سیکولرازم: مذہبی اساطیر سے روشن خیالی کی جانب تاریخ کا سفر

ان تمام عوامل کی ترویج کے واسطے انسانی شعور پہ انحصار ہی سیکولر ازم کی خشت اوّل ہے۔ چارلس ٹیلر کے الفاظ میں : ”مغرب میں سیکولرازم کے ارتقاء کو دیکھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس میں مذہب اور ریاست علیحدہ علیحدہ ہیں اور مذہب ذاتی اور پرائیویٹ دائرے تک محدود کر دیا گیا ہے جہاں سے مذہب معاشرتی زندگی میں دخل اندازی نہیں کرسکتا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پرانے زمانے سے سیکولر یا دنیاوی اور مقدس یا الوہی کے درمیان ایک حد فاصل رہی ہے۔ ماضی کے تناظر میں سیکولرازم ہی وہ اطمینان بخش اور قابل عمل طریقہ کار ہے جسے استعمال کر کے بالآخر مذہب کو سیاست میں صرف حاشیے تک محدود رکھا جا سکتا ہے“۔
سیکولرازم اور انسانی حقوق
یوں تاریخ کے تناظر میں سماجی سیکولرازم نے اپنی جگہ بنا کر پورے زمانے کے انداز نظر میں نئی روح پھونک دی ہے۔ اس میں انسانی حقوق کی بات قانون کی تنگنائے سے نکل کر انسانی فطرت کے بحر بیکران کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آئین نے ریاست کو حقوق کے تحفظ کا پابند کر دیا ہے۔
مگر اس جگہ ایک اور خیال بھی ذہن پہ دستک دینے لگتا ہے۔ حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ سیکولرازم کے مطالعے میں ریاست بنیادی اکائی ہے۔ اقوام متحدہ کے آئین میں قانون فطرت کی بنیاد پر تفویض کیے گئے انسانی حقوق نظریاتی سطح پر تو واضح ہیں مگر قومی ریاست کے موجودہ نظام میں بنیادی انسانی حقوق کی پاس داری آزاد ریاست کی ذمہ داری ہے اور ایک حد تک ریاست کے اندر سیاست اور مذہب کو علیحدہ رکھنا قدرے آسان ہے۔
مگر ابھی تک کوئی ایسا قابل عمل مجموعی نظام وجود میں نہیں آیا جو انسانی حقوق کے تحفظ کو گلوبل سطح پر یقینی بنا سکے۔ اسی طرح جنگ کے دوران انسان کے فطرتی اور بنیادی حقوق سے رو گردانی کو برداشت کرنا ابھی تک سیاسی اور سماجی کلچر کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ معاملہ ایک تضاد کا آئینہ دار ہے کہ انسانی حقوق کو بنیادی تو مانا جاتا ہے مگر حالت جنگ میں یہ معطل ہو جاتے ہیں۔ اگر کوئی ریاست حقوق پورے کرنے سے رو گردانی کرے تو انسانی برادری کے لئے اقوام متحدہ کے آئین پر عمل کروانا کافی مشکل ہے۔ اگر سیاسی اجارہ داری رکھنے والا کوئی طاقتور ملک کسی دوسرے کی ریاست میں حقوق غصب کرنے کا مرتکب ہو تو بین الاقوامی نظام کچھ زیادہ کار آمد نہیں۔ کم از کم ماضی قریب کا تجربہ تو یہی ہے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سیکولرازم قومی ریاست کی سماجی سطح پر تو انسانی حقوق کی پاس داری کے لئے مذہب کے ساتھ آسانی سے مکالمہ کر سکتا ہے مگر تاریخی سیکولرازم کے اندر ابھی تک ایسا سیاسی نظام سامنے نہیں آ سکا جو بین الاقوامی سطح پر بھی انسانی حقوق کی مجموئی ضمانت دے سکے۔ یاد رہے کہ مذہب کو بنیاد بنا کر انسانی حقوق کا سلب کیا جانا مغرب ممالک میں بھی ابھی ماضی قریب کی بات ہے اور بہت سے دوسرے ممالک میں ابھی تک حقوق کی بابت کچھ زیادہ سنجیدہ کام نہیں ہو رہا ہے۔ آج کا زمانہ جس کے لئے سیکولر دور کی اصطلاح وضع ہوئی ہے، اسے ایک اور نہج سے دیکھا جائے تو یہ گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے۔ اس لئے استحقاق اور حقوق کے معیاروں کا ادراک بھی مجموئی انسانی برادری کی سطح پر ضرروی ہے۔
