حیدر آباد سے حیدر آباد تک
1983 میں بنک سے وظیفے پر سبک دوش ہونے پر بھائی بھی امریکا چلے گئے۔ بڑے بھائی تو پہلے ہی اپنے بچوں کے پاس امریکا جا چکے تھے۔ پاکستان سے اب رابطے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ کبھی بھائی سے فون پر بات ہو جاتی۔ اور خطوط بھی آتے رہتے۔ بھائی کو تفصیلی خُطوط لِکھنے کی عادت تھی۔ جب تک وہ امیگرنٹ تھے تب تک وہ پاکستانی پاسپورٹ پر تھے۔ اِس لیے ہندوستان آنے کی اِجازت کا وہی رونا تھا۔ پہلی دفعہ کی ’نہ‘ ہاں میں نہیں بدل سکی۔ امریکی شہریت اور پاسپورٹ کے حاصل کرنے کے بعد بھی ہندوستان کا ویزا مِلنا اِتنا آسان نہ تھا، کیوں کہ سابق شہریت کے بارے میں سوال اٹھتا تھا۔ یہ ایک طرفہ معاملہ نہیں تھا۔ دونوں ملکوں کا یہیں رویّہ تھا۔ جب بھی بھائی ویزے کے لیے درخواست دیتے، حیدر آباد میں ہمارے پاس پولیس آکر پوچھ تاچھ کر کے جاتی؛ اِس کی رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ ہوتا۔ اس دفعہ بھائی نے شِکاگو کی ہندوستانی قونسل میں جان پہچان نکال کر کسی طرح دس سال کا ملٹی پل ویزا حاصل کر ہی لیا۔ اِس طرح بھائی پہلی دفعہ 1998 میں حیدر آباد آ سکے۔ چالیس سال بعد کی ملاقات‘ گویا زِندگیاں گزر چکی تھیں۔ مَیں بھائی سے لپٹ کر بہت روئی۔ جب بھائی گئے تھے تو جوان تھے، اب لوٹے تو بوڑھے ہو چلے تھے۔ بالوں میں سفیدی آ چکی تھی۔ بھائی نے کہا ’’روتی کیوں ہو‘ آئنہ دیکھو تم بھی بوڑھی ہو چکی ہو۔ اپنی زِندگی کے گزرنے کا اِحساس نہیں ہوتا‘‘۔
پہلے تین چار دِن تو بے تحاشہ باتیں ہوئیں۔ عمرِ رفتہ کے قِصّےِ چھڑے۔ بچپن کی باتیں ہوئی۔ وقت نے کس کے ساتھ کیا سلوک کِیا، اِس کے تذکرے ہوئے۔ بھائی کو پتا چلا کہ ان کے کئی ساتھی اِس دنیا سے رُخصت ہو چکے ہیں۔ مخدوم محی الدین‘ خورشید احمد جامی‘ سعید شہیدی وغیرہ اِس دنیا سے گزر چکے ہیں۔ جو نہیں گزرے وہ بھائی کی طرح بوڑھے ہو گئے ہیں۔ اب اِن میں بھی نہ شب باشیوں کی سکت رہی نہ فیِ البدیہہ مشاعروں کی۔ بھائی کو یہ جان کر افسوس ہوا کہ اردو کی دو نسلوں نے خود کشی کرلی ہے۔ اب جو نسل ہے وہ اُردو بول تو سکتی ہے لیکن لِکھ پڑھ نہیں سکتی۔ حکومتیں اُوپر سے پیڑوں کو پانی دیتی رہیں، اور اندر سے جڑوں کو کاٹتی رہیں۔ کئی ریاستوں نے اردو اکیڈیمیاں قائم کر دیں، اُردو کی کِتابیں چھاپنے کے لیے جزوی اِمداد بھی دینے لگے اور سالانہِ انعامات بھی بانٹنے لگے، تا کہ شاعر و ادیب ایک دوسرے سے دست و گریباں رہیں، کِہ کون کتنا بڑا شاعر ہے۔ اُردو کی کتابوں کے خریدار بہت کم رہ گئے تھے؛ کچھ کِتابیں بِک جاتیں‘ باقی کِتابیں شاعر اور ادیب حضرات آپس میں بانٹ کر خوش ہو لیتے ہیں۔ اسکولوں اور مدراس سے اُردو اٹھالی گئی۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
جب پرانی نسل ختم ہوجائے گی تو اُردو سے نا آشنا نسل، نہ اُردو کے لیے روئے گی، نہ اپنے ورثے کے لٹ جانے کا غم ہی کرے گی۔ اُردو والوں کو اِتنا ہوش بھی نہ تھا کہ گھروں ہی میں بچوں کو اُردو سِکھا دیتے۔ معاشی تگ و دو نے اتنی فرصت ہی نہیں دی، کہ اس طرف توجہ دیں۔ دُور اندیشی سے تو اکثر لوگ عاری ہی تھے۔ بھائی نے کہا کہ یہ دم بھی غنیمت ہے امریکا کے بچے تو اردو بول بھی نہیں سکتے۔ سوائے چند گھرانوں کے باقی سب جگہ انگریزی چلتی ہے۔
