حیدر آباد سے حیدر آباد تک


چار پانچ سال کے وقفے سے بھائی دو بار اور حیدر آباد آ کر گئے۔ کہتے اس سے جلد جلد نہیں آ سکتا‘ بچے سب اپنے گھر بار کے ہو گئے۔ اِن کی اپنی زِندگیاں ہیں اپنے اپنے اخراجات ہیں۔ اپنے وظیفے میں سے پیسے بچا بچا کر ہی آ سکتا ہوں، میں حیدرآباد میں ہی واپس بس جانا چاہتا ہوں لیکن رہ نہیں سکتا۔ کِتنی عجیب بات ہے اب تم دونوں کو بھی فرصت ہے لیکن تم لوگ وہاں نہیں آ سکتے۔ میں یہاں نہیں رہ سکتا۔ یہا ں کتنی آسانیاں ہیں۔ گھر سے نکلے آٹو پکڑا جہاں جی چاہا چلے گئے۔ وہاں ٹیکسیاں اِتنی مہنگی ہیں کہ اپنے بس سے باہر ہیں۔ کہیں جانا ہو تو کسی نہ کسی کی مِنّت سماجت کرنی پڑتی ہے۔ ہر کوئی مصروف۔ کسی کو وقت مِل گیا تو لانے لے جانے کا احسان ہی کر دیتا ہے۔ اگر کوئی نہیں مِلا تو گھر پر پڑے تنہائی کا عذاب سہتے رہیے۔ سڑک پر پیدل نِکل نہیں سکتے وہاں سڑک پر کوئی چلتا ہی نہیں یہاں کی طرح نہیں کہ سڑک پر پچاسوں افراد چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ جب میں سِیما کے ہاں رہتا ہوں، تو بچیاں نانا جان‘ نانا جان کہہ کر آگے پیچھے پھرتی رہتی ہے۔ مگر انھیں گاڑی زیادہ چلانے کی اِجازت نہیں ہے۔ حمید میاں کو پسند نہیں۔

پھر ایک دن سِیما کا فون آیا کہ بابا جان کی طبیعت خراب ہے۔ آئی سی یو میں ہیں؛ پھیپھڑوں میں ورم اور انفیکشن ہو گیا ہے۔ہماری وحشتوں میں اِضافہ ہو گیا۔ فون کی گھنٹی عذاب بن گئی؛ پھر اِطلاع ملی کہ گردے بھی برابر کام نہیں کر رہے ہیں۔ کوما میں چلے گئے ہیں۔ عیادت کرنے والوں کو بھی قریب آنے نہیں دیا جارہا ہے۔ بھائی موت سے لڑ رہے ہیں۔ دو تین ہفتے یونھی گزر گئے، پھر خبریں آنے لگیں کہ بتدرِیج طبیعت ٹھیک ہو رہی ہے۔ ہوش آ گیا ہے۔ انفیکشن اور ورم بھی ٹھیک ہو گیا ہے۔ گردے بھی رفتہ رفتہ کام کرنے لگے ہیں‘ اب ہفتے میں ایک دن ڈائلسس دینا پڑ رہا ہے۔ غرض منیر بھائی اپنی قوّت اِرادی اور اللہ کے کرم سے شِفا یاب ہو کر گھر آ گئے۔ لیکن مکّمل شِفا یاب ہونے میں آٹھ نو مہینے لگ گئے۔ جونھی شِفا یاب ہو گئے، پھر حیدر آباد کی یاد ستانے لگی۔ فون پر کہتے، ایک بار حیدر آباد آنا چاہتا ہوں؛ جِتنی جلدی ہو سکے بہتر ہے۔ پتا نہیں پھر زِندگی مہلت دے یا نہیں۔ کوئی حیدر آباد آنے والے کی تلاش ہیں، جو مجھے ساتھ لے آ سکے۔ اب اکیلے آنے کی ہِمّت نہیں ہے۔

یہ 2014 ہے۔ حسبِ وعدہ بھائی چار دِن پہلے طالب بھائی کے ہم را ہ حیدر آباد آئے۔ ایئر پورٹ سے طالب بھائی اپنے بیٹے کے گھر چلے گئے اور ہم لوگ اپنے گھر چلے آئے۔ کھانے وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد باتوں کا دور چلا۔ دُپہر شام میں اور شام رات میں ڈھل گئی۔ باتیں چلتی رہیں۔ رات کے بارہ بجے میں نے بھائی سے کہا کہ اب سو جائیں۔ بھائی صبح کو فجر کو اُٹھانے کا کہہ کر سونے چلے گئے۔ صبح فجر کے لیے اُٹھ کر ضروریات سے فارِغ ہو کر بھائی نے وضو کیا۔ جیسے ہی حمّام سے نِکلے اُن کا پیر پِھسل گیا اور وہ چاروں شانے چِت فرش پر گِر پڑے۔ چوٹ کی شِدّت سے بے ہوش ہو گئے۔ ایمبولینس بلائی گئی۔ لیکن دوا خانہ پہونچنے سے پہلے بغیر کسی مزاحمت کے بھائی انتقال کر گئے۔ آج وہ دودھ باؤلی کے قبرستان میں آرام کی نِیند سو رہے ہیں۔ اب نہ کوئی اُنھیں حیدر آباد آنے سے روک سکتا ہے، نہ یہاں سے جانے کے لیے کہہ سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4