جاپان کی قید میں میرے ابا


اپنے انتقال سے قبل وہ اکثر اپنے طبی معائنے کے لیے راولپنڈی میں ہمارے گھر قیام فرماتے۔ نماز فجر سے کافی پہلے بیدار ہو جاتے۔ چاہے کے ساتھ ہلکا سا ناشتہ کرتے۔ اکثر ان کی خواہش ہوتی کہ صدر راولپنڈی کا چکر لگائیں جہاں ان کی جوانی کے بہترین ماہ وسال بیتے تھے۔ گھر میں ہم ایک دوسرے سے بات بہت کم کرتے۔ اکثر ٹی وی دیکھتے یا پھر اخبار پڑھتے لیکن گاڑی میں بیھٹتے ہی ابا کے حافظے کی سکرین پر بیتے دنوں کی یادیں یک لخت فلم کی طرح نمودار ہوجاتیں۔ جزئیات کے ساتھ پوری کہانی بیان کرتے۔ موبائل پر دفتر سے یا کسی دوست کا فون آجاتا تو میرا خیال ہوتا کہ اب ابا جی کی لائن کٹ جائے گی یاخیال بھٹک جائے گا لیکن کیا مجال کہ بھولتے۔ سلسلہ گفتگو جہاں ٹوٹتا وہاں سے ہی دوبارہ شروع کرتے۔

ایک دن کہنے لگے کہ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں بمبئی سے ہماری یونٹ کو سنگاپور کے لیے بھیجا گیا تو بحری جہازکے سفرمیں کتنے دن صرف ہوئے لیکن یہ کوئی تین ہفتوں سے کم نہ تھے۔ ہمارے ساتھ کچھ انگریز افسر بھی تھے اور ان کی بیگمات بھی۔ وہ شطرنج اور اسنوکر کھیلتے۔ سرشام بادہ نوشی کرتے۔ ہم ہندوستانی بھی اپنا زیادہ وقت گپ بازی میں لگاتے۔ سرگودھا اور گجرخان کے کافی فوجی ساتھی بن گئے تھے۔

تین ہفتے بعد سنگاپور کی بندرگاہ پہ ہماری یونٹ اتری تو ہمارا والہانہ استقبال کیا گیا۔ کوئی گمان بھی نہیں کرسکتا تھا کہ اگلے چند ماہ میں ہمیں جنگی قیدی بنا لیا جائے گا۔ ہمارے ساتھیوں کو جاپانی زندہ ذبح کریں گے اور ہم بے بسی کی تصویر بنے یہ مناظر دیکھیں گے۔ خوف کے مارے اپنے ہی ساتھیوں کے لیے رحم کی بھیک بھی نہ مانگ سکیں گے۔

جزیرہ نما سنگاپورکو انگریز مشرق بعید کا جبرالٹر بھی کہتے تھے۔ یہ انگریروں کا بہت مضبوط دفاعی حصار تھا۔ وہ اس کے دفاع کے بارے میں ذرا بھر فکر مند نہ تھے۔ سنگاپور میں داخل ہونے کا ایک ہی زمینی راستہ تھا۔ برطانوی نیوی جاپانیوں پر زبردست برتری رکھتی تھی۔ شاہی بحری بیڑا دنیا کے بہترین ہتھیاروں اور تربیت سے آراستہ سنگاپور کی حفاظت پر معمور تھا۔ اس کے باوجود فروری 1942 کوجاپانیوں نے سنگاپور پر قبضہ کرلیا۔

وہ زمینی راستہ سے بغیر بڑے ہتھیاروں کے سنگاپور میں داخل ہوئے۔ لگ بھگ ستر ہزار انگریز، آسڑیلین اور ہندوستانی فوجی قیدی بنالیے۔ اباجی بھی چالیس ہزار ہندوستانی فوجیوں کے ہمراہ جاپان کے قیدی بن گئے۔ جاپانی آدم خود بھی تھے۔ ابا بتاتے کہ ان کے کئی ساتھیوں کو ذبح کرکے کھایا گیا۔ جو بیمار پڑتا اسے گولی ماردیتے۔ اکثر ان دنوں کو یاد کرتے اور اللہ تعالے کا شکربجالاتے کہ اس نے کرم کیا انہیں حفظ وامان میں رکھا۔