منیر بھائی نے بھی جیسا کہ ان کی عادت ہے تفصیل سے شِکاگو کے حالات بیان کیے۔ کس طرح دکن کے لوگوں نے مل کر محفلِ اربابِ دکن نام کی مجلس قائم کی جِس میں سابق دکن کے رہنے والے ممبر بن سکتے ہیں۔ لیکن پرانے چراغ ایک ایک کر کے بجھتے جا رہے ہیں۔ چِراغ سے چِراغ جلانے والا کوئی نہیں ہے۔ نئی نسل کی آنکھیں ویسے ہی وہاں کی چکا چوند سے چندھیائی ہوئی ہے۔ اور بیچ کی نسل کو معاشی مصروفیات سانس لینے نہیں دیتی۔ کوئی دو دو جاب کر رہا ہے تو کوئی اوور ٹائم کے چکر میں پھنسا ہوا، دس بارہ گھنٹے کام کر رہا ہے۔ محفلِ اربابِ دکن کے علاوہ شامبرگ لائبریری میں اُردو اِنسٹیٹیوٹ کے زیرِ اِنتظام مہینے کے چوتھے ہفتے میں ایک ادبی محفل منعقد کی جاتی ہے۔ جس میں شعرا اور ادیب اپنی تخلیقات پیش کرتے ہیں۔ اِس طرح کی ایک ادبی محفل شہر کے دوسرے حصے میں ہر مہینے کے پہلی اتوار کو منعقد کی جاتی ہے۔ لیکن نئی نسل یہاں بھی عنقا ہے۔ شِرکت کرنے والوں میں زیادہ تر بوڑھے ہیں۔ اُردو کے بارے میں اُنھیں اِتنا فِکر مند دیکھ کر مَیں نے دِل رکھنے کے لیے کہا، کہ آپ اِتنی فکر نہ کیجیے، آپ کو یاد ہے ہم اپنے زمانے میں فارسی پڑھا کرتے تھے۔ اب یہاں فارسی کوئی نہیں جانتا۔ لیکن فارسی آج بھی اِیران میں زندہ ہے۔ اِسی طرح اُردو بھی پاکستان میں زِندہ رہے گی۔ اس پر اُنھوں نے کہا کہ ایک خوش آیند بات ہے، کہ شِکاگو کی ایک جامعہ کے شبعہ لِسانیات کے تحت اُردو اور فارسی پڑھائی جاتی ہے۔ وہاں پڑھنے والے انگریز ہیں، مولانا رومی‘ جامی‘ اور اقبال پر اچھا کام ہو رہا ہے لیکن اُس طرف بھی اپنے لوگوں کی توجّہ کم ہے۔
بھائی تین مہینے حیدر آباد میں رہے۔ بہت سر گرمیاں رہیں مہمانوں کا آنا جانا رہا۔ وہ رشتے دار جن سے بہت دن سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، ان سے بھی بھائی کی وجہ سے ملاقات ہو گئی۔ویزے کی پابندی کی وجہ سے بھائی حیدر آباد سے باہر نہیں جا سکتے تھے؛ اس لیے کچھ رشتے دار گل برگہ اور اورنگ آباد سے بھی آ کر ملے۔ کچھ ادبی محفلیں دُپہروں میں منعقد ہوئیں۔ شہر کی کچھ ادبی محفلوں میں بھی بھائی نے شِرکت کی۔ بڑی آپا بھی میرے پاس آ گئیں تھیں۔ آفاق بھائی کو دنیا سے گزرے تقریباً دس برس ہو گئے تھے۔ چوتھی نسل کا ذِکر بھی نِکلا جو ابھی پاوں پاوں چل رہی تھی۔ اِنھیں ہم اُردو سِکھائیں گے۔ بھائی کہتے لیکن پڑھائے گا کون۔ اِن کے ماں باپ ہی کو اُردو لِکھنا پڑھنا نہیں آتا۔ وہ کیسے سِکھائیں گے۔ پھر وہی بات‘ چلیں کچھ اور بات کرتے ہیں۔ بھائی نے کہا یہ بھی غنیمت ہے کہ یہ بچے اردو بولنا تو سیکھ ہی جائیں گے۔ وہاں تو ماں باپ عادتاً اپنے بچوں سے انگریزی میں بات کرتے ہیں۔ پِھر Day Care Centers اور Pre school میں سے تو بچے انگریزی میں دُھل دُھلا کر نِکلتے ہیں، اُردو تو بولنا بھی نہیں آتا۔
تین مہینے بعد منیر بھائی واپس چلے گئے۔ پر نم آنکھوں سے رُخصت ہوئے۔ بہت سے لوگ چھوڑنے آئے۔ جہاز اُڑا اور کُچھ لمحوں میں اُفق میں کھو گیا۔ اُن کے جانے کے بعد‘ شروع شروع میں گرما کے لانبے دِن کاٹ کھانے آتے۔ شام بھی اُداسی میں لِپٹی آتی۔ پِھر رفتہ رفتہ زِندگی اپنی ڈگر پر واپس آ گئی۔
باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے




