جاپان کی قید میں میرے ابا


راولاکوٹ شہر اس زمانے میں ایک چھوٹا سا قصبہ ہوتا تھا۔ کاروبار اور سرکاری ملازمتوں پر ہندووں کی اجارہ داری تھی۔ لوگ ساہوکاروں کے چنگل میں بری طرح جکڑے ہوئے تھے۔ اس کے باوجودمذہبی منافرت سے یہ علاقہ پاک تھا۔ ہمارے گھر کے قریب سے ایک تنگ اور پتھریلا سا راستہ گزرتاتھا جس پر گاؤں والے راولاکوٹ شہر کا سفر کرتے۔ سڑک کا کوئی نام ونشان نہ تھا۔ البتہ چالیس کی دہائی میں راولاکوٹ شہرکی مرکزی مسجد پر ٹین کی چھت تھی۔ کچھ سابق فوجیوں بالخصوص صوبیداروں کے اچھے گھرہوتے تھے باقی لوگ مٹی کے کچے گھروں میں رہتے۔ راولاکوٹ میں ڈاکخانہ قائم تھا جہاں سپاہیوں کے خط اور منی آڈرآتے۔ علاقے کے اکثر نوجوان فوج میں نوکری کو ترجیح دیتے۔ یہ نوکری نہ صرف پکی ہوتی بلکہ بعدازملازمت پنش بھی ملتی۔

بازار میں کچھ دکانداروں کے پاس ریڈیو تھا۔ کاروبار اور تجارت کی غرض سے وہ پونچھ اور راجوری کی طرف سفر کرتے جہاں سے غلہ اور اشیائے صرف لاتے۔ پونچھ ایک متمول شہر تھا۔ راجہ پونچھ کا محل دریا کے کنارے واقع تھا۔ اس کا نظارہ بڑا دلکش تھا۔ پونچھ میں سرکاری اہکاروں کی بھی ایک فوج ظفر موج پائی جاتی تھی۔ تاجروں کوسرکاری ملازمین یا دیگر باخبر لوگوں سے برطانوی فوج کے ہمراہ دنیا کے مختلف محاذوں پر لڑنے والے جوانوں کے بارے میں کافی معلومات مل جاتی تھیں۔

تایا سردار خان راولاکوٹ تو اکثر جاتے لیکن بسا اوقات ہجیرہ بھی چلے جاتے جو پونچھ شہر سے آٹھ میل کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔ یہاں بڑی تجارتی منڈی ہوتی تھی۔ وہ اناج لینے آتے تو واپسی پر کوئی نہ کوئی خبر دادی اماں کے لیے لے آتے۔ محاذ جنگ سے خبریں کچھ زیادہ اچھی نہیں مل رہی تھیں۔ برطانیہ کی زیر قیادت فوج کی حالت پتلی تھی۔ جرمن اور جاپانی فوجیں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی تھیں۔

پونچھ سے برطانوی حکومت نے کرنل خان محمد خان کو دہلی بلایا اور کہا کہ وہ جوانوں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے سرکاری ریڈیوپر تقریریں کریں۔ علاقے کے حالات سے بھی انہیں باخبر کریں۔ خان محمد خان ہمارے علاقے کی اساطیری شخصیت تھے۔ ایثار کیش اور بے نفس انسان۔ اپنے لیے کم اور دوسروں کے لیے زیادہ سوچتے۔ پہلی جنگ عظیم میں شریک ہوئے ، قطر اور عراق کے محاذوں پر داد شجاعت دی۔ انگریزوں نے فوجی اعزازات سے نوازا۔ جواب میں انہوں نے اپنے گاؤں چھچن (پلندری) میں پرائمری سکول مانگا۔ انگریز ریذیڈنٹ سے پلندری تا آزادپتن تک سڑک نکالنے کی فرمائش کی۔ ان کی دونوں فرمائشیں خوش دلی سے منظورکی گئیں۔

لوگ انہیں محبت اور عقیدت سے ”خان صاحب“ کہہ کر پکارتے۔ دوراندیش خان صاحب نے پونچھ سے نوجوانوں کی بڑی تعداد کو ہندوستانی فوج میں بھرتی کرایا۔ کہا کرتے تھے : ایک دن یہ آزادی کے مجاہد بنیں گے۔

جن دنوں ہزاروں پونچھی نوجوان دنیا کے مختلف محاذوں پر معرکہ آرائی میں مصروف تھے یا جاپانیوں کے جنگی قیدی ، خان محمد خان عساکر کے کنبوں کی خبر گیری کرتے۔ ان کا حوصلہ بڑھاتے۔ بعدازمرگ انہیں بابائے پونچھ کے لقب سے پکارجاتا ہے۔ وہ سر پر سفید پگڑی باندھتے، لٹھے کی شلوار پہنتے اور گھوڑے پر سواری کرتے۔ ان کے بڑھاپے کی تصویر دیکھ کران کی رعب دار شخصیت کا بخوبی اندازہ ہوتاہے۔ بوڑھی آنکھیں اور لمبے لمبے ہاتھ، کشادہ پیشانی اور چوڑا سینہ دیکھ کر پتہ چلتاہے کہ وہ ایک شان دار اور خلق خدا سے محبت کرنے والے بزرگ تھے۔

گاؤں میں دادی اماں جنہیں خاندان میں ”دددو“ کہاجاتاتھا۔ ذکر الہی میں مصروف رہتیں۔ بیٹے کی جدائی نے ان کا دل دنیا سے اچاٹ کردیا تھا۔ رب العالمین کی بارگاہ میں وہ سجدہ ریز ہوکر صاحبزادے کی سلامتی کی طلب گار رہتیں۔ پکی روٹی، نورنامہ اور عہد نامہ جو اس زمانے کی پنجابی کی مشہور مذہبی کتابیں تھیں ان کے زیر مطالعہ رہتیں۔ ان کے کچھ بول اب بھی میرے کانوں میں رس گھولتے ہیں ؎

جے کو پُچھے تُوں بندہ کس دا ایں؟ توں آکھ خدا تعالیٰ دا
جے کو پُچھے اُمت کس دی ایں؟ توں آکھ جی حضرت محمدؐ دی

رفتہ رفتہ ان کی نگاہ کمزور ہونے لگی۔ زیادہ میل جول سے کترانے لگیں اور تنہا تنہا رہتیں۔ گاہے کمرہ بند کرکے روتیں اور خوب روتیں۔ حتی کہ آنکھوں میں دھندلاہٹ چھا گئی۔ اب وہ پوری طرح دیکھ نہیں سکتی تھیں۔ دور پار کے رشتے کے بھائی محمد اکبر کواکثر بلاوا بھیجتیں کہ وہ آئیں اور حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ سنائیں۔ خوش الحان محمد اکبر کوقدرت نے بلا کا حافظہ عطا کیا اور وہ غضب کے شیریں کلام بھی تھے۔ دراز قد، کشادہ پیشانی اور مہندی سے سرخ کی ہوئی بالشت بھر داڑھی میں وہ ایک جازب نظر شخصیت دکھتے۔

جمعرات کی شب بعد ازنمازعشاء سب لوگ دادی اماں کے کمرے میں جمع ہوتے۔ بان کی بنی لمبی لمبی چارپائیوں پرمرد بیٹھ جاتے۔ عورتیں اور بچے موڑوں اور پیڑیوں پر۔ دادی کا کمرہ باقی گھر کی نسبت ذرا کشادہ اور گرم تھا۔ اکتوبر کے آخر میں جاڑے کا موسم شروع ہوجاتا تو انگیٹھی جلنی شروع ہوجاتی۔ اس طرح فضا مزید خوشگوار ہوجاتی۔ محمد اکبر یوسف علیہ سلام کا قصہ ترنم سے سناتے۔ یہ کلام سننے والوں پر جادوئی اثر رکھتا۔

مہتر یوسف بھائی میرا جو ہے سی کنعانوں
اس جیہا کوئی صورت والا دنیا اتے ہوسی

اکھیں ڈٹھیاں کنیں سنیاں دسو پنڈت جو سی
سبھناں عرض گزاری حضرت کوئی نہ ڈٹھا اگے
پر جے ہن کوئی مہلت بخشو ہر کوئی لوڑن لگے

ساری دھرتی پھر کے تھکے آبادی ویرانی
مہتر یوسف جیہا نہ لدھا سہنا مرد زنانی

یوسف کی آزمائش اور حضرت یعقوب کا غم اور دکھ بیان کرتے ہوئے محمد اکبر کی آواز بھرا جاتی۔ بسا اوقات ان کی آنکھیں ٹپک پڑتیں حالانکہ وہ مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔ محفل سوگوار ہوجاتی اور اکثرآنکھیں بھیگ جاتیں۔ سننے والے چہرے گھٹنوں میں چھپا لیتے لیکن ان کی سسکیوں اور ہچکیوں سے پتہ چلتا کہ ہرایک اپنے بچھڑے ہوئے بھائی یا پیارے کی یاد میں تڑپ رہا ہے۔ یوسف کا قصہ ہے بھی بہت دل دکھانے والا لیکن جب کسی عزیز اور وہ بھی لخت جگر کی جدائی کے تناظر میں سنا جاتا ہو تو دکھ اور کرب کی شدت سوا ہوجاتی ہے۔ دادی جب تک حیات رہیں ، گھر میں یوسف علیہ سلام کا قصہ اہتمام سے سنایا جاتا رہا۔

ابا بتاتے ہیں کہ اگست کی ایک سہ پہر دھوپ تیز تھی اور پسینے چھوٹ رہے تھے۔ راشن ڈپو سے سامان لانے گئے تو جاپانی سپاہی آپس میں بات کررہے تھے کہ امریکہ نے جاپان پرایٹم بم پھینک دیا ہے۔ یک دم ”باباجی“ کی چند ہفتے قبل کی پیشگوئی حافظے کی سکرین پر بجلی بن کر کوندی۔

دیر تک یقین نہ آیا کہ ابتلاء کے دن تمام ہوچکے ہیں۔ جاپانی پہرے داروں اور کیمپ کے منتظم کے چہروں پر اڑتی ہوئی ہوائیاں دیکھیں تو دل ودماغ میں امید کے چراغ چل اٹھے۔
مایوس اور بجھے چہرے کھل اٹھے۔ امید کا دیا روشن ہوگیا۔ ظلم کی سیاہ رات ختم ہونے کو تھی۔ جاپانیوں نے شکست تسلیم کر لی۔ ہم باعزت ہندوستان کی طرف روانہ ہوگئے۔
ہماری والدہ کب کی ہمارے استقبال کی منتظر تھیں۔

ارشاد محمود

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2 3

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ershad.mahmud@gmail.com

irshad-mehmood has 178 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood