سیکولرازم: مذہبی اساطیر سے روشن خیالی کی جانب تاریخ کا سفر


لفظ سیکولر سے متعلق اسی نقطے کو ایک اور طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پرانے سے پرانے انسان بھی زندگی کو جذبات اور تحت الشعور کی سطح پر محسوس کرتے رہے ہیں مگر جب انسانوں نے عقل سلیم کی بنا پر زندگی کے اصول وضع کرنے کی کوشش کی تو انہیں معلوم ہوا کہ زندگی دو طرح کے معاملات سے عبارت ہے۔ ایک وہ جس کے لئے منطقی اصول بنائے جا سکتے ہیں۔ اسے قدیم یونانیوں نے ”لوگوس Logos“ یا منطقی انداز فکر سے تعبیر کیا۔ لیکن کائنات اور حیات و ممات کے بہت سے ایسے سلسلے بھی ہیں جن کے لئے ابھی تک منطق کا کوئی اصول بھی دریافت نہیں کیا جا سکا مگر ان کی حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں۔ یونان کے حکماء نے اسے ”اسطورہ یاMythos“ کا نام دیا تھا۔ روایتی مذہب کی بنیاد بھی بہر صورت اسطورہ ہی ہے اور کئی مذہبی شارحین نے ابتدائی انسانی سوچ اور نظام فکر کے لئے اساطیرلاولین کی اصطلاح بھی استعمال کی ہے۔

یورپ کے مسیحی معاشروں میں یہ ہوا کہ عوام کو زندگی اور دنیاوی تجربے کے جن معاملات میں منطق ناکافی ہو جاتا تھا یا جن معاملات کے لئے جذباتی توثیق درکار ہوتی تھی، ان کے لئے وہ اپنے مذہب سے رجوع کرتے تھے۔ زندگی کے ان مشکل مقامات پر یورپ کے سیکولر پادری دنیاداری، روایتی مذہب اور اسطورہ کے سنگم پر ان کی حاجت روائی کے لئے موجود ہوتے تھے۔ یہ لفظ سیکولر کی ذاتی اور جذباتی سطح تھی اور زندگی میں اس کا عملی پہلو تھا جس نے آہستہ گامی سے معاشروں میں اپنی جگہ مستحکم کی۔ اسی وجہ سے یورپ میں جب مجموعی سیاست کے باب میں سیکولر انداز فکر کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کے لئے ثقافتی زمین پہلے سے ہموار تھی۔ یوں یورپ میں سیکولر سے سیکولرازم کی جانب سیاسی اور سماجی سفر کے دوران تمام ضروری عناصر ایک دوسرے کے ساتھ خود بخود ہم آہنگ ہوتے چلے گئے۔

اب صورت حال اس حد تک تبدیل ہو چکی ہے کہ سیکولرازم بذات خود ایک آزاد سماجی اکائی ہے جس کے مقابل مذہب اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں مصروف کار ہے مگر یہ ترقی پذیر معاشروں کی بات ہے۔ مادی طور پر ترقی یافتہ معاشروں میں روحانیات کی انسانی جہت کے مقابل سیکولر کو حریف نہیں سمجھا جاتا۔ انحطاط پذیر معاشروں میں سیکولر اور مذہب ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں بلکہ ایک جنگ کی صورت ہے اور اس میں مذہب جیت بھی رہا ہے جس کی سب سے واضح مثال مذہبی بنیاد پرستی یا Fundamentalism ہے۔

مذہبی بنیاد پرستی کے بارے میں بھی بہت سے مغاطے ہیں جن میں سب عام یہ ہے کہ اس کی حیئت کو سمجھنے میں سیاسی اور سماجی حقائق کو مکمل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ مذہب کی دو شکلیں ہیں۔ ایک الٰہیات کا مذہب جو کتابوں میں ہے اور دوسرے مذہب کی وہ شکل جو تاریخ میں سامنے آتی ہے۔ مذہب کی تاریخی شکل سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی حقائق کا مجموعہ ہے اور ان سے متعلق فلسفہ ہے۔ مذہبی دائروں میں رہتے ہوئے بھی انسانوں کے رہن سہن اور عمومی رویوں میں ”تاریخی مذہب“ کی شکل دکھائی دیتی ہے۔

