مدینہ منورہ سے واپسی کا سفر اور گدڑی کے لعل


میں اس وقت دبئی ائرپورٹ پر اپنی فلائٹ کے انتظار میں بیٹھی ہوں۔
سوچا تو تھا کہ چار گھنٹے کے طویل ٹرانزٹ میں نامکمل چھوڑا ہوا ایک آرٹیکل مکمل کروں گی۔
مگر بس دل چاہ رہا ہے کہ مدینہ سے دبئی تک دو گھنٹے کی فلائٹ کا چھوٹا سا سفرنامہ لکھوں۔

مدینہ یا جدہ سے فلائٹ پکڑو تو آپ کو ایک اور ہی ہجوم ٹکرائے گا۔
بہت سے پہلی بار جہاز کا سفر کررہے ہوتے ہیں۔ بہت سے پہلی بار عمرہ کرکے یا مدینے میں سرکارﷺ کے حضور سلام پیش کرنے کے نشے میں اونچا اونچا اُڑ رہے ہوتے ہیں اور اس کیفیت میں انہوں نے اپنا حلیہ بھی مصنوعی اور عربی بنایا ہوا ہوتا ہے۔
اکثریت غریب، میلی، انگوٹھا چھاپ یا برائے نام پڑھی لکھی ملے گی۔
اگر فلائٹ ایمرٹس کی ہے تو پھر دبئی تک کئی اور ہمارے آس پاس کے ملکوں کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔
جیسے بنگلہ دیشی، انڈین، برمی وغیرہ۔
یہ مسافر اپنی ایکسائٹمنٹ میں اتنے لاؤڈ ہورہے ہوتے ہیں کہ جہاز مچھلی مارکیٹ کا منظر بن جاتا ہے۔ عملہ بڑی جفاکشی کے بعد انہیں نشستوں پر بٹھانے میں کامیاب ہو پاتا ہے۔

اکثر مرد تازہ تازہ گنجے ہوئے ہوتے ہیں۔ تازہ تازہ داڑھی بڑھائی ہوتی ہے۔
غور سے دیکھو تو سب مردوں کا سینہ فخر سے یوں پھولا ہوا ہوگا، جیسے ابھی ابھی میلہ لوُٹ کر لوٹے ہوں!

ایسے میں اگر مجھ جیسی عورت کو سیٹ ایسی ملے کہ اسے اس طرح کے مسافروں کے بیچ میں گھس کر بیٹھنا پڑے تو گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔
اس بار بھی میری ساتھ والی سیٹ پر سادہ سے داڑھی والے بنگالی مولوی کو دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں ناک سُکیڑ لی کہ اب اس کے ساتھ جُڑ کر بیٹھنا پڑے گا!
ہر پاکستانی لبرل عورت کی طرح مجھے بھی مولوی دکھتے چہرے سے خواہ مخواہ کی جھنجھلاہٹ محسوس ہوتی ہے، جیسے ہر برائی کا ذمہ دار وہی ہو!

اپنی سیٹ پر بیٹھنے کے بعد خود پر ذرا غور کیا تو حیرت بھی ہوئی کہ آج میرا موڈ خاصا سرنگوں ہے!
اپنی بے وقعت اوقات کے دائرے میں ہے!
اردگرد کے لوگ مجھے اچھے لگ رہے ہیں!
میں بھی ابھی کچھ دیر پہلے سرکارﷺ کے حضور الوداعی سلام پیش کرکے آ رہی تھی اسی لیے شاید میرے پر اونچی اڑان پر آمادہ نہ تھے ابھی۔