گائے جاپانیوں کے ظالمانہ سلوک کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوجاتے۔ ان کے کئی ایک ساتھیوں کو جاپانیوں نے سرعام قتل کیا۔ قیدیوں کو فائرنگ رینج میں لے جایا جاتا اور ان پر نشانہ بازی کی جاتی۔ جاپانی معمولی غلطیوں پروحشیانہ تشدد کرتے۔ چھوٹی سی جگہ پر سینکڑوں لوگوں کو مقید کیا جاتا۔ کھانے پینے کی اشیاء کی سخت قلت تھی۔ اکثر چاول اور نمک کھانے کو دیا جاتا۔ بھوک اور پیاس سے کئی ایک ہندوستانی قیدی جاں بحق ہوگئے۔

جاپانی فوج آندھی اور طوفان کی طرح سنگاپور میں داخل ہوئی۔ عام شہریوں کا قتل عام کیا۔ خاص طور پر چینی النسل لوگوں کو چن چن کر ہلاک کیا گیا۔ شہر نعشوں سے اٹا پڑا تھا۔ حتیٰ کہ لاشوں سے تعفن اٹھنے لگا۔ بیماریاں پھیلنے لگیں اور خود جاپانی بھی بیمار پڑنے لگے۔ ابا بتاتے ہیں کہ ایک دن جاپانی فوجیوں کا ایک دستہ ہمارے کیمپ میں داخل ہوا تو چار سو سناٹا چھا گیا۔

قیدی سرجھکائے، کن اکھیوں سے ان کی طرف دیکھتے۔ نظریں چار کرنے کی کسی میں ہمت نہ تھی۔ دل کی گہرائیوں سے سلامتی کی دعا نکلتی کہ اے مالک دوجہاں ہماری حفاظت فرما۔ اتنے میں کیمپ کمانڈر نے چلا کر پوچھا: کون ہے جو گاڑی چلا سکتا ہے؟ میرے ایک ساتھی کھڑے ہونے لگے تو میں نے کھینچا اور سرگوشی میں کہا: مارے جاؤگے، بیٹھ جاؤ۔ کیمپ میں سسک سسک کرمرنے سے بہتر ہے کہ کھلی فضا میں ان آدم خوروں کے ہاتھوں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھوں۔

یہ سن کرمیں بھی کھڑا ہوگیا۔ دائیں بائیں سے اور بھی لوگ آتے گئے۔ دس بارہ افراد کا ایک گروہ بن گیا۔ برطانوی فوج کی چھوڑی ہوئی گاڑیاں ہمارے سپرد کی گئی۔ شہربھر کی نعشیں ٹھکانے لگانے کا حکم دیاگیا۔ برطانوی اور ہندوستانی فوجیوں نے پسپا ہوتے وقت تیل اور خوراک کے ڈپوؤں میں آگ لگادی تھی۔ گاڑیاں بھی جلادی تھیں۔ پھر بھی بہت سی بچ گئیں جو ہمارے کام آئیں۔

اگلے تین برس تک ہماری زندگی کچھ سہل ہوگئی۔ ہم جاپانیوں کی طرف سے ملنے والا راشن کیمپ میں لاتے اور قیدیوں میں بانٹ دیتے۔ کیمپ میں موجود اپنے ساتھیوں کو دیکھتے تو دکھ کی ایک ہوک سی اٹھتی۔ خاندان سے کوئی رابطہ تھا۔ نہ کوئی خیر خبرکی اطلاع۔ دشمن کی قید میں موت ہر دم ہمارا تعاقب کرتی۔ کوئی پرسان حال نہ تھا صرف ایک خدائے ذوالجلال کی ذات تھی جس سے زندگی اور ایمان کی سلامتی کی بھیک مانگتے۔

