشی انٹرنیٹ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ٹیکنالوجی کی سہولتوں کے ساتھ 1970 کی دہائی کے اوائل میں اس مسئلے کی نشان دہی ہوئی تھی جب پہلے ایسے رسائل و کتب سامنے آئے جن میں رنگین عریاں تصاویر شامل ہوتی تھیں پھر ویڈیو کیسٹ میں برہنہ فلمیں آنے لگیں۔ تاہم آغاز میں ان سب اشیا تک پہلے عام آدمی کی رسائی آسانی سے ممکن نہ تھی۔ اب اس قسم کے مواد کی نہ صرف بہتات ہے بلکہ وہ اس قدر سہل الحصول ہو گیا ہے کہ معمولی سے معمولی مالی حیثیت کا آدمی بھی ان میں سے جو کچھ چاہے ، حاصل کر سکتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ طلبا اپنے محدود تر جیب خرچ سے بھی اس خواہش کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب یہ کر سکنے کا سوال نہیں رہا بلکہ کر رہے ہیں۔ دو اہم سروے رپورٹس ہمیں بتاتی ہیں کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کیفے میں جا کر بیٹھنے والے افراد میں اٹھتر فی صد سے زائد تعداد مختلف درجے کے طلبہ کی ہوتی ہے اور اسکیننگ کرنے والے نیٹ کیفے یہ رپورٹ کرتے ہیں کہ وہاں surf کی جانے والی sites میں سے تراسی فی صد سے زائد کسی نہ کسی درجے کی porn sites ہوتی ہیں۔ ان محتاط اعداد و شمار کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ ہمارے یہاں انٹرنیٹ نعمت کے طور پر آیا ہے یا عذاب کی صورت؟

انٹرنیٹ پر فحاشی اس وقت سب سے سنگین مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ صر ف ہمارے لیے نہیں بلکہ ان تمام اقوام اور معاشروں کے لیے ہے جو انسانیت کے تمدنی سفر، تہذیبی اقدار اور اخلاقی ضابطوں پر یقین رکھتے ہیں اور انسانیت کی بقا اور صحت مند انسانی زندگی کے لیے انھیں ضروری گردانتے ہیں۔ دنیا بھر کے بڑے اخبارات، ٹیبولائڈ، رسالے اور میگزین اس موضوع پر اداریے، کالم، مضامین اور سروے رپورٹس شائع کر رہے ہیں جن میں بار بار تباہی کے اس خطرے کی نشان دہی کی جاتی ہے جو انٹرنیٹ کی پورنوگرافی اپنے ساتھ لائی ہے اور جسے وہ مسلسل پھیلاتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ اہل نظر اور اہل فکر کے یہاں انسانیت اور اس کی اقدار کے تحفظ کے لیے خطرے کا یہ احساس آج یک بیک اس قدر کیوں بڑھ گیا ہے ؟ بات اصل میں یہ ہے کہ انٹرنیٹ نے (جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا) فحاشی کے فروغ اور ترویج میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ یہ مواد بے شک نیا نہیں ہے، بہت پہلے سے انسانی معاشروں میں پایا جاتا ہے لیکن اب اس کا پیداواری تناسب اگلے وقتوں کے مقابلے میں سو دو سو یا چار سو فی صد نہیں ، کئی ہزار فی صد زیادہ ہے۔ اور پھر یہ کہ اب سب کچھ جس آسانی سے اور جتنے کم داموں میں دستیاب ہے، پہلے اس کا تصور بھی محال تھا۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ باقاعدہ ایک پورنو انڈسٹری ہے جو mass production کے فارمولے کے تحت کام کرتی ہے اور اپنی پروڈکٹ ایسی پرکشش (یعنی بے حد معمولی) قیمت میں اس آدمی تک بھی پہنچانے کے لیے کوشاں ہے جو کسی بھی وجہ سے اس سے دلچسپی نہیں رکھتا۔ ٹائمز میگزین ایسے رسائل کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ پورنوانڈسٹری آئے دن اپنے مواد کو کسی نہ کسی عنوان پر کشش، دلچسپ، غو ر طلب، دل کو گرمانے والا، سنسنی خیز، تحریک بخش، ولولہ انگیز وغیر ہ وغیرہ قسم کے ناموں سے پھیلانے کی ہر ممکن کوشش کرتی رہتی ہے۔ اب سے پہلے تمام معاشروں میں کسی نہ کسی سطح پر فحاشی کے بارے میں غلاظت کا تصور پایا جاتا تھا، لیکن اب ایک طرف تو اسے "آرٹ” کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور دوسری طرف سے انسانی زندگی کی آزادی، خود مختاری اور مسرت کے تصورات سے اس طور وابستہ کیا گیا ہے کہ اس سے کراہت کا احساس منہا ہو جائے اور اس کی بجائے فحاشی کو انسان کے اظہار کے فطری جذبوں اور حصول مسرت کے ناقابل رو تقاضوں میں شمار کیا جائے۔ اس سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے کہ جنسی احتیاج انسان کے فطری مطالبوں میں شامل ہے لیکن اس کو یوں جنس بازار بنانے اور اس کا تماشا دکھانے کا کوئی تقاضا نارمل اور صحت مند انسانی فطرت ہرگز نہیں کر سکتی۔ اس لیے کہ جنسی ضرورت ایسا جبلی تقاضا ہے جس کی طرف تہذیب انسانی inhibition کا رویہ اختیار کرتی ہے۔ مہذب انسان کے یہاں اس ضرورت کی تکمیل کا لطف پردہ دری میں نہیں بلکہ اس کے اخفا اور پردہ پوشی میں ہوتا ہے۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7