ادب میں جانوروں کا تذکرہ


یہ کہانی ایک عورت اور اس کی گھوڑی کی کہانی ہے۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ ایک لڑکی شادی ہوکر اپنے سسرال ایک دوسرے گاؤں میں آتی ہے۔ وہاں اُسے گھر میں ایک جانور کی طرح رکھا جاتا ہے یعنی کوئی اس کی عزت نہیں کرتا اور وہ خود کو ایک مویشی سمجھنے لگتی ہے۔ کچھ عرصے بعد اس گاؤں کو ایک گھوڑی چوری ہوجاتی ہے تو گاؤں والے اس عورت کے میکے والے گاؤں پر چوری کا الزام لگاتے ہیں۔ جب کچھ دنوں بعد وہ اپنے میکے جاتی ہے تو اُس کے گاؤں والے یہ کہہ کر گھوڑی اس کے حوالے کردیتے ہیں کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کی بیٹی اس گاؤں میں بیاہی گئی ہے۔

جب وہ عورت گھوڑی لے کر اپنے سسرالی گاؤں واپس آتی ہے تو اس کی عزت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ مگر پھر اُسے احساس ہوتاہے کہ یہ عزت اس کی ذات کو نہیں بل کہ گھوڑی سے تعلق کی بدولت مل رہی ہے۔ اسی لیے اس افسانے کا نام ہے ”چیزیں اپنے تعلق سے پہچانی جاتی ہیں“۔ گھوڑے پر ایک شاندار کہانی ابوالفضل صدیقی کی ہے جنہوں نے جانوروں سے متعلق بہت اچھا ادب تحریر کیا ہے۔ ان کی ایک طویل کہانی کا عنوان ہے ”انصاف“ جو ایک گھوڑے کا نام ہے۔

انصاف نامی گھوڑا ایک بہت امیر آدمی کا ہے، اُس کا سائیں ڈلی نامی ایک غریب آدمی ہے جو انصاف کا بہت خیال رکھتا ہے۔ گھوڑے کی دیکھ بھال کرنے والا گھوڑے کو تو اعلیٰ ترین چارا کھلاتا ہے مگر خود اس کے بچے بھوکے رہتے ہیں۔ ایک دن اسے گاو¿ں جاتے ہوئے ویرانے میں ایک گھڑے سے خزانے کی ہنڈیا مل جاتی ہے جس پر وہ گھوڑے کے پاس جانا بند کردیتا ہے۔ اب انصاف اپنے رکھوالے کو یاد کرکے کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے اس کے بعد اُس امیر آدمی کا کیا ردِ عمل ہوتا ہے یہ جاننے کے لیے آپ کو ”انصاف“ پڑھنی پڑے گی۔

جب گھوڑوں کی بات چل نکلی ہے تو کچھ گدھے کی بات بھی ہوجائے۔ کرشن چندر کا ناقابل فراموش ناول ہے ”ایک گدھے کی سرگزشت“ جو راقم نے بہت عرصہ پہلے پڑھا تھا لیکن اسے ڈاکٹر آمنہ احمد سعید نے اپنی کتاب ”کرشن چندر کے ناول“ میں شامل کیا ہے وہ بتاتی ہیں کہ یہ ناول 1955 ءمیں ہفتہ وار رسالے ”آئینہ“ میں قسط وار شائع ہونا شروع ہوا اور پھر 1956 ءمیں دہلی کے ماہنامے ”شمع“ میں چھپتا رہا۔ ”ا یک گدھے کی سرگزشت“ بہت دل چسپ ناول ہے جس میں ایک گدھے کی کہانی ہے جو آواگون یا پنر جنم پر مبنی ہے۔

طنز و مزاح کا یہ ایک بہترین نمونہ ہے جس کا ہیرو گدھا ہے جو بولنا، پڑھنا اور لکھنا جانتا ہے۔ بالکل انسانوں کی طرح۔ یہ گدھا بے لاگ گفتگو کرتا ہے، بے باک تنقید کرتا ہے اور سادگی سے بھرپور ہے۔ ان خصوصیات کی بناءپر گدھا ایک منفرد مخلوق ہے مگر ایسی مخلوق کے ساتھ جو کچھ ہوسکتا ہے وہ ہوتا ہے اسے بری طرح پیٹا جاتا ہے اور ہر جگہ اس کے دشمن نکل آتے ہیں۔ ناول یہ واضح کرتا ہے کہ اس دنیا میں اگر سچ بولو تو لوگ آپ کے دشمن ہوجاتے ہیں۔

