عصمت آپا

پہلے دن جو بات ان کے فلیٹ میں داخل ہونے سے پہلے میں نے نوٹ کی تھی وہ دروازے پر نام کی تختی تھی، جلی حروف میں کچھ سنہری سی پلیٹ پر(غالباً اردو میں) شاہد لطیف لکھا ہوا تھا۔ مجھے بہت اچھا لگا۔ شاہد لطیف صاحب وہاں نہ ہوتے ہوئے بھی وہاں موجود تھے۔ یہ واحد گھر تھا جہاں میں نے جانے والے کے نام کی تختی جوں کی توں لگی دیکھی۔ عصمت چغتائی نامور ادیبہ ہونے کے علاوہ آزادیِ نسواں کی بھی بہت بڑی علمبردار تھیں لیکن شاہد لطیف کی موت کے بعد بھی دروازے پر ان کے نام کی تختی عصمت چغتائی کی نسائیت اور ان کی اٹوٹ محبت کا اعلان کر رہی تھی۔ ان کی روح رشتوں کے تانے بانے میں گندھی ہوئی تھی۔
انہوں نے بڑے پیار سے اپنے اکلوتے نواسے کا ذکر کیا اور یہ بھی جتا دیا کہ کسی مہمان کو اس کے کمرے میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ "ابھی دس بارہ سال کا ہے۔ بہت نک چڑھا ہے۔ آجکل پونا گیا ہوا ہے۔ اسکول کی طرف سے ٹور پر تو تم اس کے کمرے میں عیش کرو۔ بس اتنا خیال رکھنا کہ اس کی کوئی چیز اپنی جگہ سے ہلنے نہ پائے۔۔ ” میں نے انتہائی سعادت مندی سے کھوپڑی ہلا دی۔۔ بھلا مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ اقرار آگے چل کر مہنگا پڑے گا۔ ان کی بڑی بیٹی سیما کسی آﺅٹ ڈور شوٹنگ کے سلسلے میں شہر سے باہر گئی ہوئی تھیں۔ غالباً فلم یا ایڈورٹائزنگ کے شعبے سے ان کا تعلق تھا اور اپنی کمپنی چلا رہی تھیں۔ شوہر سے علیحدگی ہو چکی تھی اور عصمت آپا کے ساتھ ہی رہ رہی تھیں۔ مجھے بعد میں ان کی زیارت نصیب ہوئی۔
ہوا یہ کہ ایک دن ایک خاتون (ناک نقشہ کچھ یاد نہیں، اچھا ہی رہا ہوگا) ہوا کے گھوڑے پر سوار گھر میں داخل ہوئیں، معلوم ہوا کہ آندھی آگئی۔ پہلے تو باتھ روم کی صفائی پر پل پڑیں۔ اور کام والی مراٹھی عورت کی شامت آئی۔ میں کمرے سے باہر آئی مگران کی رفتار اتنی تیز تھی کہ ہماری آنکھ بھی چار نہ ہوسکی۔ خیر اچھا ہی ہوا۔ پھرعصمت آپا کے کمرے میں تشریف لے گئیں اور نہ جانے کیا فرمان جاری کیا میں نے نہیں سنا ہاں دیکھا ضرور کہ عصمت چغتائی نے عینک درست کی اور لاپروائی سے صاحبزادی کو دیکھا اور منڈی ہلاکر اطمینان سے کاغذوں میں گم ہو گئیں۔
موصوفہ ڈرائنگ روم میں پہنچیں جہاں ان کے تین چار کولیگز بیٹھے کاغذات پھیلائے کوئی دفتری میٹنگ کررہے تھے۔ ان میں سے ایک کی صورت تو مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ ویسے بھی سانولا رنگ ہمیشہ سے میری کمزوری رہا ہے۔ وہ لڑکا گہری سانولی رنگت کا بڑی بڑی آنکھوں والا۔ عجیب جادو تھا اس کی آنکھوں میں۔ ایک لمحے کو میں نے اسے دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئی۔
