عصمت آپا


عجیب زمانہ تھا وہ بھی۔ زندگی اپنی پوری ہماہمی کے ساتھ رواں دواں تھی۔ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ عصمت آپا سے میری پہلی ملاقات اور دوسری ملاقات میں لگ بھگ آٹھ برسوں کا فاصلہ ہے۔ ان سے میری دوسری ملاقات کی تاریخ اٹھارہ مئی 1984ءہے۔ بمبئی کے تاج ہوٹل میں پنجاب ایسوسی ایشن کی جانب سے استقبالیہ ڈنر ہے۔ میں اسی شام کراچی سے بمبئی پہنچی ہوں اور سیدھی تاج ہوٹل آئی ہوں۔ اس ڈنر کے بعد پنجاب ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام انڈ و پاک مشاعرہ جو شاید تاج ہوٹل ہی کے ایک آڈیٹوریم میں تھا اور میں اس مشاعرے میں پاکستان کی نمائندگی کررہی تھی۔ اسوقت تک میرے نزدیک کراچی کا ہوٹل جبیس سب سے بڑا ہوٹل تھا۔ اس لئے میں نے تاج پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ سردار جعفری صاحب ادیبوں اور شاعروں سے میرا تعارف کرا رہے تھے۔ اچانک ایک چہرہ میرے سامنے آیا۔

وہی چہرہ جسے میں نے بارہا ادبی رسالوں کے سرورق اور اخبار میں دیکھا تھا لیکن سچ مچ اتنے قریب سے ایک بار ہی دیکھا تھا۔ ایک لمحے کو میری آنکھوں کے سامنے بروکیڈ کے لال پیلے دھبے سے لہرا گئے۔ سردار جعفری صاحب نے ان سے میرے بارے میں کیا کہا نہیں معلوم۔۔ وہ آنکھیں مجھے دیکھ کر سکڑ گئیں۔۔ پھر مسکرا کر پھیل گئیں ساتھ ہونٹوں کے زاویوں میں ایک لطیف سا خم پیدا ہوا۔ اور بولیں "بھئی سلطانہ کہہ رہی ہیں تم نے آتے آتے فساد کروا دیا ہمارے یہاں”۔۔ اور ٹھٹھا مار کر یوں ہنسیں کہ بانہیں پرندے کی طرح پھیل گئیں اور میں اس میں سما گئی معہ اس گلاس کے جو ان کے داہنے ہاتھ میں لبالب بھرا ہوا تھااور ایک بوند نہیں چھلکی تھی۔ "بھئی سردار نے تمہاری شاعری کی تعریف کی ہے۔۔ ابھی مشاعرے میں پتہ چلے گا!”۔۔ پتہ نہیں یہ چیلنج تھا یا کیا مگر ان آنکھوں میں جون چھہتر والی احمق لڑکی سے شناسائی کا نشان تک نہ تھا۔۔ خداکا شکر ہے ان کا حافظہ آٹھ سال میں کافی کمزور ہوگیا ہے۔ میں نے سکون کا سانس لیا۔

 میں مشاعرہ گاہ سے سیدھی عصمت آپا کے ساتھ ان کے گھر چلی گئی۔ میرے قیام کا انتظام وہیں پر تھا۔ جن دنوں میں عصمت آپا کے گھر ٹھہری ہوئی تھی بمبئی کے گلی کوچوں میں سناٹا تھا۔ جگہ جگہ کرفیو لگا ہوا تھا عصمت آپا سارا وقت پڑھنے لکھنے میں لگی رہتی تھیں پہلی صبح ناشتے کے بعد اپنے کمرے میں مجھے بلالیا اور پاکستانی شاعرات کے بارے میں گفتگو چھیڑ دی میں نے تو ڈر کے مارے انہیں اس جون چھہتر والے قصّے کی ہوا تک نہ لگنے دی۔۔ کیا خبران کی یاد داشت کام کرجائے اور اس کرفیو میں مجھے منہ کے بل سڑک پر دھکا دے دیںآخر انہی کے پر دادا یا سگڑ دادا تو تھے جنہوں نے کھوپڑیوں کے مینار بنا ڈالے تھے۔ میں نے موضوع بدلتے ہوئے پوچھا کہ عصمت آپا آپ یہ کہانیاں بھلا کہاں سے لاتی ہیں۔۔ بولیں ” یہیں اپنے ارد گرد سے۔ بھئی کہانیا ں تو ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ میں کہانیوں کے لئے دور نہیں گئی نہ میں نے جھوٹی کہانیاں لکھیں۔ تم سلطانہ سے ملی ہو۔ سردار کی بیگم ہیں نا؟ ان کی چھوٹی بہن جو کرتار سنگھ دگل کو بیاہی ہے ڈاکٹر عائشہ منہاج تھیں ان دنوں اور میڈیکل کی طالبہ، بڑا پڑھا لکھا خاندان تھا۔ باپ ان کے منہاج صاحب انگریزوں کے زمانے میں پنجاب کے نہری نظام کے چیف انجینئر تھے اور چھیوں لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ مگر فساد میں اغوا ہوجانے والی بیٹی گھر واپس آئی تو اس پر گھر کے دروازے بند تھے۔ تو میں نے اس مظلوم لڑکی کے درد کو لکھا ہے بس ذرا سے سیاق و سباق کی تبدیلی کے ساتھ۔۔۔ اس وقت منہاج فیملی نے بہت برا منایا تھا۔ "