گدھا اپنے سفر کا آغاز بارہ بنکی سے کرتا ہے جو گدھوں کے لیے مشہور ہے، وہاں سے وہ بھارت کے دارالحکومت دہلی پہنچتا ہے جہاں اُسے پکڑ کر باندھ دیا جاتا ہے۔ رہائی کے بعد اُسے ایک مالک سے دوسرے کے ہاتھ بیچا جاتا ہے جس کے پر مزاح اور الم ناک نتائج نکلتے ہیں۔ سب سے مزاحیہ حصہ وہ ہے جب گدھا بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو سے ملتا ہے۔ ملاقات کے بعد وہی لوگ جو اُسے پیٹتے تھے، اس کی عزت کرنے لگتے ہیں۔ اب صحافی اس کے پیچھے پیچھے پھرتے ہیں اور اُسے ایک کلب لے جایا جاتا ہے جہاں وہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتا ہے۔

پریس کانفرنس میں گدھے بہت سے وزیروں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ حالات کے باعث آپ اس ناول کو کم از کم ایک بار ضرور پڑھیے۔ چوپایوں کی بات چل رہی ہے تو کچھ گائے بیلوں کی بات بھی ہوجائے۔ پریم چند کی کہانی ”دو بیل“ ایک دل چسپ کہانی ہے جس میں دو بیل اپنے مالک سے بہت پیار کرتے ہیں اور دل لگاکر محنت کرتے ہیں۔ لیکن اچانک گھر کی مالکن ان بیلوں کو اپنے میکے بیچ دیتی ہے، بیل اپنے مالک کو یاد کرتے ہیں اور رات کو رسی تڑاکر واپس گھر آجاتے ہیں۔

پھر انہیں کہیں اور بھیجا جاتا ہے مگر ہر دفعہ وہ بڑی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنے مالک کے پاس لوٹ آتے ہیں۔ بالآخر مالک بھی یہ بات تسلیم کرلیتا ہے کہ یہ بیل صرف اُس ہی کے پاس رہ سکتے ہیں۔ گائیں ہندووں کے لیے مقدس ہوتی ہے اور یہی موضوع ایک اور افسانہ نگار شمشیر سنگھ نرولا نے اٹھایا ہے۔ اُن کی کہانی ”گؤ ہتیا“ ایک ایسے غریب گاؤں کی کہانی ہے، جہاں سینکڑوں گائیں ہیں جو زیادہ ترمریل اور قریب المرگ ہیں مگر کوئی انہیں نہیں مارتا کیوں کہ بھگوان کی ناراضی کا اندیشہ ہے۔

جب ایک بوڑھی گائے مرنے والی ہوتی ہے تو گاؤں کے آوارہ کتے اس پر حملہ کرکے اسے بھنبھوڑ کر شدید زخمی کردیتے ہیں۔ اگلے دن ایک شہری جوان جو گاؤں والوں کی حالت سدھارنے آیا ہے، آوارہ کتوں کو زہریلی غذا دیتا ہے جو حادثاتی طور پر ایک گائے بھی کھالیتی ہے۔ اس پر گاو¿ں بھر میں طوفان مچ جاتا ہے اور خاص طور پر ہندو پجاری بہت شور مچاتے ہیں اور گاؤں والوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنے پاپ کا پرائشچت کرنے کے لیے پجاریوں کو رقم ادا کریں اس پر غریب گاؤں والے جن کے پاس خود کچھ نہیں، بڑی دقت کا سامنا کرکے رقم ادا کرتے ہیں۔

مرزا عظیم بیگ چغتائی کی ایک کہانی کا نام بھی ”دو بیل“ ہے جس میں مختلف بیلوں کی آپس میں بات چیت اور مصنف سے ان کے تعلق پر لکھا گیا ہے۔ یہ کہانی ”چغتائی کے افسانے“ نامی مجموعے میں اُردو اکیڈمی نے 1952 ءمیں شایع کی۔ اب آتے ہیں کتوں کی طرف جن کے بارے میں اردو میں کچھ دل چسپ تحریریں موجود ہیں مثلاً سرسید احمد خان کا مضمون ”بحث و تکرار“ کتوں کے غرانے اور لڑنے کو ایک تمثیل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے قارئین کو سبق دیتا ہے کہ انسانوں کو اس طرح نہیں کرنا چاہیے۔

اسی طرح حاجی لق لق اور پطرس بخاری کی تحریریں کتوں کے بارے میں خاصی دل چسپ ہیں۔ حاجی لق لق ( 1898۔ 1961 ) کا اصل نام عطا محمد تھا اور وہ اردو میں مزاحیہ شعر و شاعری اور طنزیہ نثر لکھنے سے مشہور ہیں۔ حاجی لق لق کی کہانی ”میم صاحب کا کتا“ ایک ایسی امیر عورت کے بارے میں ہے جو اپنے کتے سے بہت محبت کرتی ہے مگر ایک ریل گاڑی کے سفر کے دوران اس کا کتا ایک اور کتے سے بدل جاتا ہے جو دراصل آوارہ کتا ہے۔ پطرس بخاری کا مضمون ”کتے“ بھی اُردو کی مزاحیہ تحریروں کے تقریباً ہر مجموعے میں شامل ہوتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8