بات سیکولرازم کی ہے مگر سماجی اور تاریخی حقائق کو سمجھنے کے لئے اس مقام پر مذہبی بنیاد پرستی کی جانب ذرا سی توجہ ضروری ہے کیونکہ مذہبی بنیاد پرستی کی نظریاتی اساس سیکولرازم کی نفی میں ہے۔ میری نظر میں مذہبی بنیاد پرستی کی ایک اچھی تعریف دانشور سکاٹ ایپل بی کی ہے کہ۔ ”یہ مذہبی جارحیت کا طے شدہ طریق کار ہے جس میں خود ساختہ حق پرست مومن اپنی مذہبی شناخت کو بربادی سے بچانے کے لئے جارحیت پر اتر آتا ہے اور اس کے لئے وہ سب سے پہلے ہم مذہب اشخاص کو اکٹھا کرتا ہے تا کہ سیکولر فکر کے آگے قابل عمل بند باندھ سکے“۔

Treaty of Westphalia 1648

اس تعریف کی روشنی میں دو باتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک بدلتے معاشرتی حالات کا جدیدیت کی جانب رخ، جس میں دنیاوی مسائل کا حل روشن خیالی کے ذریعے تلاش کیا جاتا ہے اور دوسرے اس کا ردعمل ہے جس میں کلچرل افراد Cultural Human تقدیس کا لبادہ اوڑھ کر اپنے آپ کو باختیار سمجھنے اور محسوس کرنے لگتے ہیں اور دنیاوی رجہانات کے درپے ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ تحقیقات سے سامنے آیا ہے کہ وہ معاشرے جہاں زندگی کرنے کے مسائل اور معاملات میں تبدیلی تیز روی سے آئی ہے یا وہ جگیہں جہاں معاشرے انحطاط پذیر ہیں، وہاں روشن خیالی کی جگہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی نفسیات میں ’ ”پس رفتگی Regression“ عود آئی ہے جو مذہبی بنیاد پرستی کا لازمی جزو ہے۔ مذہبی بنیاد پرستی ایک علیحدہ موضوع ہے۔ اس کی جزیات ہم کسی اور دن پر اٹھا رکھتے ہیں۔

اس وقت سماجی حقیقت یہ ہے کہ سائنس اور انسانی حقوق کے آدرش جو روشن خیالی کی دین ہیں وہ مذہبی بنیاد پرستی کی بھینٹ چڑہ رہے ہیں۔ انسانوں اور معاشروں کا سائنسی روشن خیالی سے روایت پسندی اور مذہب کی جانب مراجعت کو بنیادی حقائق یا Data کے طور پر دیکھا جائے تو مذہب اور سیکولر ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑے نظر آتے ہیں جیسے زندگی کے ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ روایت اور جدید کا آپس میں تعلق بھی اسی طرح کا ہے، یا جیسے روشن خیالی کا ”لوگوس“، قدامت پرستی کے ”اساطیر“ کی موجودگی میں ہی اپنے پورے سیاق و سباق کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ دراصل یہ توام الفاظ شعور کی تاریخی اصطلاحات ہیں جو سماجی تبدیلی کے بدلتے ہوئے حقائق کو دیکھنے اور سمجھنے کا زاویہ نظر ہیں۔

تاریخی حقیقت یہ ہے کہ مذہب انسان کی انفرادی زندگی اور سماجی زندگی غرض ہر معاملے میں دُر ریزی کا دعوے دار ہے۔ یہ ذکر پہلے بھی ہو چکا ہے کہ روایتی مذاہب سے پہلے انسانی نفسیات کی تربیت اور سماج کی تشکیل کے لئے اساطیر کا سہارا لیا جاتا تھا۔ سیکولرازم کے سماجی حوالے سے یہ نقطہ نہایت اہم ہے کیونکہ تربیت کے لئے جبلی تقاضوں پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ انفرادیت اور آزادی بھی ضروری پہلو ہیں۔ اسی وجہ سے آج کی زندگی، سماج اور سیاسیات کو ارتقائی اعتبار سے دیکھنے کے لئے بات کو بہت پرانے زمانے سے شروع کرنے کی ضرورت ہے کہ جن زمانوں کی تمام تاریخ اساطیری حوالوں سے عبارت ہے مگر میں اس سے صرف نظر کروں گا کیونکہ اپنی ذات میں یہ ایک علیجدہ موضوع ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8