سیکولرازم: مذہبی اساطیر سے روشن خیالی کی جانب تاریخ کا سفر


پرانے زمانوں میں انسان قبیلوں میں رہتے تھے۔ ان زمانوں کے ذرائع پیداور کے حوالے سے وہاں شخصی حقوق کا کوئی تصور نہیں تھا۔ کھیتی باڑی اور شکار کی زمین سارے قبیلے کی مشترکہ وراثت ہوا کرتی تھی۔ وہاں حقوق بھی پورے قبیلے کے مجموعی ہوا کرتے تھے۔ ہمارے دور میں جسے ہم ”ماڈرن“ کہتے ہیں اس دور سے پہلے بادشاہت کے زمانے تھے اور حقوق صرف بادشاہوں کے ہوا کرتے تھے۔ اس بات کی تصدیق کے لئے آج کے زمانے کا سعودی عرب ایک اچھی مثال ہے۔

ان زمانوں میں یہ بادشاہ کی صوابدید پہ تھا کہ رعایا کو کون سے حقوق دیے جائیں۔ ہمارے ماڈرن دور میں قبیلہ اور بادشاہتیں اپنا وجود کھو چکی ہیں۔ سیاست میں قومی ریاست کی نمود کے ساتھ اور اس کی وجہ سے ریاست میں حقوق کا تعین شخصی اور انفرادی ہو گیا ہے اور انسان کی شناخت سے ”بادشاہ کی رعایا“ کا لفظ معدوم ہو گیا ہے۔ رعایا کی جگہ پر ”شہریت“ ایک بنیادی اکائی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے کیونکہ سیاسیات میں انتظامی اکائی مملکت سے تبدیل ہو کر ریاست کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

آج کے دور میں اس اصول پر مکمل اتفاق ہے کہ ریاست کے اندر تمام شہری برابر ہیں اور حکومت کرنے کا استحقاق شہریوں کی رضامندی پر منحصر ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں حکمران اور ریاستی ادارے دراصل شہریوں کی ضروریات پوری کرنے لئے ملازم رکھے جاتے ہیں۔ سماجیات اور سیاسیات میں یہ نقطہء فکر و نظر راسخ ہو چکا ہے کہ حکومت کرنے کے استحقاق کے لئے مذہبی اور اساطیری حوالوں ضروت نہیں۔ سوچ کی یہ نہج روشن خیالی کی دین ہے۔ اسے ”قانون فطرت“ بھی کہا جاتا ہے جو سیاسی حوالوں کے علاوہ آئینی اور عدالتی قانون کی اساس کے طور پر بھی استعمال ہو رہا ہے اور یوں قانون بھی مذ ہب سے نکل کر سیکولر طرز فکر پر اختیار کر چکا ہے۔

مذہب کی سیکولرایزیشن

یہاں تک کی گفتگو کو سماجیات کے مشہور مفکر ہوسے کاسانوا نے اپنے تین نکات میں سمویا ہے۔ کاسانوا کے نزدیک سیکولرایزیشن در حقیقت جدیدیت کا ایک پہلو ہے۔ اس زمانے میں مذہب سماجی نہیں بلکہ ذاتی اور پرائیویٹ فعل ہو چکا ہے۔ چونکہ معاشرہ مذہب کے بغیر بھی ترتیب دیا جا سکتا ہے، اس وجہ سے انسانی معاشروں میں مذہبی عقائد کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اور اسی انداز فکر کی بنیاد پر سیاست اور مذہب بھی ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

کنیڈا کے فلسفی چارلس ٹیلر نے زمان و مکان میں پروان چڑہتے ہوئے اس نئے انداز فکر کے لئے ”سیکولر دور Secular Age“ کی اصطلاح وضع کی ہے۔ ٹیلر کے نزدیک ماڈرن زمانے میں اعتقاد کی بخیہ گری کے تجربے کی حدود یہ نہیں کہ سیکولر دور میں مذہب نے سماجی شعور سے دوری اختیار کر لی ہے بلکہ سیکولرازم ایک نئی تاریخی حقیقت ہے اور اپنی جگہ پر ایک مستند انسانی تجربہ ہے جس نے انسان کو پرانے اعتقادات کے ابہام سے نجات دی ہے۔

