سیکولرازم: مذہبی اساطیر سے روشن خیالی کی جانب تاریخ کا سفر
گفتگو کے اس مقام پر مناسب ہے کہ تھوڑی سی وضاحت سیکولرازم سے متعلق دوسری تھیوری کی بھی کر دی جائے۔ یہ“ ماڈرنائزیشن تھیوری Modernization Theory ”ہے۔ اس تھیوری کے مطابق مذہب اور تعقل ایک دوسرے کے حریف نہیں ہیں۔ معاشرتی شعور بدلتے ہوئے معاشی حالات کی پیداوار ہوتا ہے۔ یہ تھیوری زراعت پیشہ معاشرے سے صنعتی ترقی کی جانب رواں معاشرے میں سیاسی اور سماجی اقدار کا مطالعہ ہے۔ صنعتی معاشرے میں شعور کی سطح پر زندگی کو ترتیب دیتے ہوئے سیاست میں مذہب کا دائرہ عمل خود بخود محدود ہوتا چلا جاتا ہے۔
معاشی تبدیلوں کے سماجی نتیجے بھی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ معاشی بنیادوں پر لوگ اپنے چھوٹے گاؤں چھوڑ کر شہروں کی جانب مراجعت کرتے ہیں۔ دیہاتوں کے روایتی طرز زندگی میں مذہب نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ نقل مکانی کی وجہ سے شہروں میں پہنچ کر روایتی مذہب آہستہ آہستہ اپنی اہمیت کھونے لگتا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ لوگ روایتی قدروں کو چھوڑ کر عام طرز زندگی اور روشن خیالی کی جانب مائل ہونے لگتے ہیں۔
اس کا لازمی اثر مستقبل کے سیاسی انتظام و انصرام میں دکھائی دینے لگتا ہے۔ انسان کے معاشرتی ارتقاء کا مطمع نظر دراصل انفرادی اور معاشرتی سطح پر خود مختاری اور آزادی میں اضافہ ہے۔ یہ سماجی تبدیلی کا ایک پہلو ہے جس میں لوگ روایتی اور مذہبی نظام فکر سے سیکولر طرز زندگی کی جانب راغب ہوتے جاتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ سیکولر طرز زندگی اور سیاست نے اگر ایک دفعہ معمولی سی جڑ پکڑ لی تو اس کے بعد سیکولرازم کی جانب راہ سیدھی اور آسان ہے۔ ایسی بات ہر گز نہیں۔ ساری انسانی تاریخ کی طرح یہ بھی رکتا بڑھتا عمل ہے۔
مگر بدلتے ہو ئے طرز زندگی کے ساتھ مطابقت پیدا کرنا ایک سست رفتارعمل ہے۔ اگر نئے طرز زندگی سے معاشرے یا کچھ لوگوں کی ہم آہنگی نہ ہو پائے تو بہت سے مسائل انسانوں کے طور اطوار، معاشرتی قدروں اور شناخت کے حوالے سے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ ان کی تفصیل ہمیں زیر بحث موضوع سے دور کر کے“ پوسٹ سیکولزازم ”کی طرف لے جائے گی۔ پوسٹ سیکولرازم ایک علیحدہ مضمون کا متقاضی ہے تاہم اس جگہ اتنا کہنا کافی ہو گا کہ پوسٹ سیکولرازم صرف مسائل کا نام نہیں یہ انسانوں کے فکری ارتقا کی ایک اگلی مسافت ہے۔
ہم سیکولرایزیشن کی جانب انسان کے سماجی سفر میں اوپر بیاں کی گئی جس تھیوری کو بھی اپنی مرضی سے اہم سمجھیں لیکن یہ بات عیاں ہے کہ سیکولرایزیشن میں طرز فکر میں بنیادی تبدیلی یہ ہے کہ منطق سے ماورا عقاید کمزور ہونے لگتے ہیں اور مذ ہب سے رابطہ سماجی تعلق کی بجائے ایک انفرادی تعلق میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ نقطہ ہمیں ان اصطلاحات سے متعارف کرواتا ہے جو سیکولرازم کے مطالعہ میں ہر جگہ در آتی ہیں۔ سماجی دائرہ عمل اور انفرادی دائرہ عمل۔
یہ بات سیکولرازم کی بنیادی اکائیوں کے طور پر مانی جاتی ہے کہ سماجی دائرہ عمل چونکہ تمام شہریوں کے واسطے مشترکہ ہے اس لئے اس پر کسی ایک مذہب کی اجارہ داری تسلیم کرنا ممکن نہیں۔ اور اسی بات سے دوسرے پہلو کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ مذہب ایک ذاتی فعل کی شکل اختیار کر لیتا ہے کہ جس پر کسی پابندی کی ضرورت نہیں رہتی۔
آج ہم اس بات سے تاریخی طور پر واقف ہیں کہ مختلف ملکوں اور علاقوں میں سیکولرازم مختلف شکلوں میں رائج ہوا ہے جو ایک دوسرے سے مشابہت رکھنے کے باوجود ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر ملک اور علاقے کے تاریخی حقائق ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ انسانوں کی سماجی تاریخ میں سیکولرایزیشن کے جو مختلف تجربات سامں ے آئے ہیں ہم ان کی سیاسی شکلوں سے کسی حد تک ضرور واقف ہیں مگر سیکولرازم اپنے اندر علمیات کا جہان معنی رکھتا ہے جس سے آشنائی انسانی معاشرت کی بہتری کے نئے در وا کر سکتی ہے۔
لفظ“ سیکولر ”کی مزید تفصیل کی ضرورت اس وجہ سے بھی ہے کہ مغربی یورپ کی پرانی زبانوں اور مسیحی مذہب کے علاوہ شاید کہیں بھی“ سیکولر ”کے متبادل کوئی مناسب لفظ موجود نہیں۔ ہندوازم، بدھ ازم، چینی فلسفے اور مظاہر فطرت سے وابستہ پرانے“ پیگن ”مذاہب میں زندگی، کلچر اور مذہب کی کوئی تفریق نہیں تھی اس لئے ایسے انداز زندگی کی مجموعیت کو بیان کرنے کے لئے کسی لفظ کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ ان زمانوں میں انسان اور فطرت کے ہر مظہر کی شرح خدا کا وجود تھا جو بدیہی صداقت کے طور پر ہر قدم پر موجود تھا۔
پرانے یورپ میں البتہ دو طرح کے پادری ہوا کرتے تھے اور اب بھی ہیں۔ ایک وہ جو راہبانیت کی راہ اختیار کرتے تھے اور دنیاوی معاملات سے کنارہ کرتے تھے۔ دوسرے وہ جو معاشرے میں عام انسانوں کی طرح رہتے تھے ؛ شادی بیاہ، بچے اور دنیاداری کے سبھی کاموں میں ایمان داری سے مصروف رہتے تھے۔ انہیں سیکولر پاردری کہا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ضرویات زندگی سے جڑے بنیادی کام مثلا“ دودھ دہی کا کام کرنے والے، حجام اور کاشت کار وغیرہ تمام کے تمام دنیاوی کاموں میں مصروف ہیں کہ جن کی سعی پیہم کے بغیر الہیات کے کسی بھی فرمان پر عمل ناممکن ہے۔ اس اعتبار سے معاشرتی معاملات میں سیکولر کسی طرح بھی مذہب کی ضد نہیں بلکہ اس کا معاون اور مدد گار تصور کیا جاتا رہا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔
سیکولر ازم کے نظریے میں ریاست اور مذہب کی ایک دوسرے سے علیحدگی کے معاشرتی اور تاریخی پہلووں کو سطحی نعرہ بازی کی ضرورت نہیں۔ سیکولرازم کے باب میں اس سے کہیں زیادہ ایک علمی بحث بھی موجود ہے جس میں فلسفیانہ دلائل، سیاست اور قاتون کا باہمی تعلق، کلچر اور معاشرت کے بدلتے افکار اور ان کے ساتھ بندھا ہوا زندگی کا انسانی تجربہ اور اس کی تشریحات ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیکولر صرف مذہب سے منہ موڑنے کا نام نہیں بلکہ یہ زندگی کرنے کے تجربے کا نام ہے۔
اسی زندگی کا تجربہ کہ جس کے ہر موڑ پر زمانہ قدیم میں اساطیرالاولین اور اس کے بعد کے زمانے سے مذہب موجود ہے جو کہ اساطیر کی منظم تجسیم ہے۔ موجودہ زمانے میں اگر سیکولر سے مراد معاشرے میں صرف وہ عملی میدان ہوں جن میں مذہب نے دخل اندازی بند کر دی ہے تو یہ سیکولر فکر کی بنیادی روح سے ناآشنائی کی بات ہو گی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


