سیکولرازم: مذہبی اساطیر سے روشن خیالی کی جانب تاریخ کا سفر


John Locke

اس کے باوجود یہ کہنا ضروری ہے کہ مذہب نے زمانہ قدیم سے انسانوں اور سماج کے لئے کئی اہم کام سر انجام دیے ہیں۔ مذہب، سماج اور اداروں کو طاقت کا جواز مہیا کرتا رہا ہے۔ مذہب شناخت کے نفسیاتی مسائل کا ضامن رہا ہے اور زندگی کے مشکل مقامات پر جذبات کو پیرایہ اظہار مہیا کرتا رہا ہے۔ یہ سب بجا سہی مگر یاد رہے کہ مذہب سے وابسطہ بہت سے مسائل بھی ہیں جو روشن خیالی کی راہ روکتے رہے ہیں۔ سماجی ارتقاء ایک تاریخی عمل ہے اور سیکولرازم کا انعقاد بھی تاریخی ضابطوں کا پابند ہے۔

ویسٹ فیلیا کا معاہدہ : سیکولرازم

جب سیکولرازم کی موجودہ ساخت کے تجربات یورپ میں شروع ہوئے تو اس کے پیچھے فکری نہج تو تھی جس کے زیر اثر انسان ذاتی اخلاقیات اور سماجی زندگی کی وضاحت کے لئے مذہبی اقوال کو پیمانہ سمجھنے کی بجائے عقل سلیم کے استعمال کی جانب راغب ہو رہا تھا اور روشن خیالی اپنی جڑیں پکڑ رہی تھی۔ دوسرے ٹیکنالوجی اورمعاشی ذرائع میں تبدیلیاں بھی ظہور پذیر ہو رہی تھیں۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ حکومتی ارباب اختیار کو معاشرتی زندگی میں اپنی حیثیت اور طاقت کے استعمال کا استحقاق مذہبی حوالوں کا مرہون منت رہا ہے۔

اب کے ترقی پذیر معاشروں میں فکر و نظر کے ارتقائی عمل میں سیاسی طاقت کا جواز اور استحقاق مذہب کے حوالوں سے نکل کر انسانوں کے تعقل اور شعوری تجربات کی کٹھالی میں ڈھلنے لگا ہے۔ یہ سلسلہ ابھی مکمل تو نہیں ہوا مگر اس بات کو ذہن میں رہنا چاہیے کہ کئی ملکوں میں سیاست اور اداروں میں مذہب کا استعمال صرف حلف برداری کی رسم تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

سترہویں صدی کے یورپ میں وہاں کی مذہبی جنگیں ایک تاریخی حوالہ ہیں ان جنگوں میں علاقائی اور اقتصادی ہوس گیری تو بادشاہوں کی تھی مگر ان جنگوں کے لئے مذہبی بنیادیں کیتھولک، کیلون اور لدھ رن چرچ کی باہمی چپقلش نے مہیا کیں۔ یورپ میں یہ جنگیں تیس برس 1618۔ 1648 تک زندگیاں برباد اور معاشرت کو تاراج کرتی رہیں۔ کہتے ہیں کہ ان جنگوں میں تقریبا ”آٹھ کروڑ انسان لقمہ اجل بنے۔ بالآخر بر سر پیکار حکمرانوں کے نمائیندے اکٹھے ہوئے اور 1648 میں پیس آف ویسٹ فیلیا کا معاہدہ طے پایا۔ یہ جنگ ختم کرنے کے لئے امن کا سیاسی معاہدہ تھا۔ یاد رہے کہ مذاکرات اور معاہدے میں سے چرچ کو باہر رکھا گیا تھا۔

انسانی تاریخ میں ارتقائی اعتبار سے یہ معاہدہ نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس معاہدے نے عملی ثبوت فراہم کیا کہ سیاست کے میدان میں معاملات مذہب کے بغیر بھی طے ہو سکتے ہیں۔ تا ہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس معاہدے نے سیاست سے مذہب کا اختتام تو نہیں کیا مگر اس کا عمل دخل راجہ کی ریاست تک محدود کر کے رکھ دیا۔ جرمنی کے مشہور زمانہ مفکر نطشے کا نعرہ کہ“ خدا کی وفات ہو چکی ہے“، اپنے اندر کئی معنے رکھتا ہے مگر سماجی سطح پر یہ نعرہ ابھی تک خام ہے اور اسی وجہ سے سیاسی سطح پر بھی اس کا اثر راسخ نہیں ہو سکا۔