سیکولر اپنے مسیحی حوالوں کے ساتھ مذہب کو دنیاداری کے حقیقی مسائل کے حل کے لئے معاونت کر رہا تھا۔ مذہبی معاشرے کی اس جہت پر پروٹسٹنٹ اصلاحات کا نمایاں اثر ہے تاہم اسی زمانے پر کیتھولک فکرو نظر کے اثرات بھی تھے جنہیں نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ مذہب، سیاست اور یورپی تاریخ کے سنگم پر سیکولرازم دو طرح سے سامنے آیا۔ پہلا تو مذہب کی سیکولرایزیشن تھا اور دوسرے سیاست کی۔

مذہب کی سیکولرایزیشن کا ذکر کچھ حد تک پہلے بھی ہو چکا ہے تا ہم مذہب کی سیکولرایزیشن کا سادہ لفظوں میں مطلب یہ ہے کہ مذہب ہمیشہ سے روحانی تکمیل کا دعوے دار ہے اوراس کے لئے تاریخی طور پر راہبانیت کی راہیں بتائی جاتی رہی ہیں۔ مگر اسی طہارت قلب کے لئے مذہب کا راہبانہ طرز عمل چھوڑ کر دنیاداری کے راستے سے بھی روحانی تکمیل اور تہذیب نفس کی انتہاوں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ایسا صرف یورپ میں ہی نہیں ہوا، اسی نوع کا تجربہ قریبا ”اڑھائی ہزار سال پہلے بدھ ازم کے حوالے سے ہندوستان میں ہو چکا تھا جب مہاتما بدھ کی وفات کے دو سو سال بعد ایک کانفرنس میں بدھ ازم کو باقاعدہ دو حصوں میں تقسیم اور تسلیم کر لیا گیا۔

” ہنیانا ”بدھ ازم راہبانیت کا داعی تھا۔ یہ بعد میں آنے والے یورپ کی مسیحی راہبانیت جیسا تھا اور یہی بنیادی بدھ ازم تھا۔ ہنیانا بدھ ازم کے پیروکار تعداد میں کم تھے کیونکہ دنیا سے مکمل کنارہ کشی ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ اس کے برعکس دوسری شاخ جو“ مہایانا ”کہلائی، اس میں عوام الناس تھے جو دنیاداری کے تمام عہدو پیمان نباہتے ہوئے بھی بدھ مت میں شامل رہے۔ سماجی تجربے کا یہ پہلو مذہب کی سیکولرازیزیشن کہلاتا ہے۔ یہ تقسیم اس بات کی دلالت ہے کہ دنیا میں زندگی کے عملی پہلو بھی ہیں جنہیں مذہبی الہیات کے بندھن میں رہ کر پورا کرنا ناممکن ہے۔ یہ تو ان پیروکاروں کی ذاتی اور معاشرتی سطح تھی جس میں سیکولر انداز فکر نے اہم کردار ادا کیا۔

ریاست میں سیکولرازم کے تجربات

کثیر المذاہب ممالک میں جب ریاست کو معاشرے کی مجموئی شکل میں معاملہ درپیش ہو تو سیکولرازم کی وساطت سے ریاست مذہبی معاملات سے کنارہ کرتی ہے۔ ریاست کے اندر موجود تمام مکاتب فکر کے لئے کھلی گنجائش ہوتی ہے۔ امریکی معاشرہ اور سیاسی نظام اس کی اچھی مثال ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ امریکہ میں ڈھائی تین سو سال کے بعد ریاست سے مذہب کی علیحدگی کا قانون یا سیکولرازم نظریاتی سطح پر اتنا بنیادی تسلیم کیا جانے لگا ہے کہ اس سے رو گردانی اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ امریکہ کے ابتدائی دنوں میں البتہ سیکولرازم کی اصولی ضرورت چند تاریخی مجبوریوں کی وجہ سے پیش آئی تھی۔ امریکہ کے یورپی ورثے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ یاد رہے کہ اس زمانے میں یورپ میں تو اصول طے پا چکا تھا کہ رعایا کا مذہب وہی ہو گا جو بادشاہ کا ہے۔

نوآبادیاتی امریکہ میں ہر ریاست یورپ سے اپنا مذہبی ورثہ بھی ساتھ لائی تھی۔ اٹھارویں صدی کے دوسرے حصے میں امریکہ اور یورپ کے سیاسی حالات تاریخ کو ایک نیا رخ دے رہے تھے۔ اس وقت امریکی ریاستوں نے اقتصادی اور مادی بنیادوں پر اکٹھا ہو کر یورپ اور خاص کر برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کی مہم شروع کی اور آپس میں الحاق کر کے نیا ملک بنانے کے لئے خیال آرائَی شروع کی۔ اس وقت کئی سوالوں میں ایک سوال مذہب کی معاشرتی اور سیاسی جہت سے متعلق بھی تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8