سیکولرازم: مذہبی اساطیر سے روشن خیالی کی جانب تاریخ کا سفر
جدیدیت سے منسوب اس نظریے کے اندر انسانی حقوق کی ترقی کی کاوشوں کا لائحہ عمل ہے۔ تا ہم یہ یاد رکھنا ضروری ہے اور جیسا پہلے بھی کہا جا چکا ہے کہ سیکولرازم کے اندر حقوق کی پاس داری ریاست کی ذمہ داری ہے۔ یہ اس ریاست کے عوام پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک ریاست کو لگام ڈال کر رکھنا چاہتے ہیں تا کہ ریاست بذات خود ایک استحصالی نظام کی طرف دار نہ بن سکے۔ یہ صرف جمہوریت یا یوں کہیے کہ حقیقی جمہوریت سے ہی ممکن ہے۔ اس جگہ مجھے امریکی دانشور رائن ہولڈ ں ائبھور کا قول یاد آتا کہ“ انسان کے اندر انصاف کی صلاحیت جمہوریت کی جوت جگاتی ہے مگر انسان کے خمیر میں بے انصافی کے امکانات اور رجحانات بھی موجود ہیں، جن کی وجہ سے معاشرے میں جمہوریت کا قیام از حد ضروری ہے“۔
اسلامی ممالک یا مشرق میں سیکولرازم سے متعلق غلط فہمی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ سماجی روریہ اور تعلیم کی کمی تو ایک جانب، دانشور بھی سیکولرازم کو جدیدیت اور روشن خیالی کے معنوں میں دیکھنے کی بجائے صرف مذہبی عقائد کی ضد کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لیکن اوپر کئی گئی بحث سے ظاہر ہے سیکولرازم کے اندر انسانوں کی برابری کے آدرش ہیں اور اس کے اندر ریاست ایک بنیادی کڑی ہے جسے مضبوط تو ہونا چاہیے مگر“ ریاست ”کو اس میں بسنے والے شہریوں کا طابع ہونا چاہیے۔
توجہ طلب سوال یہ ہے کہ ریاست کو سیکولرازم کا محافظ بنانے کے لئے کیا درکار ہے؟ اس بات کا جواب دوبارہ سے ہمیں جمہوریت کی راہ دکھلائے گا مگر یہ صرف عامیانہ جمہوریت کی بات نہیں جو صرف الیکشن کی گنتی تک محدود ہو، یہ حقوق کی جمہورت، سماج کی اور معاشی جمہوریت کا لائحہ عمل ہے۔ سماج میں معاشی جمہوریت کو بعض لوگ سوشل ازم کا نام بھی دیتے ہیں اور اس میں حرج بھی کیا ہے۔
ہمارے مشرقی ممالک میں سیاسی اور جمہوری عمل کی کمزوری اور نتیجتا“ قانون اور دیگر سماجی معاملات میں بگاڑ دراصل معاشی اور اقتصادی نظام کی تباہ حالی کی علامات ہیں۔ دنیا کے اور بہت سے ممالک اس کی مثال ہیں۔ یہ نقطہ کارل مارکس نے بہت زمانہ پہلے واضح کیا تھا۔ ماڈرنائزیشن تھیوری کے تناظر میں سیاسی نظام، قانون اور سماجی قدروں کا سیکولرازم کی جانب سفر معاشی ترقی کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ مگر اس سارے قصے کے اندر کلچر میں تبدیلی کا عمل، میری مراد ہے کہ مذہبی سماج اور مذہبی کلچر میں سیکولر تبدیلی کا عمل نہایت سست روی سے طے ہوتا ہے۔
تحقیق سے واضع ہوا ہے کہ کلچر میں تبدیلی کا عمل نسلوں پر محیط ہوتا ہے۔ اس کے لئے نہ کوئی آسان راستہ ہے اور نہ ہی اس عمل کو تیز تر کرنے کی کوئی تر کیب۔ سماجی قدروں میں تبدیلی سے متعلق تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ یہ تبدیلی نسلوں کے بعد آتی ہے اور وہ بھی اس صورت میں کہ سیاسی اور معاشرتی حالات ساز گار رہیں۔ اس کے باوجود اگر روشنی کی کوئی کرن ہے تو وہ تعلیم ہے۔ اور تعلیم بھی وہ جو بچوں کو آزادانہ سوچنے کے قابل بنائے تا کہ وہ مستقبل میں سماجی تجزیے کے لئے اور انسانیت کے نئے کلچر کے خد و خال واضح کرنے کے لئے اسطوریات کی بھول بھلیوں میں راہیں تلاش کرنے کی بجائے تعقل کو بنیاد بنا سکیں۔ یہ انداز فکر ہی دراصل سیکولرایزیشن ہے۔