ملازم نے کھانا لگا دیا تھا۔ لہٰذا ن سب نے کھانا کھایا اور یہ جا وہ جا۔ میں کراچی والی تھی۔ تیز رفتاری میری گھٹی میں پڑی تھی۔ مگر بمبئی جاکر پتہ چلا کہ رفتارکہتے کسے ہیں۔ موصوفہ چلی گئیں۔ کھانا دوبارہ سج گیا۔ اور اس ڈائیننگ ٹیبل پر جھلملاتا ہوا نقشین مراد آبادی کٹورہ۔ جیسے نئی تہذیب پر ہنستی ہوئی پرانی قدریں۔ (یہ کٹورا عصمت آپا کے ساتھ چلتا تھا) عصمت آپا نے ہنس کر کہا” ارے بھئی تم نے میری بیٹی کو دیکھا۔ بالکل میرا مزاج پایا ہے۔۔ ان سب پر اس کا حکم چلتا ہے۔ مجال ہے جو کوئی چوں کرے۔ گردن مار دے گی”۔ پھر بولیں "کیسے خوبصورت خوبصورت لڑکے ہیں اس کی ٹیم میں۔ ساﺅتھ انڈین ہووے ہیں بڑے حسین، دیکھا تم نے اس ( لمڈے )لونڈے کی کیا کٹارا سی آنکھیں ہیں۔۔۔ کیسی خوش قسمت ہیں یہ لڑکیاں۔۔۔ نہ ملے ہمارے وقت میں کمبخت۔۔۔ !” اور ہنسی فوارے کی طرح ان کے ہونٹوں سے برس پڑی۔ میں حیران ان کی صورت دیکھ رہی تھی۔ ہائیں؟ یہ ایک ماں ہے !۔۔ ہندوستانی ماں ؟۔۔۔ نہیں یہ عصمت چغتائی ہے۔۔۔ اردو کی سب سے بڑی کہانی کار جس نے زندگی کو جیسا دیکھا ویسا ہی سچ سچ لکھ دیا۔ جس کے یہاں جھوٹ اور ریا کا دخل ہی نہیں ہے۔ زندگی اپنی پوری سچائی کے ساتھ عریاں ہوکر معصوم بچے کی طرح اس کی گود میں آ گرتی ہے۔
ویسے ان کٹارہ سی آنکھوں میں جادو تو تھا کہ میں آج تک اسے بھولی نہیں ہوں۔ ہوا یہ کہ میں ریفریج ریٹر سے کچھ نکالنے کے لئے لپکی، وہ میز سے کچھ اٹھانے کو اسی وقت آیا، میں اتنی تیزی میں تھی کہ اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی اور ایک لمحے کو یہ ہوا کہ میں پلک تک جھپکنا بھول گئی۔ وہ کوئی عشق نہیں تھا۔ حسن کی ہیبت تھی۔ پھرمجھے کیا جھجھک تھی کہ میں نے عصمت آپا سے اپنی اس حیرت کا ذکر نہیں کیا۔ اس لئے کہ ایسی باتوں کے بے ساختہ اظہار کے لئے دل جگرچاہیے۔ یہ تو عصمت آپا کے ذکر کے طفیل بات نکلی ورنہ۔۔
عصمت آپا کا گھر بمبئی میں جتنے گھر کم از کم میں نے دیکھے ان میں سب سے زیادہ شاندار اور ماڈرن طرز کا تھا۔ اگر آج کے فائیو اسٹار ہوٹل سے اس کا موازنہ کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ باتھ روم اس قدر چمک دار اور آراستہ کہ لیٹ جانے کو جی چاہے۔ سیاہ ماربل کا فرش اور واش بیسن کمبخت ایک ظالم شے تھی۔۔ اس پر وہ چغتائی آنکھ جس میں محدب عدسہ لگا ہوا تھا۔ میں ٹہری ازل کی لا پروا۔ اول تو اس قسم کے ڈسپلن کی عادی ہی نہیں تھی۔ اس کام کے لئے ماسیاں تھیں۔ پھر ہم اپنے ننھے سے دماغ پر بھلا بوجھ کیوں ڈالتے۔ اور جو کچھ ایسا ضروری ہوتا صفائی ستھرائی کرنا تو چھوٹی بہنیں موجود تھیں، پھر ایسا فائیو اسٹار باتھ روم ہماری تربیت کا حصہ نہ تھا۔ اس پر سے واحد کموڈ۔۔ وہ بھی انگلش۔۔ خدا کی پناہ۔۔ یہاں میں اپنی مصیبت میں مبتلا تھی وہاں ان کی صاحبزادی کو کہیں بال تو کہیں پانی کے چھینٹے اور صابن کے داغ شے شے پر نظر آجاتے۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


