ایک طوائف، ایک شرمیلا دولہا اور ایک ڈرائیور


مومن شاہ قبرستان کے سامنے کھڑے مستقیم اور نجیب، بھولا مسیح کا انتظار کر رہے تھے۔ نجیب کا خیال تھا، کہ عورت ہو اور شراب نہ ہو، سواد ادھورا رہ جاتا ہے۔ بھولا مسیح سائکل سے اُترا اور نیفے سے شاپنگ بیگ میں لپٹی بوتل نکال کے تھما دی۔
”پندرہ سو رُپے“۔
”لیکن قیصر نے کہا تھا، ایک ہزار دینے ہیں“؟!
”پولِس نے سختی کی ہے، راستے میں چیکنگ بہت ہوتی ہے۔ کچھ بچتا نہیں ہمیں۔ “ بھولے نے ہشیاری سے کہا۔

مستقیم نے پلاسٹک کی بوتل دیکھ کے احتجاج کیا۔
”ارے یہ کیا؟ شیشے کی بوتل نہیں ہے؟ “
”یہ کوئٹہ (بروری) کی ہے۔ پلاسٹک میں آتی ہے۔ “
نجیب نے کہا، ”چل ٹھیک ہے، پیسے دے۔ یہ بھی چلے گی۔ “

وہاں سے چند قدم پر کار کھڑی تھی، جس میں ڈرائیور بشیر بیٹھا اِن کا انتظار کررہا تھا۔
”چلیں ساب؟ “
اِن کے بیٹھتے ہی، اُس نے تائید چاہی۔ کار اِنھیں لے کر منزل کی طرف رواں ہو گئی۔ راستے میں بشیر نے وہی قصہ چھِیڑ دیا، جو نجیب پہلے بھی اُس کے منہ سے سن چکا تھا۔

”ساب، وہ آپ کو بتایا تھا، ناں! میری بہن کی شادی ہے۔ “
”ہاں ہاں! مجھے یاد ہے۔ اِس بار تیرا کچھ کروں گا۔ یاد ہے، مجھے۔ “ نجیب نے جان چھڑانا چاہی۔
”کیا قصہ ہے؟ “

مستقیم نے پوچھا، تو نجیب نے کم سے کم لفظوں میں بتایا، بشیر کی بہن کی شادی ہے۔ اسے جہیز کے لیے کچھ رقم چاہیے۔ کچھ دیر بعد وہ باری اسٹوڈیو سے آگے کچی پکی آبادی میں آ گئے، جہاں دس مرلے کے ڈبل اسٹوری مکان میں گیسٹ ہاوس تھا۔ دیہات سے آئے دو بھائیوں نے پہلے پہل نہر کنارے بنے گیسٹ ہاوس میں ملازمت کی۔ عارضی مہمان اور اُن کے لیے بلائی جانے والی رنڈیوں کا تماشا دیکھا، تو خیال آیا ماس کی کمائی کھانی ہے، تو کیوں نہ اپنا گیسٹ ہاوس بنا لیا جائے۔ گیسٹ ہاوس کے مہمانوں سے سلام دُعا تو ہو ہی گئی تھی، وہاں لائی جانے والی لڑکیاں اور اُن کے دلال بھی واقف بن گئے تھے۔ اپنا گیسٹ ہاوس بنا کے دھندا شروع کردیا۔ نجیب ان بھائیوں کو جانتا تھا، کیوں کہ نہر کنارے بنے گیسٹ ہاوس میں کئی بار جا چکا تھا۔ نجیب لاہور آتا تھا، تو وہ گیسٹ ہاوس کی کار اور ڈرائیور اس کے ساتھ کر دیتے۔

مستقیم کی یہ پہلی باری تھی۔ وہ ڈر رہا تھا کہ اِس مکان پر کہیں چھاپا نہ پڑ جائے۔ نجیب نے حوصلہ دیا،
”ایسے کام پولِس کو منتھلی دے کے ہوتے ہیں، کوئی نہیں آنے والا۔ چسکی لے اور انتظار کر۔ “

مستقیم نے یہی کِیا، چسکیاں بھرتے انتظار کرنے لگا۔ کچھ دیر میں دلال کے ہم راہ چار لڑکیاں کمرے میں چلی آئیں۔ اُن کے چہروں پر بے باک مسکراہٹ تھی۔ مستقیم نے چہرہ ہی دیکھا، کیوں کہ وہ ڈھیلے ڈھالے برقعوں میں تھیں؛ نقاب اُلٹ رکھے تھے۔ نجیب نے کہا۔
”اِن میں سے پسند کر، کون سی رکھنی ہے“؟