 عصمت آپا نے تقسیم کے پس منظر میں اغوا ہونے والی لڑکی کی کہانی جس پر اثر انداز میں مجھے سنائی تھی کہ معلوم ہوتا تھا فلم چل رہی ہے۔ انہوں نے مجھے اصل کہانی سنائی تھی، سیاق و سباق کی تبدیلی کے ساتھ نہیں،پورے ایکشن کے ساتھ۔ میں نے اب تک ان کی وہ کہانی نہیں پڑھی ہے لیکن سلطانہ آپا (بیگم سردار جعفری )نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی۔ اسی لئے جون چوراسی میں جب بمبئی کے حالات کچھ بہتر ہوئے اور دلی سے ہندوستان ٹائمز کے مشاعرے کے لئے مجھے دعوت نامہ ملا تو میں نے ہوٹل کے بجائے عائشہ منہاج اور کرتار سنگھ دّگل صاحب کے یہاں ٹھہرنے کو ترجیح دی۔ شاید مجھے عصمت چغتائی کی کہانیوں کے جیتے جاگتے کرداروں کو اصل زندگی میں دیکھنے کی آرزو وہاں کھینچ کر لے گئی تھی۔

پہلے ہی دن کی بات ہے ناشتے کی میز پر عصمت آپا نے فرمائش کی کہ بھئی ناشتے سے فارغ ہوکر ہم تمہاری نظمیں سنیں گے۔ غزل وزل تو خیر ٹھیک ہے نظم سناﺅ نظم۔ "اندھا کیا چاہے دو آنکھیں” میں نے بھی اگلا پچھلا حساب چکانے کی ٹھان لی تھی۔ موقع محل دیکھ کے کئی نظمیں داغ دیں۔ اب وہ بھی ترنگ میں آگئیں بولیں "آج تو نہیں کل تمہیں ایک نیا ناول لکھ رہی ہوں وہ سناﺅں گی”

اس دن زیادہ تر فون کی گھنٹی بجتی رہی۔ ملازم نے کہا آج سب طرف کرفیو ہے۔ حالات بہت خراب ہیں۔ سلطانہ آپا کا فون آیا۔ میرا حال پوچھا۔ عصمت آپا نے کہا "اپنی نظمیں سنا رہی ہے پھر میری کہانیاں سنے گی "۔ جواب آیا "لو۔۔ و۔ گئی کام سے ! "یہ بولیں "لو بھئی ایک تو میں فسادوں میں پھنسی ہوئی لڑکی کا جی بہلا رہی ہوں اوپر سے تم۔ سلطانہ تمہاری لڑکی آرام سے ہے خدا حافظ۔۔” اور فون بند۔ مجھے ایک دم ان کا تاج ہوٹل والا جملہ یاد آگیا کہ” بھئی آتے آتے ہمارے یہاں فساد کروادیا نا!”۔۔۔ اور یہ تو مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ ٹھیک اس وقت جب اس ناچیز نے کراچی سے اڑان بھر کر بمبئی ایر پورٹ پر قدم رنجہ فرمایا تھا۔ بمبئی کے مضافات میں پہلی چنگاری بھڑکی جو دیکھتے ہی دیکھتے شعلوں میں بدل گئی تھی۔ اگر میری یاد داشت غلط نہیں ہے تو وہ اٹھارہ مئی چوراسی کا دن تھا اور عصمت آپا نے مجھ سے تاج ہوٹل میں پہلا جملہ جو کہا تھا وہ مذاق ہوتے ہوئے بھی مذاق نہیں تھا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4