ادب میں جانوروں کا تذکرہ


اس میں حیوانوں کی طرف انسانی رویے پر تنقید کی گئی ہے۔ اخوان الصفا کے بارے میں راقم کے پاس جو کتابیں موجود ہیں ان میں محمد کاظم کی“ اخوان الصفا اور دوسرے مضامین ”اور جاوید اختر بھٹی کی کے مضامین اور تراجم کا مجموعہ قابل ذکر ہیں۔ جاوید اختر بھٹی ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک دانش ور، مصنف اور مترجم ہیں جو تیس سے زیادہ کتابیں تخلیق و ترتیب دے چکے ہیں۔ بھٹی صاحب کی کتاب کا عنوان ہے“ اخوان الصفا۔ تاریخ، نظریات اور عقائد ”جو 2005 ءمیں شائع ہوئی تھی۔

اس میں مولوی اکرام علی کا ترجمہ بھی شامل ہے جو 1810 ءمیں فورٹ ولیم کالج میں ہوا تھا اور جسے بعد میں مولوی عبدالحق نے مزید بہتر کیا تھا۔ اخوان الصفا کی تحریر“ حیوانوں کا مقدمہ ”ایک حیرت انگیز شاہ کار ہے جو ہزار سال پہلے لکھا گیا مگر اب تک بہت دل چسپ معلوم ہوتا ہے اس مقدمے میں حیوانوں کی دنیا کے نمائندے نسلِ انسانی کے خلاف مقدمہ کرتے ہیں اور انسانوں پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنی بہتر صورتِ حال کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔

جانوروں کی درخواست کے مطابق انسان کی تخلیق سے پہلے حیوان زمین پر آزادانہ گھوم پھر سکتے تھے اور ہنسی خوشی رہتے تھے لیکن جب انسان آئے تو انہوں نے بہت نا انصافی کی اور تباہی پھیلانے کے ساتھ جانوروں کا استحصال بھی کیا۔ اس مقدمے میں انسان خود اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہیں اور خود کو اعلیٰ و ارفع ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کے خود ساختہ دلائل کو جانور مثالیں دے کر رد کردیتے ہیں۔ پھر انسان حیوانوں کی کردار کشی شروع کردیتے ہیں جس کے جواب میں جانور بھی اپنی خاص صلاحیتوں اور خاصیتوں کا ذکر کرتے ہیں۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ حیوانوں کے دلائل ٹھوس حقائق پر مبنی ہوتے ہیں جب کہ انسانوں نے محض دعوے کیے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم شہاب الدین سہروری کی لغاتِ موراں کا ذکر کرسکتے ہیں جس کو بصیرہ امبرین نے اورینٹل کالج لاہور کے ادبی مجلے“ سویرا ”کے شمارہ نمبر اکانوے میں شائع کیا ہے۔ یہ تحریر فارسی میں تو دست یاب تھی لیکن شاید اس کا کوئی اُردو ترجمہ نہیں تھا۔ بصیرہ امبرین نے لغاتِ موراں کا ترجمہ“ چیونٹیوں کی زبان ”کے عنوان سے کیا ہے۔

اس کے علاوہ حفیظ جالندھری نے بھی“ چیونٹی نامہ ”کے عنوان سے ایک کتابچہ لکھا ہے جو سہروردی کی کتاب سے خاصا مختلف ہے۔ برصغیر کے ادب کا ذکر کیا جائے تو سب سے پہلے“ پنچ تنتر ”ذہن میں آتی ہے جو پہلے تو سنسکرت میں لکھی گئی پھر اس کا فارسی میں ترجمہ ہوا جس سے ابن المقفا نے“ کلیہ و دمنہ ”کے نام سے عربی میں ترجمہ کیا۔ دراصل کلیہ و دمنہ دو گیڈروں کے نام ہیں۔ اس کا اردو ترجمہ جو راقم کے پاس ہے وہ انتظار حسین نے کیا تھا جو 1980 ء میں نئی صدی ہجری کے آغاز پر شائع ہوا تھا۔

یہ سبق آموز حکایتوں کا مجموعہ ہے جس میں ایک کہانی سے دوسری کہانی نکلتی چلی جاتی ہے۔ اس کا ایک اور ترجمہ معین الدین دردائی نے بھی کیا جس کا نام“ انوارِ سہیلی ”رکھا گیا۔ (Sukaspatati) پنج سنتر سے نکلنے والی دو اور تحریریں جن میں انسان و جانور کے تعلق پر کہانیاں ہیں۔ شکاس اپتاتی یعنی طوطے کی ستر کہانیاں اور ہت اوپدیش یا“ کار آمد نصیحت ”ہیں جس کو ضیا الدین نقشبندی نے فارسی میں منتقل کیا تھا۔ (Sukasaptati) چودھویں صدی عیسوی میں ضیاءالدین نقشبندی نے“ توتی نامہ ”تحریر کی جو شکاس اپتاتیکا فارسی پیرایہ ہے۔