اتنی بے حیا دعوت کا سن کے مستقیم کے کان لال ہو گئے؛ جب کہ تیسرے پیگ نے بھی وہ لالی نہ دکھائی تھی۔ چاروں ایک سی تھیں، کسی ایک کو چن کے باقی تین کا دل توڑ دینے کا خیال مستقیم کو پریشان کرنے لگا۔ جب وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ پایا تو نجیب نے اپنے ہاتھ سے ایک لڑکی کے سینے کو ٹٹولتے ہوئے پوچھا۔
”اِس کے کتنے ہیں؟ “

چھاتی ٹٹولنے پر وہ لڑکی ہنسی، جیسے گدگدی ہوئی ہو۔ مستقیم کو یہ عمل کراہیت انگیز لگا۔
”بندے کتنے ہیں؟ دو ہی؟ دس ہزار نائٹ کے۔ “
دلال سیانا تھا تو نجیب بھی پرانا پاپی تھا۔
”پانچ ہزار دے سکتے ہیں، نہیں تو یہ لو تین سو پکڑو، رکشے کے کرائے کے۔ “

سودا آٹھ ہزار میں طے پا گیا۔ جاتے ہوئے دلال پانسو الگ سے لے گیا۔ مستقیم نے عورت تو دیکھی تھی، لیکن ایسی عورت پہلے نہیں دیکھی، جو ٹکوں کے عوض اپنے کپڑے اُتار کے سامنے بیٹھی ہو۔ نجیب بھی مادر زاد برہنہ ہو گیا، پر مستقیم سے یہ نہیں ہو پارہا تھا۔ اُس نے ایک اور پیگ چڑھایا کہ شرم جاتی رہے، پر جا کے نہ دی۔

نجیب نے اُس کے بھرے سینے پر چٹکی نوچی تو وہ مچل اُٹھی۔
”نہ کر ناں، درد ہوتا ہے۔ “
”چل گشتی۔ “
نجیب کا اتنا کہنا تھا، کہ مستقیم نے منہ پھیر لیا۔ وہ گشتی کے تاثرات نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔

”پہلے کون آرہا ہے؟ آو! جس نے آنا ہے۔ “
شراب نے مستقیم کا منہ ایسا کڑوا نہ کیا تھا، جیسا یہ باتیں سن کے ہو رہا تھا۔
”ابے؟ شرما رہا ہے تو؟ اتنا تو یہ گشتی نہیں شرما رہی، جتنا تو شرما رہا ہے۔ “
نجیب نے ہنستے ہوئے اُسے غیرت دلائی۔ وہ چہکی۔
”چل ہٹ بھی۔ اب گشتی کو گشتی کَہ کے تنگ تو نہ کر۔ “

نجیب گشتی کا ہاتھ پکڑ کے بستر پر لے گیا۔
”اِس کو تو شراب نے بھی مرد نہیں بنایا، چل آ ہم ملیں۔ “

مستقیم نے جیسے بجلی کے ننگے تار کو چھو لیا ہو، اُٹھا کہ باہر چلا جائے، اٹھتے ہی اندازہ ہوا کہ شراب سر چڑھ کے ناچ رہی ہے۔ دیوار کا سہارا لیا ورنہ گر جاتا۔ نجیب نے جاتے کو پکارا۔
”کدِھر چلا؟ دیکھے گا، نئیں؟ “
”مم۔ میں باہر بیٹھتا ہوں۔ “ لکنت زدہ زبان سے اتنا ہی ادا ہوا۔
گشتی کھِلکھِلا کے ہنسی۔ ”سالے کدِھر سے لے آیا ہے، اِسے؟ “
نجیب اُس کی ہنسی میں ساتھ دینے لگا۔ مستقیم برا سا منہ بناتے باہر چلا گیا۔ اُسے گشتی کی ہنسی پر غصہ نہیں آیا، لیکن دوست کی ہنسی پر رنج ہوا تھا۔

وہ باہر کھڑا سیگرٹ پھونک رہا تھا، کِہ بشیر ڈرائیور ساتھ آ کھڑا ہوا۔
”سر، آپ باہر کیوں؟ “
”کچھ نہیں۔ ہوا خوری کے لیے آیا ہوں۔ اندر دم گھٹ رہا تھا۔ “
مستقیم نے کنکھیوں سے دیکھا، بشیر زیرِ لب مسکرا رہا تھا۔

”حرامی!“
مستقیم نے من ہی من میں گالی بکی۔ ’تَو کیا یہ سمجھ رہے ہیں، میں مرد نہیں ہوں؟ ‘ مستقیم کو اپنی مردانگی خطرے میں محسوس ہوئی۔
”تمھاری بہن کی شادی کب ہے؟ “
”ساب!‘۔
بشیر کی آواز میں اُمید کا سیلاب اُمڈ آیا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2 3 4 5

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 320 posts and counting.See all posts by zeffer-imran