بہر حال سماجی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ویسٹ فیلیا معاہدے کے بعد سیکولر سوچ ذاتی دائروں سے نکل کر سیاسی اور قانونی حوالوں میں بتدریج ظاہر ہونے لگی۔ موجودہ دور میں سماجی دانشوروں کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ معاشرے میں سیاست اور مذہب کا باہمی رابطہ کتنا ہونا چاہیے اور معاشی برتری کس حد تک سماجی اور سیاسی برتری کی اساس ہونی چاہیے؟ اور کیا ایک عام آدمی بحیثیت انسان ان تمام سیاسی اور سماجی بندھنوں سے ارفع ہو سکتا ہے اور اگر ہو سکتا ہے تو کیسے؟

تاریخ عالم میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ویسٹ فیلیا معاہدے کے بعد بہت سے انقلابات میں بھی مذہب کو سیاست سے دور رکھنے میں ہی بات بنی۔ امریکی انقلاب کے بعد پہلی آئینی ترمیم کے ذریعے مذہب اور ریاست کو عملی طور پر ایک دوسرے سے علیحدہ کیا گیا۔ بعد میں انقلاب فرانس میں سماجی اور سیاسی معاملات سے مذہب کو دیس نکالا دیا گیا۔ کینڈا کی ابتدائی تاریخ میں کیوبک ایکٹ 1774 کے ذریعے مذہبی شناخت کو سیا ست اور انتظامی امور سے علیحدہ کر دیا گیا بے شک کہ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مذہبی تقریق معاشرے اور کلچر میں چرچ کی سطح تک موجود رہی اور اب بھی ہے۔

تاہم کیوبک ایکٹ اس وقت کی بات ہے جب ابھی تک برطانیہ کے اندر کیتھولک افراد کے کوئی سیاسی حقوق نہیں تھے۔ ان مثالوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ زمینی حقائق ہی سیاست کی شکل ترتیب دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مذہب کے سماجی اختیارات کی حدود متعین کرتے ہیں۔ یہ بات کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ان انقلابات نے یورپی اور شمالی امریکہ کے سماج اور سیاست میں مذہب کی حیثیت کو بدل کر رکھ دیا۔

معاشرتی اور سیاسی تجربے کے طور پر اس مقام پر ایک نیا شعور جنم لیتا ہے۔ یہاں سیاسی دائرہ کا ر اور مشترکہ سماجی میدان میں مذہب کے کردار کے بارے میں مباحث شروع ہو جاتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ اس سے پہلے مذ ہب کا دائرہ عمل ہر جگہ پہ تھا اور زندگی کی کسی بھی علامت کی تشریح مذہبی شعور کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ اب کے مشترکہ سماجی میدان عمل Public Space میں انسانی شعور مذہب کے متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ سماجی میدان کی سیکولرایزیشن ہے۔ مذہب کی سیکولرایزیشن کا ذکر آگے آئے گا۔ ویسے تو ساری سماجی تاریخ مذہب کی سیکولرایزیشن سے ہی عبارت ہے۔

یورپ اور امریکہ کے اٹھارویں صدی کے تجربات کی روشنی میں یہ سمجھنا بہت آسان ہے کہ سیکولرازم کا ارتقاء نیشن سٹیٹ یا“ قومی ریاست ”کے ارتقاء کے ساتھ رہا ہے۔ اور یہ بھی تاریخی حقائق ہیں کہ قومی ریاستوں کا ارتقاء پیداواری ذرائع کے تبدل کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس بات کے ثبوت میں ماڈرنائزیشن تھیوری کا اجمالی ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ ماڈرنائزیشن تھیوری کو اگر سیاسی نہج پر دیکھا جائے تو ہم قومی ریاست کے ارتقاء اور اس میں بسنے والے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں افکار کی جہت کا ایک نقشہ بنا سکتے ہیں جس میں ریاست، سیاست اور انسانی حقوق کا ارتقاء قریبا“ متوازی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8