عصمت آپا
بیٹی حمام کی آرائش میں غرق اور اماں کہانیوں میں اور میرا یہ حال کہ عصمت آپا ناول سنا رہی ہیں اور میرا دھیان حمام میں ہے۔ اس سے ہٹتا تو اس پلاسٹر آف پیرس کے ڈیکوریشن پیس پر چلا جاتا جو ایک انسانی ہاتھ کا نہایت خوبصورت اسکلپچر تھا۔ دن کو وہ ہاتھ ایک ڈیکوریشن پیس ہوتا تھا اور رات کو جب نیند ابھی کچی ہوتی وہ ہاتھ نمودار ہوتا اور اڑتے ہوئے پردے کی روشنی میں لمبا ہوتا چلا جاتا۔ میں ہڑبڑا کر بیٹھ جاتی۔ گھر میں میرے اور عصمت آپا کے سوا کوئی اور ذی روح اس وقت ہوتا نہ تھا۔ ملازم بھی گھر کے باہر ی حصے میں سوتا تھا۔ مجھے بچپن کے نستور والی کہانی یاد آئی۔ ایک بار مجھے لگا کہ وہ ہاتھ چنگیز خان کا ہے جو مجھ پر ہنس رہا ہے۔ میں نے کہا دور ہو کم بخت تونے انسانیت کا خون کیا ہے، ہاتھ مسکرایا اور گویا ہوا۔ تاریخ تو جھوٹ اور سچ دونوں سے بھری پڑی ہے۔ اگر سچ جاننا ہے تو خود تاریخ کو کھنگالو اپنا سچ خود تلاش کرو۔۔ دوسروں کے پڑھائے ہوئے سبق پر تکیہ کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔
ادھر عصمت آپا اپنا نیا ناول مکمل کر رہی تھیں اور بڑے جوش میں تھیں۔ انہوں نے جتنے باب مئی چوراسی تک لکھے تھے سب اپنے کمرے میں مجھے بٹھاکر سنا ڈالے۔ لیکن قسم لے لیجئے جو میں نے ایک حرف بھی سن کے دیا ہو۔۔ رات بھر کا چلہ کاٹ کر بیٹھی ہوتی تھی۔ دماغ خالی، دل حمام کے مسائل سے دو چار۔ دن کو ان کی صاحبزادی کا خوف اور رات کونواسے کے آراستہ کمرے میں رکھے ہاتھ کا دھڑکا۔ ایک باراس ہاتھ پر دوپٹہ ڈال دیا مگر جارجٹ کا دوپٹہ مزید شوخیاں کرنے لگا۔ اور مجھے لتا کا گانا یاد آیا۔۔ پھرر پھرر لہرائے مرا لال دوپٹہ۔۔ میں نے دوپٹہ واپس اپنی آنکھوں پر لپیٹ لیا۔ اب سوچتی ہوں کہ کاش ان کے کمرے ہی میں زمین پر ڈیرہ ڈال دیتی۔۔
ان سے میری تیسری اور آخری ملاقات پھر کراچی میں ہوتی ہے۔ جون 1976 سے مارچ 1985ء تک نو سال کا عرصہ، گل رعنا کلب سے آرٹس کونسل آف پاکستان تک کا فاصلہ۔۔ ایک طویل سفر۔ جس میں میں نے بہت کچھ کھویا، بہت کچھ پایا۔ لیکن عصمت چغتائی کے وہ پہلے صدارتی کلمات، الفاظ کے وہ نشتر جنہوں نے میرے لئے جراحی کا کام کیا۔ وہ نشتر نہ لگے ہوتے تو شاید میرے اندر کی خلاق لڑکی کو نئی زندگی نہ ملتی۔
خود "دوزخی” جیسے خاکے کی مصنفہ نے قلم کے اس سفر میں کم دکھ تو نہ سہا ہوگا۔ کم چرکے تو نہ لگے ہوں گے اس دل پر۔ شاید کسی نے ان سے یہ پوچھنے کی ہمت نہیں کی ہوگی کہ کراچی میں بھتیجی کے گھر ٹھہرتے ہوئے انہیں کیسا لگا۔ ہماری ساری ہمدردیاں تو عظیم بیگ چغتائی کے ساتھ تھیں۔ تبھی تو جب ہم ان کے گھر کلفٹن میں چائے پی رہے تھے تو دبی زبان میں عظیم بیگ چغتائی کی بیٹی سے پوچھا تھا۔
آپ نے کبھی "دوزخی "پڑھی؟۔
اورانہوں نے آہستہ سے کہا تھا "نہیں پڑھی۔۔ میں پڑھ نہیں سکتی۔۔ مجھے اب بھی ڈر لگتا ہے ” !!