ہنوستانی قیدیوں کو ایک جگہ رکھا گیا جب کہ انگریزوں کو ہم سے الگ کردیا گیا۔ جاپانیوں نے بڑی ہوشیاری سے ہمارے درمیان پھوٹ ڈال دی۔ کچھ ہندوستانی لیڈرجو جاپانیوں کے ساتھ کام کرتے تھے ہمارے کیمپوں میں آتے اور قائل کرنے کی کوشش کرتے کہ ہم ہندوستان کی آزادی کے لیے لڑیں۔ جنگی قیدی کی صعوبتوں سے بچنے کی خاطر ہندوستانی فوجی کی ایک اچھی خاصی تعداد جاپانیوں کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف لڑنے کے لیے چل نکلی۔ آزاد ہند فوج کی تشکیل کا اعلان ہوا۔ آزاد ہند فوج نے سنگاپور میں اپنی جلاوطن حکومت بھی قائم کرلی تھی۔ کچھ کیمپوں میں سبھاش چندر بوس نے خود بھی خطاب کیا لیکن ہم پونچھ کے لوگوں کو ہندوستان سے کچھ زیادہ دلچسپی تھی اور نہ ان کی تحریکیوں سے۔ ہم نے اپنی الگ دنیا آباد رکھی تھی جس کا مرکز ومحور ہماری دھرتی ماتا پونچھ تھا۔

جولائی کے آخر میں ہمارے کیمپ کے ایک فوجی جو غالبا پٹالیہ کے کسی قریبی دیہات کے باسی تھے اور ”باباجی“ کے نام سے مشہور تھے ، اپنا زیادہ وقت عبادت اور ذکر اذکار میں گزارتے، کہنے لگے : خواب میں دیکھا ہے کہ جاپانی فوجیوں پر آگ برس رہی ہے۔ ہم لوگ سرشام ان کے گرد جمع ہوجاتے۔ اکثر قیدی اپنے بچوں اور خاندان کے لیے ان سے دعا کراتے۔ وہ زیادہ گفتگو نہ کرتے۔ قید کی صعوبتوں اور جسمانی اذیتوں نے انہیں ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا دیا تھا۔

بعض اوقات رات بھر ذکر اور نوافل ادا کرتے لیکن پہنچے ہوئے بابے تھے۔ جاپانی بھی ان کی روحانی کرامتوں سے مرعوب تھے۔ ان کی بات سن کر ہم میں سے اکثر زیر لب مسکرا دیے کہ کہاں جاپانی اور کہاں یہ گورے! جاپانی اپنے آپ کو سخت جنگجو قوم ثابت کرچکے تھے۔ ہتھیاروں اور ٹکنالوجی کی کمیابی کے باوجود اتحادی فوجوں پر بھاری تھے لہٰذا ہمیں امید نہ تھی کہ انہیں کوئی شکست دے پائے گا۔ باباجی پہنچی ہوئی ہستی تھے۔ داڑھ کا درد ہو یا آدھے سر کا وہ دم کرتے تو افاقہ ہوجاتا۔ ہر وقت ان کے گرد بھیٹر لگی رہتی لیکن موصوف ہجوم نہیں ، خلوت پسند تھے۔

ابا کے جنگی قیدی بننے کی خبر دادی اماں پر بجلی بن کر گری۔ سب سے چھوٹے ہونے کے باعث وہ ان کے چہیتے بیٹے تھے اور انتہائی ایثار کیش بھی۔ ایک دن گاؤں میں خبر آئی کہ دادی کی بھاوج کے بھائی گل حسین ، جو ابا کے ساتھ سنگاپور میں قیدی تھے، جاپانیوں کے مظالم سہہ نہ سکے اور دم توڑ گئے۔ یہ خبر سنتے ہی دادی کو ایک دائمی چپ لگ گئی۔ کھانا پینا کم کردیا۔ زیادہ وقت ذکرو اذکار میں گزارتیں۔ دلجوئی کے لیے قریبی رشتے دار اور اہل محلہ ان کے اردگرد جمع رہتے لیکن انہیں کسی سے کوئی غرض نہ تھی۔ بیٹے کی قید اور وہ بھی جاپانیوں جیسے خطرناک دشمن کے ہاتھوں میں انہیں دیمک کی طرح چاٹ رہی تھی۔ ہر دم بارگاہ ایزدی میں نم ناک آنکھوں سے دست دعا بلند کرتیں اور اپنے لاڈلے کی سلامتی کی مناجات کرتیں۔ ان کی زندگی کے شب و روز صرف اور صرف بیٹے کی یاد اور رب تعالے سے دعائے نجات میں گزرتے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

ارشاد محمود

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2 3

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ershad.mahmud@gmail.com

irshad-mehmood has 178 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood