سیکولرازم: مذہبی اساطیر سے روشن خیالی کی جانب تاریخ کا سفر
مثلا“ جب ساری ریاستیں اکٹھے ہو کر متحدہ امریکہ بن جائے گا تو یہ ملک بہت بڑا ہو جائے گا، اس وقت اس ملک کے اندر پہلے سے موجود مذاہب کے تشخص کو ماننے اور برقرار رکھنے کی گارنٹی کیا ہو گی؟ اتنے بڑے اور طاقتور حکومتی نظام کے مقابل عوام کی شخصی اور فکری آزادی کو برقرار رکھنے کا طریقہء کار کیا ہو گا؟ اس کے علاوہ مستقبل کی متحدہ امریکہ کی طاقتور کانگریس کو عوام اور ریاستوں پر کوئی اپنا مذہب لاگو کرنے سے کیسے روکا جا سکے گا؟ ان حالات اور ان تاریخی وجوہات کی بنا پر امریکی آئین کے ذریعے عوام نے مذہبی معاملات میں ریاست کا اختیار بالکل ختم کر دیا۔ آج کے امریکہ میں مذہبی آزادی اس وقت یعنی ڈہائی صدی پہلے کے معروضی حالات کی دین ہے۔ ویسے اب تو سیکولر انداز نظر کی ضرورت پہلے سے بھی زیادہ ہے۔
سیکولرازم کا دوسری طرح کا تجربہ فرانس کی تاریخ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ فرانس کا سیکولرازم ”لائی سیتے“ کہلاتا ہے۔ اٹھارویں صدی کے فرانس میں کیتھولک چرچ ایک بہت بڑا جاگیر دار تھا۔ مالی معاملات اور ٹیکس کے ضمن میں خصوصی مراعات رکھتا تھا۔ اٹھارویں صدی میں جب فرانس کے مالی اور اقتصادی معاملات بگڑتے ہوئے سماجی شکست و ریخت پر منتج ہوئے تو انقلاب کے بعد نئی ریاست نے چرچ اور مذہب سے مراعات نہ صرف واپس لے لیں، بلکہ مذہب کو ریاست کے تابع کر دیا۔ ”لائی سیتے“ طرز کے سیکولرازم میں ریاست مذہب کی مینجر ہو جاتی ہے۔ بیسوی صدی کے آغاز میں ترکی نے بھی سیکولرازم کے لائِی سیتے والے سٹائل کو اپنایا۔ یہ الگ بات ہے کہ ترکی کے اندر مذہب پر پابندیاں فرانس سے زیادہ ہیں اور ریاست کا سارے مذہبوں سے سلوک بھی ایک جیسا اور برابر نہیں۔
سیکولرازم اگر ریاست اور مذہب کے باہمی تعلق سے دیکھا جائے تو اس کئی شکلیں سامنے آتی ہیں۔ امریکی ماڈل اور فرانس اور ترکی ماڈل کے علاوہ۔ جرمنی میں جہاں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ تعداد میں برابر ہیں، یہاں ریاست ان دونوں کے ساتھ فراخ دلی سے پیش آتی ہے اور چرچ ٹیکس وصول کرنے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم یہ مراعات مختلف وجوہات کی بناء پر مسلمانوں کے لئے موجود نہیں۔ اس لحاظ سے جرمنی کا سیکولرازم ایک نامکمل فراخ دلی کا سا ماڈل ہے۔ اسی سے ملتا جلتا نطام نیدرلینڈ بھی ہے بے شک کہ وہاں کے باسیوں کی مذہبی شناخت تھوڑی مختلف ہے۔ بلجیم اور سوئزرلینڈ کی مثالیں بھی ہیں جنہیں سیکولرازم کے علماء ”مثبت رواداری کا سیکولرازم“ سے تعبیر کرتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں انڈیا، سینگال اور انڈونیشی سیکولرازم میں خاص بات یہ ہے کہ ریاست سب شہریوں کے لئے برابر ”تکریم مذہب“ کے کلیہ پر عمل پیرا ہو گی۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ریاست کے اندر بسنے والے مذاہب کے معاملات کو ثقافتی اور ان کے قدیم مذہبی قوانین کی پاس دار ہے۔ اسی وجہ سے انڈونشیا کے 1945 کے آئین کے دیباچے میں پانچ اصول تسلیمکیے گئے تھے : خدا پر ایمان، بر بنائے انصاف انسان پرستی، ملکی یک جہتی، جمہوریت اور سماجی انصاف۔