سچ اتنا ڈراؤنا ہوتا ہے یا دوسرے اسے ڈراﺅنا بناکر پیش کرتے ہیں۔ تاکہ وہ متعلقہ افراد جن کارشتہ کسی نہ کسی طور اس سچ سے ہے ان کا یقین اٹھ جائے۔
میں نے "دوزخی "پڑھی.۔ وہ تو ایسی تحریر ہے کہ جس پر ہزار جنتّی نثار کئے جا سکتے ہیں۔ کاش میں عصمت چغتائی سے بھی پوچھ سکتی کہ دوزخی لکھ کر ان پر کیا گزری ؟ کچھ تو گزری ہوگی لیکن یہ پوچھنے کا وقت گزرچکا تھا شاید۔ اور جو کچھ سامنے تھا یا ہم دیکھ رہے تھے وہ یہ کہ انہی عظیم بیگ چغتائی کے بچوں نے عصمت چغتائی کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔ ان کے مہمانوں کے لئے بچھ جاتے تھے۔ اور عصمت آپا کراچی انہی بچوں سے ملنے آتی تھیں۔ لوگ اسے چغتائی خاندان کی اعلیٰ ظرفی کہیں گے مگر میرے نزدیک یہ اس خاندان کی علم دوستی بھی ہے جس نے قلم کو ذاتیات تک نہیں پہنچنے دیا۔ یہ اصول پسندی اورقلم کا ایسا احترام بھلا اور کہاں ہوگا۔ !
مجھ سے ان کی تیسری اور آخری ملاقات کا زمانہ مارچ 1985ء ہے۔ آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی میں میرے پہلے مجموعہ کلام کی تقریب اجراء ہے۔ اور صدارت ہے عصمت چغتائی کی۔ اس تقریب میں "کنج پیلے پھولوں کا "جس کے بیک کور پر عصمت چغتائی کی رائے ہے خاص طور پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ شاید یہ نسائی شاعری کے حوالے سے ان کی آخری تحریر بھی تھی۔ فرماتی ہیں۔
"صد آفریں، عشرت آفریں۔ میرے خوابوں کی تعبیر، میری زندگی ہی میں تم پیدا ہوگئیں۔ جسم سے نہ سہی دل و دماغ سے تو تم سے کچھ رشتہ ہے نا کہ تمہارے شعروں میں بھی تو ویسی ہی کہانیاں ہیں، ان ہی انسانوں کی جنہیں میں نے بھی دیکھ کر خون تھوکا تھا۔ یہ پہلی کتاب تمہارا پہلا قدم زمیں پر جما ہے مگر اسے منزل نہ سمجھ لینا۔ یہ تو بس پہلا حرف "الف” ہے ابھی تو بس یہی سمجھنا کہ پالنے سے پیر نکالا ہے۔ اعتراض! جسے ذہن قبول کرے اس پر غور کرنا۔ تعریف ایک کان سننا دوسرے کان اڑا دینا۔ جس دن تمہیں اپنی عظمت کا یقین ہوجائے گا تمہارا جیتا جاگتا ہمکتا فن بوڑھا ہوجائے گا۔ مڑ کر نہ دیکھنا نہیں تو پتھر کی بن جاﺅگی”
عصمت چغتائی۔
23 مارچ 1985ء
کراچی، پاکستان
(سوچتی ہوں مجھے مڑ کر دیکھنا بھی چاہئے تھا یا نہیں۔۔۔ ؟ انہوں نے تو کہا تھا "مڑ کر نہ دیکھنا نہیں پتھر کی بن جاﺅ گی”)



