ادب میں جانوروں کا تذکرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مختلف معاشروں میں جانوروں کے بارے میں رویے خاصے مختلف ہوتے ہیں جن کا انحصار نہ صرف سماجی و معاشی حالات پر ہوتا ہے بلکہ مذہبی ترجیحات بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جانوروں کی طرف انسانوں کے رویوں کا اظہار ادب، ثقافت اور فن میں نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے جیسے معاشروں میں جانوروں کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا، یقین نہ آئے تو گاڑیوں میں جتے گدھے گھوڑوں یا بچوں کے پتھروں کا شکار ہونے والے کتوں کو دیکھ لیجیے۔

بقول مشتاق احمد یوسفی کے ہم کسی ایسے جانور سے اچھا سلوک نہیں کرتے جسے ذبح کرکے کھا نہ سکیں۔ مسلمانوں اور یہودیوں میں سوّر کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، ہندو گائے کو مقدس سمجھتے ہیں اور عربوں کی اونٹوں سے دوستی اور محبت کے قصے مشہور ہیں۔ رچرڈ فولٹز (Richard Foltz) کی کتاب اینیملز ان اسلامک ٹریڈیشن اینڈ مسلم کلچرز (اسلامی روایات اور مسلم ثقافت میں جانور) مطبوعہ 2006 ء میں عباسی دور کی ایک کہانی بیان کی گئی ہے جس کے مطابق خلیفہ نے امام شافعی سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مکھیوں جیسے پریشان کن جانور کیوں پیدا کیے ہیں تو امام شافعی نے جواب دیا ”میری رائے میں اس کا مقصد یہ تھا کہ صاحبِ اقتدار لوگوں کو بھی اُن کی بے بسی کا احساس دلایا جائے۔

بعض لوگوں کے خیال میں جانوروں کی بھی روحیں ہوتی ہیں جو انسانوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ قدیم یونان میں“ حیوانی روح ”اور“ ذی شعور روح ”میں فرق کیا جاتا تھا۔ انسان اور حیوان کے تعلق پر قدیم ادب کا ایک بہترین ٹکڑا ہومر کی“ اوڈیسی ”میں موجود ہے جس کا حوالہ دینا بے جا نہ ہوگا۔ جب راقم نے اسکول کے زمانے میں ادب پڑھنا شروع کیا تو اچھی انگریزی نہ جاننے کے باعث عالمی ادب کے اردو تراجم پڑھنا شروع کیے جس کا شوق میرے والد نے مجھ میں پیدا کیا تھا۔

میرے ابا پرانی کتابوں کو ٹھیلوں اور فٹ پاتھ سے خرید کر مجھے دیتے جس سے شوق کی آب یاری ہوئی۔ اس وقت کی دو پرانی کتابیں جو اب تک میرے پاس موجود ہیں ان میں ارسنٹ ہمنگ وے کی“ بوڑھا اور سمندر ”جو شاہد حمید نے اُردو میں ترجمہ کی تھی اور ہومر کی“ اوڈیسی ”جس کا شاندار اردو ترجمہ سلیم الرحمان نے“ جہاں گرد کی واپسی ”کے نام سے کیا تھا اور جو پہلی مرتبہ 1964 ءمیں شائع ہوا تھا جو راقم کا سنِ پیدائش ہے۔ (Odysseus) اوڈیسی کے سترہویں باب میں جب اوڈی سیئس یعنی ناول کا مرکزی کردار طویل عرصے بعد گھر آتا ہے تو اس کا بیٹا اُسے فقیر سمجھتا ہے۔

اس کی بیوی اس سے شناخت کا ثبوت طلب کرتی ہے جب کہ اس کا کتا اُسے فوراً پہچان لیتا ہے۔ دس سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باعث کتا اب بوڑھا ہوچکا ہے اور قریب المرگ ہے مگر آرگو (Argo) نامی کتا زمین پر لیٹے لیٹے دم ہلاتا ہے اٹھنے کی کوشش کرتا ہے مگر نقاہت کے باعث گر پڑتا ہے۔ لیکن اپنے کان کھڑے کرکے اور دم ہلاکر اپنے مالک کو خوش آمدید کہہ کر دم توڑ دیتا ہے۔ اس کا مالک اوڈی سیئس منہ پھیر کر رونے لکھتا ہے اور اپنے آنسو پونچھتا ہے۔

مالک نے وہ کتا ایک پلے کی شکل میں چھوڑا تھا اور اب وہ کتا ضعیف ہوگیا مگر اپنے مالک کو نہیں بھولا۔ اپنے اسکول کے زمانے میں ادب کا یہ شہ پارہ مجھے رُلا دیتا تھا اور اب بھی راقم کو اسے بار بار پڑھنا اچھا لگتا ہے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ قدیم زمانے کے ادب سے جانوروں کا تعلق چلا آرہا ہے۔ خود قرآن مجید کی ایک سو چودہ 114 سورتوں میں سے چھ جانوروں کے نام پر ہیں۔ سورة البقرة، سورة الانعام، سورة النحل، سورة النمل، سورة العنکبوت اور سورة الفیل۔