اس وقت انڈونشیا کی تمام مذہبی اور غیر مذہبی جماعتوں نے اس پر اتفاق کر لیا۔ تاہم یہ آئینی شکل مستقبل میں مذہبی قانون بنانے کی گنجائش رکھتی ہے۔ انڈونیشیا کے مذہبی اقابرین میں عبدالرحمان وحید نے مشہور قانونی مفر جان راعل کے قانون فطرت کے نقطہ فکر کو ماننے سے انکار کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ”سماجی لائحہ عمل سے مذہب دور رہے“ مگر ساتھ ہی یہ توجیہ پیش کی کہ انڈونیشیا کی بحیثت ملک یک جہتی سبھی مذاہب کے ساتھ روا داری میں مضمر ہے۔
انڈیا بھی سب کے لئے برابر تکریم مذہب جیسے سیکولرازم کا حامی ہے مگر حال ہی میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے طلاق سے متعلق عورتوں کے بارے میں شرعی خیالات کو انڈیا کے سیکولر قانون کا حصہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ ریاست کے مذہبی معاملات میں دخل کی ایک مثال ہے۔ انڈیا کے قانون میں سبھی مذاہب کے لئے بہت سے گنجائشیں موجود ہیں۔ اسی طرح سے سینگال میں بھی ریاستی سطح پر مذہب کے لئے گنجائش پیدا کرنے کی کوشش موجود ہے۔ تکریم مذہب والے سیکولرازم کی مثال اس کمزوری کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تکریم مذہب کے کلیہ پر عمل کرنے والی ریاست میں سوسائٹی کے تمام عناصر کے لئے یکساں نتائج کی ضمانت نہیں ہے۔ دراصل ان آزادیوں کا بہت سا انحصار اس پر ہے کہ کس وقت سیاست کس نہج پر ہے اور سماجی شعور کی سمت کیا ہے۔
سکنڈے نیویا کے سیکولرازم کے ماڈل میں ریاست چرچ کی مدد گار ہے مگر معاشرے اور سیاست کا دھیان مذ ہب کی جانب کم کم ہے۔ یہ بات اس یاد دہانی کے لئے ضروری ہے کہ سماجی ارتقاء کے ان پہلووں پر بھی نظر رکھی جائے جن کی بنیاد پر انسان ایک خاص معاشرے میں مذہب کو ذاتی اور انفرادی دائرہ عمل تک محدود کرنے پر مائل ہو جاتے ہیں اور ریاست اس سوچ کی محافظ بن جاتی ہے۔ لیکن اس بات سے صرف نظر مشکل ہے کہ سیکولرازم کا امریکی تجربہ اور فرانس کا لائی سیتے کا تجربہ اپنے اندر ایک استحکام رکھتا ہے جس کی بنیاد ان ممالک کے تاریخی حقائق ہیں۔
سیکولرازم جدیدیت کے تناظر میں
اوپر کی مثالوں میں بنیادی بات مذہب کی نہیں بلکہ ماڈرن ازم یا جدیدیت کی ہے۔ ماڈرن زمانے میں فکر و نظر کی رو انسانی حقوق کو نئے سرے سے دیکھنے اور پرکھنے کی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ اہم سوال بھی سامنے آن کھڑا ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کو کس طرح سے قانونی شکل دی جائے اور اس کے علاوہ معاشرے اور ثقافت میں برابر حقوق کا تصور کیسے راسخ کیا جائے۔ موجودہ زمانہ جس کے لئے ماڈرن کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، یہ بذات خود انسانی حقوق کی سر بلندی کی ضمانت نہیں ہے۔ اس پہ مزید خیال آرائی کی ضرورت ہے۔
اس جگہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ”نئے زمانے“، ماڈرن یا جدید سے مراد تاریخ وار آگے بڑھتا ہوا وقت نہیں کہ جس میں ہر نیا آنے والا دن پرانے دن سے جدید یا ماڈرن ہے۔ ”ماڈرن یا جدید“ بحیثیت اصطلاح سماجیات میں اپنے علیحدہ معنی رکھتا ہے۔ جدیدیت کے اندر بہت سے عوامل ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ان میں قانون وہ جو مذہب کی بجائے انسانی فطرت کی بنیاد پر ہے، زندگی کے معاملات میں اخلاقی خود مختاری، سیاست میں جمہوری اصول، انسانی حقوق اور سماجی برابری وغیرہ اہم ہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