گلوبلایزیشن کا دائرہ کار ابھی تک صرف کارپوریٹ تجارت تک محدود ہے۔ حقوق کی سیکولر گلوبلائزیشن ابھی بہت دور کی بات ہے۔ جس طرح سیاسی نظام کے اندر سیکولرازم نے انسانی حقوق کے واسطے راہیں ہموار کیں اسی طرح روشن خیالی کو سماج کے اندر بھی ان تمام عوامل سسے نبرد آزما ہونے کی ضرورت ہے کہ جن کی بنیاد پر انسان استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ گلوبلایزیشن سے مراد تجارت ہی نہیں، انسانی حقوق کی گلوبلایزیشن ہے۔ گلوبلائزیشن کو انسانی حقوق کی ضمانت کے لئے جغرافیائی حدوں سے نکل کر بین الاقوامی سطح پر اپنا کردار متعین کرنا ہو گا اور اس کی پاس داری کو بھی یقینی بنانا ہو گا۔ یہ کام کٹھن ہے اور ابھی تک انتہائی ابتدائی مراحل میں ہے۔
ان تحفظات کے باوجود یورپی اور امریکہ کے مسیحی معاشروں میں سیکولرازم کا تجربہ کامیاب رہا ہے۔ یہی بات اب ہمارے معاشروں میں سیکولرازم کے لئے دلیل کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے۔ مگر اس دلیل کے رد میں یہ سوال کیا جاتا ہے کہ مشرق کے مسائل کے حل کے واسطے مغربی تجربہ بھلا کیسے کار آمد ہو سکتا ہے؟ یہ سوال توجہ طلب ہے۔
پیشتر اس سے کہ اس سوال کے بارے میں سوچا جائے، اسلامی دنیا کے چند بنیادی حقائق سے آگاہی ضروری ہے۔ ہم نے پہلے ہی سیکولرازم کو جدیدیت ساتھ چلتا ہوا سیاسی اور سماجی عمل کے طور پر دیکھا ہے۔ اس وقت اسلامی دنیا کی جو حالت ہے وہ طشت ازبام ہے۔ اس کے لئے Modernization Deficit کو بطور اصطلاح جانا جاتا ہے۔ اس وقت دنیا میں مسلمان اکثریت کے پچاس ممالک ہیں۔ امریکی محقق شیرین ہنٹر کے مطابق اگر تیل بیچنے والے ممالک کو علیحدہ کر دیا جائے تو سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ملائشیا اور ترکی ہیں اور ان فی کس آمدنی بالترتیب 3500 اور 2500 ڈالر بنتی ہے اور عالمی تجارت میں مسلمان ممالک کا مجموئی حصہ 7 فیصد سے بھی کم ہے۔
ان اعداد و شمار میں سے اگر تیل کی تجارت کو نکال دیا جائے تو مسلمان ملکوں کی تجارت کا حصہ اس سے بھی بہت کم رہ جاتا ہے۔ اس کے مقابل آبادی کے لحاظ سے مسلمان دنیا کا قریبا ”25 فیصد ہیں۔ ظاہری طور پر ہو سکتا ہے یہ محسوس ہو کہ ان اعدادوشمار کا سیکولرازم سے کیا تعلق ہے۔ یورپ اور امریکہ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مادی اور شعوری ترقی کے تمام دہارے مابعدالطبیعات کی سوچوں سے آزادی حاصل کرنے میں ہیں۔ مادی ترقی، سماجی آزادی اور شعوری ارتقا یہ تمام دنیاوی محنت اور جدوجہد کا ثمر ہیں۔ ان کی تاریخی اہمیت کسی جغرافیائی ضرورت کی وجہ سے نہیں۔
سیکولرازم اور مشرق
یہ بات بجا ہے کہ سیکولرازم کے بہت سے تجربات ان ملکوں میں ہوئے جنہیں ہم مغرب اور مسیحیت سے منسوب کرتے ہیں لیکن اوپر ہونے والی گفتگو سے ظاہر ہے کہ ان نظریات اور سوچ کی حدود جغرافیائی نہیں ہیں۔ سیکولرازم ایک سیاسی نظریہ بھی ہے اور انسانی شعور اور علمیات کے تناظر میں تاریخ کے بدلتے ہوئے دھاروں کا نقیب بھی۔ سیکولرازم کسی بھی ریاست کے اندر سیاسی اور سماجی منظر نامے میں مذ ہبی گروہ بندیوں کی بنیاد پر بٹوارے کی بجائے، باہمی تعاون کی بنیادیں فراہم کرنے میں اسی طرح ممد ہو سکتا ہے جیسا کہ یورپ میں ویسٹ فیلیا کے معاہدے میں طے ہوا تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