اور قرآن میں جن جانوروں کا ذکر ہے اُن میں اونٹ، گھوڑے، خچر اور گدھوں کے علاوہ بھیڑ، بندر، کتے، سوّر، سانپ، کیڑے اور مچھر وغیرہ شامل ہیں۔ حتیٰ کہ خود انسانوں کو عربی میں الحیوان الناطق یعنی بولنے والا جانور کہا گیا ہے۔ عربوں کے کئی قبیلے حیوانوں کے نام پر تھے مثلاً قریش کا مطلب شارک مچھلی، کلب کا مطلب کتا، اسد کا مطلب شیر۔ اسی طرح کچھ مسلمان تناسخ پر بھی یقین رکھتے تھے۔ مثلاً نویں صدی عیسویں کے ایرانی فلسفی ابن ذکریا رازی نے اپنی کتاب سیرت الفلسفیہ (فلسفیانہ راستہ) میں روحوں کی آمدورفت کا ذکر کیا ہے۔

لیکن غالباً ابن سینا نے سب سے پہلے“ الطیر ”یعنی پرندہ کے نام سے صوفیانہ کتابچہ لکھا۔ جس میں پرندوں کو علامتی طور پر استعمال کرتے ہوئے روحوں کے عالم الاروح میں سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ایک اور امام فخر الدین رازی تھے جو بارہویں صدی عیسویں میں ہوئے اور جنہوں نے بو علی سینا پر شدید تنقید کی تھی۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجئے۔ عبدالسلام ندوی کی کتاب“ امام رازی ”جو اُردو میں موجود ہے۔ راقم کے فارسی کے استاد ڈاکٹر جواد ہمدانی نے فرید الدین عطار کی“ منطق الطیر ”سے روشناس کرایا جو 1177 ءمیں لکھی گئی تھی۔

غالباً یہ کتاب ابنِ سینا کی کتاب“ الطیر ”سے متاثر ہوکر لکھی گئی۔ عطار کی منطقِ الطیر میں دنیا بھر کے پرندے فیصلہ کرتے ہیں کہ انہیں بادشاہ کی ضرورت ہے۔ ہد ہد اصرار کرتا ہے کہ پرندوں کا ایک بادشاہ پہلے ہی موجود ہے جس کا نام سیمرخ ہے اور جسے ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ ہد ہد دیگر پرندوں کو کہتا ہے کہ چل کر بادشاہ یعنی سیمرخ کو ڈھونڈتے ہیں جس کے لیے لمبے سفر اور اُڑان کی ضرورت ہے۔ زیادہ تر پرندے مختلف بہانے کرکے سفر سے انکار کردیتے ہیں جو پرندے ہد ہد کے ساتھ سفر میں شامل ہوجاتے ہیں وہ بھی ایک ایک کرکے گرنے لگتے ہیں جب سفر مشکل سے مشکل تر ہوجاتا ہے۔

کچھ دوسرے پرندے مختلف جواز دے کر سفر سے الگ ہونے لگتے ہیں اور دیگر پرندوں کے دل میں بھی وسوسے ڈالتے ہیں کہ یہ پورا سفر بے کار اور بے نتیجہ رہے گا اس لیے سفر ختم کردینا چاہیے۔ بالآخر 30 پرندے منزلِ مقصود تک پہنچ پاتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ سیمرخ یعنی سی مرغ (تیس پرندے ) وہ خود ہیں اور دراصل انہیں خود اپنی ہی تلاش تھی۔ ہدہد فرید الدین عطار خود ہیں جو دیگر پرندوں کی رہ نمائی کرتے ہیں اور سفر کے دوران اُنہیں عقل و شعور کی باتیں سکھاتے جاتے ہیں۔

رہ نما ہد ہد جو بھی کہانیاں سناتا ہے وہ دراصل لوگوں کی ہی کہانیاں ہیں جو علامتی انداز میں پیش کی گئی ہیں۔ جانور اور انسانوں کے بارے میں ایک اور دل چسپ تحریر راقم کو رسائل اخوان الصفا میں ملی جو دسویں صدی عیسوی میں بصرہ میں لکھی گئی تھی۔ اس دور میں مسلم فلسفیوں کا ایک گروہ تھا جو قاموسی انداز میں انسائیکلو پیڈیا لکھ رہا تھا جس میں طبعی اور مابعد الطبیعاتی موضوعات پر مضامین تھے۔ اس طرح پچاس کے قریب مقالے لکھے گئے جن میں ایک کا عنوان تھا“ جنات کے بادشاہ کے دربار میں انسا ن کے خلاف حیوانوں کا مقدمہ ”۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •