حیدر آباد سے حیدر آباد تک


آخر کار منجھلے بھائی بھی 1958 میں پاکستان چلے گئے۔ پہنچ کر انھوں نے ابھی سانس بھی نہ لی ہو گی، یہاں اخباروں میں خبریں چھپنے لگیں، کہ پاکستان میں مارشل لا لگ گیا۔ بھائی کا خط آیا کہ وہ خیریت سے ہیں۔ کراچی پہونچنے (پہنچنے) کے بعد بھائی ابراہیم جلیس سے ملاقات ہوئی۔ اُنھوں نے ایک اخبار کے ادارے میں بھائی کو اکاونٹنٹ کی نوکری دِلا دی ہے۔ دِن کا کام ہے۔ اب نہ رت جگے ہیں‘ نہ محفلیں‘ نہ مشاعرے۔ میں نے خود ہی یہ راستہ ترک کر دیا ہے۔ اب صبح دفتر جاتا ہوں اور سرِ شام گھر لوٹ آتا ہوں۔ اب ساری توجّہ میں بچوں کی پڑھائی پر لگا رہا ہوں۔ کیوں کہ یہی ہمارا سرمایہ ہے؛ تمھاری بھابی کو بھی لڑکیوں کے ایک سرکاری مدرسے میں پڑھانے کی نوکری مِل گئی ہے۔ میرے اوپر اب توجّہ کم ہو گئی ہے؛ ہاں روزانہ شام کو آ کر میری سیکل (سائیکل) کو تالا ڈالنا نہیں بھولتیں۔
کراچی کے بارے میں انھوں نے لِکھا، یہ شہر بھی بمبئی جیسا ہے۔ پر کیا کریں اب یہیں رہنا ہے۔ مجبوری ہے۔ یہاں پنجاب میں پنجابی بستے ہیں۔ سندھ میں سندھی، بلوچستان میں بلوچی اور پشاور میں پٹھان۔ صرف کراچی کے دل میں مہاجروں کے لیے جگہ ہے۔ بمبئی کے وقت طبیعت میں لا اُبالی تھی اور لوٹنے کے لیے حیدر آباد تھا، اب آنکھیں کھل گئیں ہیں۔ دماغ ٹھکانے آ گیا ہے۔ یہاں سے لوٹنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اِس سے آگے کہیں جا بھی نہیں سکتے، کِہ آگے سمندر ہے۔ اکثر مہاجر یہیں رہتے ہیں۔ یہاں مہاجر تو بہت ہیں‘ مگر انصار نہیں ہیں۔ ٹھوکریں کھا کر راستہ ڈُھونڈنا پڑتا ہے۔ ویسے یہا ں کھانے پینے کی فراغت ہے۔ ہاں دہن صرف کھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ویسے لفّاظی تو بہت ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں بہت احتیاط کرنی پڑتی ہے؛ ورنہ غدّاری کا ٹھپّا لگ جاتا ہے۔ ویسے ہی مہاجر کا ٹھپّا لگا ہوا ہے۔

پھر کچھ دن بعد منیر بھائی کو حبیب بنک میں نوکری مِل گئی‘ قدم اور جم گئے۔ پِھر زندگی کئی مرحلوں سے گزری۔ 1965 کی جنگ ہوئی۔ سارے رابطے ٹوٹ گئے۔ نہ خط‘ نہ فون۔ بھائی کے خط کبھی کبھار براہ امریکا آ جاتے‘ وہ امریکا میں مقیم ہماری تایا زاد بہن کو خط بھیج دیتے اور وہ اس خط کو ہمارے پاس بھیج دیتیں۔ ہم لوگ بھی جواب اسی طرح بھیج دیتے۔ کبھی بہن کا فون آجاتا کِہ وہاں سب خیریت سے ہیں۔ ہم اپنی خیریت بتا دیتے۔ دو تین سال بعد راستے کھلے۔ بھائی نے ویزے کے لیے درخواست دی۔ پتا نہیں کیوں ان کی درخواست نا منظور کر دی گئی۔ یہاں سے جانے والوں میں بھی کمی آ گئی۔ کبھی کبھار سننے میں آتا کہ فلاں خاندان پاکستان ہجرت کر گیا۔

1971 کی جنگ ہوئی۔ پاکستان کے دوٹکڑے ہو گئے۔ دو قومی نظریے کی اساس ہی ٹوٹ گئی۔ پھر خط کتابت کا اور خیر خیریت کا وہی حربہ چل پڑا۔ خطوط براہ امریکا آنے جانے لگے۔ بھائی نے ایک خط میں لکھا تمھارا ملک تو پاکستان کو توڑ کر بہت خوش ہے۔ میں کیا کہتی، ہمارے دُکھ تو اپنی جگہ تھے۔ ہندوستان کے مسلمان تو ابھی تک پاکستان بننے کی قیمت چکا رہے تھے۔ بات بات پر طعنہ دیا جاتا کہ تم لوگ پاکستانی ہو پاکستان چلے جاو۔ اوپر سے یہ نیا غم۔ پاکستان کی ہار کی قیمت بھی ہندوستان کے مسلمانوں کو چکانی پڑی۔ پھر کئی سال تک رابطے ٹوٹے رہے۔ اب یہاں کے لوگوں کی پاکستان میں دل چسپی بالکل ہی ختم ہو گئی۔ اب پاکستان جانے کا نہ ہی کوئی نام لیتا‘ نہ ہی کوئی ارادہ کرتا۔ پاکستان کی حالت اب ایک فالج زدہ دوست جیسی رہ گئی تھی۔ دونوں طرف کے بچّے بڑے ہو گئے تھے۔ بھائی کے بچّے امریکا سدھار گئے؛ میرے بچّے مشرقی وسطیٰ چلے گئے۔ نہ کوئی ہندوستان کا رہا نہ کوئی پاکستان کا رہا۔
پھر شادیاں ہوئیں۔ نہ کوئی اُدھر سے آ سکا نہ کوئی اِدھر سے جا سکا۔ بھائی نے ایک بار پھر ویزے کی درخواست دی۔ وہ بھی نا منظور کر دی گئی۔

باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4