اس میں ایک توتا اور مینا اپنے مالک کی بیوی کو ناجائز تعلقات قائم کرنے سے روکتے ہیں۔ توتا ہر رات ایک کہانی سناتا ہے بالکل اسی طرح جیسے“ الف لیلہ و لیلہ ”(ہزار و یک شب) میں ہوتا ہے۔ یہ کہانیاں اُس وقت تک سنائی جاتی ہیں جب تک توتے اور مینا کا مالک واپس نہیں آجاتا۔ نقشبندی نے اپنی کہانیوں میں اسلامی رنگ ڈالا ہے کہانیوں کی تعداد بھی تراسی تک پہنچادی ہے۔ جن میں سے صرف ہت اور پدیش (Hitopadesha) کچھ ہی اصل سنکسرت یا فارسی سے لی گئی ہیں۔

پنچ تنتر سے نکلنے والی ایک اور تحریر سری نرائن پنڈت کی ہے جو 1675 ءعیسوی میں لکھی گئی اس کا انگریزی ترجمہ جو راقم کے پاس ہے وہ جی ایل چندی رامانی نے کیا تھا۔ اس میں بھی ہر کہانی کا ایک اخلاقی یا فلسفیانہ سبق ہے جو انسانی رویوں جیسے محبت و نفرت، حسد اور جلن پر لاگو کیا جاسکتا ہے۔ اس کتاب میں بھی ہمیں انسانوں اور حیوانوں کی فطرتوں کی گہری سمجھ ملتی ہے اور ہم سیکھتے ہیں کہ دوستوں کا انتخاب کرتے ہوئے ہمیں ان کی دیانت داری دیکھنی چاہیے۔

حتمی سبق یہ ہے کہ تمام مخلوقات کو امن و آشتی سے رہنا چاہیے۔ چند برس پیشتر بھارت کے سفر کے دوران مجھے ڈیڑھ سو صفحات کی ایک کتاب نظر آئی جو اُردو میں تھی اور جس کے سرورق پر ایک خوب صورت کبوتر بنا ہوا تھا۔ عنوان تھا“ رنگیلا پرندہ ”اور تحریر تھی دھن گوپال مکرجی کی جس کو اردو میں شباب للت نے ترجمہ کیا تھا۔ اردو ترجمے پر انگریزی کی اصل کتاب کا نام نہیں تھا۔ Grey Neck: The Story of a Pigeon بعد میں معلوم ہوا کہ اس کتاب کا اصل انگریزی نامتھا جو 1927 ءمیں شائع ہوئی اور وہ بھی امریکا میں۔

یہ دل چسپ کتاب پڑھنے سے قبل راقم نے دھن گوپال مکرجی کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ انگریزی ادب کے لکھنے والے اولین ادیبوں میں سے تھے۔ اس سے قبل میں ملک راج آنند اور آر کے نارائن کو برصغیر میں انگریزی کے پہلے ادیب سمجھتا تھا۔ یاد رہے کہ ملک راج کی“ اچھوت ”1935 ءمیں شائع ہوئی تھی اور نارائن کی“ مال گودی کے دن ”بھی اسی زمانے میں لکھی گئی۔ دھن گوپال مکرجی اس سے تقریباً بیس سال قبل انگریزی کہانیاں لکھ رہے تھے اور غالباً پہلے ادیب تھے جنہوں نے اس خطے میں حیوانوں Rudyard Kipling) پرانگریزی کہانیاں لکھیں۔

ان میں ہم رڈ یارڈ کپلنگ 1895 ( Jungle Book) کو شامل نہیں کررہے ہیں جن کی کتاب“ جنگل بکء میں شائع ہوئی تھی۔ مگر کپلنگ کو ہم مقامی مصنف نہیں کہہ سکتے۔ رنگیلا پرندہ ”مصنف کے ان ذاتی تجربات کے بارے میں ہے جو وہ ہمالیہ کے پہاڑی علاقے میں کبوتروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ نوجوان مصنف کو کبوتر پالنے کا شوق تھا اور رنگیلا کبوتر ان کا پسندیدہ پرندہ تھا۔ اس کہانی میں نہ صرف کبوتروں بل کہ اس دور کے بارے میں بھی معلومات ملتی ہیں جن میں پہلی جنگ عظیم کے دوران کبوتروں کو پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8