دائیں جانب راہداری (aisle) کے دوسری طرف بیٹھا نیا نیا مولوی بنا نوجوان اور اس کا آٹھ نو سالہ بے قابو ہوتا بیٹا اور خوشی سے پھولی نہ سماتی پندرہ سولہ سالہ بہن مجھے مسکراہٹ دے رہے تھے۔
بیٹا چیخ چیخ کر باپ کو بتا رہا تھا کہ پپا۔ پپا۔ دیکھو اتنے سارے جہاز کھڑے ہیں باہر! پپا۔ پپا۔ کھانا ملے گا نا؟
اس کی بہن چیخ رہی تھی کہ بھائی جان پٹے باندھ لو۔ جہاز اڑنے کو ہے۔
پچھلی نشستوں پر باقی کی فیملی بیٹھی تھی۔
سب آپس میں آگے پیچھے چیخ چیخ کر مخاطب تھے کہ سر تو نہیں چکرا رہا نا؟
بچے نے زور سے جھوٹ موٹ کی ابکائی لے کر کہا مجھے الٹی آ رہی ہے۔
پیچھے سے ماں چلّائی۔ روک روک۔

جہاز مدینے کی زمین سے ٹیک آف کرنے لگا تو نوجوان مولوی نے پوری فیملی کو اونچی آواز میں ہدایات جاری کیں کہ سب استغفار پڑھو۔ اونچی آواز میں استغفار پڑھو۔ پھر خود بھی ہل ہل کر استغفار پڑھنے لگا۔
میں بھی اس کی دیکھا دیکھی مسکراتے ہوئے استغفار پڑھنے لگی۔

مجھے اچھا لگ رہا تھا کہ یہ فیملی زندگی کے ایک نئے تجربے سے گزر رہی ہے!
برسوں یہ تجربہ انہیں تازگی دیتا رہے گا۔
یقیناﹰ پیسہ جوڑ جوڑ کر ہی نکلے ہوں گے! کچھ ادھار بھی لیا ہوگا!
یہ بچے امریکہ یورپ تو نہیں جاسکتے فی الحال!
نہ ہی وہاں کے ویزا کے معیار پر پورا اترنا ابھی ممکن ہو شاید!

مگر مکہ مدینہ کے دروازے تو کھلے ہیں نا!
پوری گرمجوشی سے وا ہیں!
وہاں موجود جدید دنیا کا بھی لطف لینے کا انہیں سو فیصد حق ملا ہوا ہے۔

پھر جہاز کا سفر تو دل لبھانے والا ہوگا ہی مگر محلے اور رشتہ داروں میں ان کا بے حیثیت وجود مدینے کی سرکار ﷺ سے حیثیت کا سرٹیفکیٹ لینے کے بعد اب یہ یقین لیے ہوئے ہوگا کہ ہم اتنے بھی بے حیثیت نہیں!
دنیا کے امیر و کبیر لوگ ہمیں گھاس نہ بھی ڈالیں تو کیا ہوا!
یہ دیکھو ہم دو عالم کے بادشاہ کے حضور حاضری دے کر آئے ہیں۔ ہم سے حساب بھی نہیں طلب کیا۔ بڑی دیر کھڑے رہے۔ ہر روز جاکر کھڑے ہوجاتے۔ خوب دل کی باتیں کیں۔ وہ بھی جو دنیا والے سننا گوارا بھی نہیں کرتے۔

سوچتی رہی کہ یہ ایک ایسے سماج کے لوگ ہیں، جہاں فرد کی کوئی حیثیت نہیں۔ غربت تو سمجھو پیشانی پر لگا داغ ہے کہ دھلے نہیں دُھلتا۔ اوپر سے تعلیم سے محرومی اور اس محرومی کے جرم میں روزگار سے بھی عاق!
لے دے کر مسجد و مدرسے سے پورا قرآن پڑھ لو اور آٹھ دس سورتیں بھی یاد کرلو، مگر شمار جاہلوں میں ہی ہوگا!

باقی رہے نام اللہ کا۔
وہ تو نہیں دھتکارے گا نا۔
کیا عالیشان گھر ہے اس کا!
خوب چوما۔
ہر چکر پر چوما۔
ہر بوسے پر دعا مانگی۔

وہ دعا بھی مانگی جو اگر زمانہ سن لے تو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجائے!
پر اس نے خاموشی سے سن لی۔
سنی تو سہی نا!
قبول بھی کرلے گا
ان شا اللہ

جہاز فضا میں بلند ہوا ہی تھا کہ مجھے نیند آگئی۔ میرے ساتھ جُڑے بیٹھے بنگالی مولوی صاحب کی بار بار لگتی کہنی ڈسٹرب بھی کررہی تھی۔
دل چاہا ڈانٹ دوں کہ ٹھیک سے بیٹھو۔ داڑھی رکھ لی ہے مگر عورت کے ساتھ بیٹھنے کی تمیز نہیں!
مگر نیند اتنی گہری تھی کہ کھانا دیتی ائرہوسٹس سے بس پانی کا ایک گلاس لے لیا۔ کچھ پیا اور کچھ گلاس میں پکڑے پکڑے پھر نیند میں غٹرغوں!

اچانک مولوی نے نیند کی حالت میں ہی میرے ہاتھ سے گلاس لینے کی کوشش کی ہی تھی کہ آنکھ کھل گئی۔
اب شاید میں اپنی اصلیت پر آ چکی تھی!
یوں بھی مدینے کا نشہ دنیا کی طرف پلٹتے ہی ہرن ہوجاتا ہے۔
میں نے مولوی کو گھوُرا اور ہلکا سا ڈانٹ دیا۔
جواب میں وہ مسکرا کر بولے پانی گرجائے گا آپ پر۔
میں اب بھی rude تھی۔ کہہ دیا کہ گرنے دیں۔ مگر ایسے نہیں کرتے۔

جواب میں انہوں نے نرمی سے مسکراتے ہوئے اپنائیت سے پوچھا، پاکستانی ہیں آپ؟
جی
میں بنگلہ دیشی ہوں
اچھا
پھر پتہ نہیں کیسے ایک پاکستانی اور ایک بنگلہ دیشی کی گفتگو شروع ہوگئی۔
وہ مجھے ڈھاکہ میں اپنے گھر کی تصویرں دکھا رہا تھا۔
اپنی ایک سو تین سال عمر کی ماں کی تصویر۔
بغیر بلاؤز ساڑھی میں لپٹی بوڑھی عورت۔ اس کے گھر کے آگے بنا تالاب جو اپنی ماں کے نہانے کے لیے اس نے بنوایا ہے کہ اسے تالاب میں نہانے کی عادت ہے۔ غسل خانہ اسے سمجھ نہیں آتا۔ اسی تالاب میں رہتی مچھلیوں کی تصویر۔ بیوی اور بیٹی کی تصویر۔

پھر ماضی کی باتیں۔
بنگلہ دیش کا بننا۔
مجیب الرحمان۔
پاک فوج۔

اچانک میں نے دیکھا مولوی کی ساتھ والی سیٹ پر برقع میں ملبوس سادہ سی پاکستانی عورت نے اپنا رُخ ہماری طرف موڑ لیا۔
اب وہ بھی ہمارے ساتھ سیاسی گفتگو میں حصہ لے رہی تھی۔
لہجے سے پتہ چل گیا کہ جنوبی پنجاب کی سرائیکی ہے۔
ایک عام عورت مگر حیران کرنے کی حد تک خوداعتمادی سے گفتگو میں حصہ لیتی ہوئی۔

اب ہم تینوں خطے کی سیاست پر باتیں کررہے تھے۔
جنگ اور امن کی باتیں۔
حقوق کی باتیں۔
قوموں کی حق تلفیوں کی باتیں۔
سپرپاورز کے دباؤ کی باتیں۔
جہاد کے نام پر انتہا پسندی پر باتیں۔
ہم تینوں جیسے پرانے دوست بن چکے تھے۔

بنگالی مسافر کو بھٹو سے شکوہ تھا۔
سرائیکی عورت اس سے متفق نہیں تھی، بلکہ شکوہ کررہی تھی کہ حسینہ واجد نے جماعت اسلامی کے رہنما کو پھانسی چڑھا دیا۔
بنگالی مولوی صاحب اسے سمجھانے لگے کہ پاکستانی فوج کے لیے جماعت اسلامی والوں نے مخبری کی تھی۔ ڈاکٹروں، صحافیوں، انجینئروں، پرفیسروں اور اسکالروں کی نشاندہی کرکے انہیں مروا دیا۔
آپ کو پتہ ہے نا ایک ڈاکٹر کتنے برسوں میں تیار ہوتا ہے اور کتنی جانوں کو اس کی ضرورت ہوتی ہے!
سرائیکی عورت نے مسکرا کر اس کی بات سے اتفاق کیا۔

اچانک بنگالی دوست نے مجھ سے پوچھا آپ کیا کام کرتی ہیں؟
میں نے لمحہ بھر سوچا کہ کیا کرتی ہوں؟ پھر جھجکتے ہوئے بتایا کہ رائٹر ہوں۔ سرائیکی ہم سفر نے چونک کر نام پوچھا۔ نام بتایا تو وہ مجھے پہچان گئی۔
پھر بات خواتین ناول نگاروں پر آگئی کیونکہ اس نے انہیں خاصا پڑھ رکھا تھا۔

پچھلے ایک عرصے سے عمیرہ احمد اور نمرہ احمد پر چلتی لے دے کا سوچ کر میں نے اس سے ان خواتین ناول نگاروں سے متعلق پوچھا کہ کیسا لکھتی ہیں؟
جواب میں اس نے زیادہ اچھا لکھنے کے حوالے سے ایک اور نام سائرہ رضا کا لیا۔
میں نے پسند کی وجہ پوچھی تو جواب میں اس نے بڑی سادگی سے بڑے پتے کی بات کہی کہ لکھنے والے کو سادہ الفاظ میں بڑی بات کہنی چاہیے تاکہ عام پڑھنے والے تک وہ پہنچ سکے۔

پھر ہم تینوں مذہب کے موضوع پر آگئے۔ اور مذہب سے جو موضوع نکل آیا وہ محبت کا تھا۔
بنگالی مولوی چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہہ رہا تھا کہ کرکٹ میچ میں ہم پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں۔

ابھی جنگ کے حالات میں ہم پاکستان کی طرف تھے۔ آج اگر ہم ایک ہوتے تو انڈیا کی مجال نہیں تھی بات کرنے کی۔ پاکستان نے پائلٹ پکڑا تو ہم بہت خوش ہوئے۔
وہ بار بار عمران خان کے لیے پسندیدگی کا اظہار کررہا تھا جبکہ اچھے حکمران کے لیے حسینہ واجد کی مثال دیتا رہا، ایک سخت اور ڈٹے رہنے والی ایڈمنسٹریٹر کے طور پر۔
وہ خود اتنا پڑھا لکھا نہیں تھا مگر بتا رہا تھا کہ میں نے بیٹیوں کو پڑھایا ہے۔ ایک بیٹی اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن جارہی ہے۔ وہ بہت اچھی انگریزی بولتی ہے۔ مگر میں نے اسے خاص طور پر کہا ہے کہ انگریز نہ ہوجانا۔ ہم بنگالی ہیں۔ بنگالی رہنا اور اپنے دین پر قائم رہنا اور باہر کے لوگوں کو انگریزی میں بتانا کہ مسلمان اچھے ہوتے ہیں۔ ہمارا دین ہمیں انسانوں سے محبت سکھاتا ہے۔

سرائیکی عورت بتانے لگی کہ میں نے اپنے بیٹے کو قرآن حفظ کروایا ہے۔ اب وہ ایف اے کررہا ہے اور میری خواہش ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔
اس کا پسندیدہ موضوع سرائیکی صوبہ تھا کہ کس طرح ان کا حق دوسرے کھا جاتے ہیں اور یہ محروم رہ جاتے ہیں۔
کہنے لگی کہ جب میں بیٹی کو پہلی بار لاہور لے گئی تو وہ لاہور دیکھ کر حیران رہ گئی کہ یہ پنجاب ہے!
میں چاہتی ہوں کہ میرے بچے اپنی قوم کا حق پہچانیں اور اس کے لیے بات کریں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 97 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah

1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments