ادب میں جانوروں کا تذکرہ
پرندوں کے بارے میں ایک اور کہانی ایس ایم شاہد کی ہے جو ان کے چالیس صفحات پر مبنی کتابچے ”اپنا پنجرہ“ میں شامل ہے جو 1988 ءمیں شائع ہوا تھا۔ یہ کہانی ایک باپ بیٹی کے دل چسپ گفتگو پر مبنی ہے جس میں بیٹی چڑیا بننا چاہتی ہے تاکہ وہ بھی آزادانہ طور پر اڑ کر اِدھر اُدھر جاسکے۔ اور ناچ گا سکے اور درختوں پر پھدکتی پھرے۔ عرفان احمد عرفی کی کہانی ”چڑیا“ کا ذکر بھی دل چسپی سے خالی نہ ہوگا جس میں ایک غریب لڑکی کا باپ چڑیوں کو پکڑ کر سگنل پر فروخت کرتا ہے تاکہ چڑیوں کو آزاد کردے۔
بچی پورا دن باپ کا انتظار کرتی ہے کہ کب وہ بچ جانے والی چڑیاں گھر لائے گا اور وہ ان کے ساتھ کھیلے گی۔ رفتہ رفتہ لڑکی کو خود محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک پنجرے میں بند چڑیا ہے اور اُڑ نہیں سکتی۔ عرفان احمد عرفی جدید اردو ادب کے بہترین افسانہ نگار اور ڈرامہ نگار ہیں جنہوں نے اکیسویں صدی اردو کی بہترین تخلیقات پیش کی ہیں۔ یہ کہانی اُن کے مجموعے ”کنٹرول روم“ میں شامل ہے جو 2017 ءمیں شائع ہوا ہے۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ صرف چڑیاں کیوں؟
باقی پرندے کیا ہوئے؟ تو آئیے خدیجہ مستور کی کہانی ”چیلیں“ دیکھتے ہیں۔ یہ ایک غریب گاؤں کی کہانی ہے جہاں بے شمار چیلیں ہیں جو گاؤں والوں کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔ وہ حملہ کرکے کھانے کی چیزیں اڑا لیتی ہیں جس سے غریب بہت پریشان ہیں۔ پھر کہانی میں بتدریج دیگر چیلیں بھی نمودار ہوتی ہیں جو گاؤں والوں کا خون چوس رہی ہیں مثلاً سود خور قرض خواں ہیں اور فرقہ واریت پھیلانے والے رہ نما ہیں پھر زمیں دار اور جاگیردار ان کے علاوہ ہیں۔
جب کوئی جانور مرتا ہے تو چیلیں اس کی لاش کھا جاتی ہیں اور جب کوئی باپ مرتا ہے تو اس کی بیٹی اُن انسان نما چیلوں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے جو اس کے گرد منڈلاتے رہتے ہیں۔ یہ کہانی غریبوں کے حالات کی دل ہلا دینے والی داستان ہے۔ اسی عنوان کی ایک اور کہانی انتظار حسین نے تحریر کی ہے جو ان کی کہانیوں کے مجموعے ”خیمے سے دور“ میں شائع ہوتی ہے۔ انتظار حسین (Aneneas) ”چیلیں“ یونانی دیو مالا کے کردار استعمال کرتی ہوئی ایک کہانی بیان کرتی ہیں جس میں اینی اساپنے لوگوں کو لے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پناہ اور تحفظ کی تلاش میں پھر رہا ہے مگر ہر منزل پر انہیں نئی طرح کی چیلیں مل جاتی ہیں جو اس پر جھپٹی ہیں ان کا کھانا چھین لیتی ہیں اور جینا دوبھر کردیتی ہیں۔
مگر وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ دربدر پھرنے سے کوئی فائدہ نہیں اور وہ جہاں ہیں وہیں رہ کر وہاں کی چیلوں کا مقابلہ کریں تو بہتر ہوگا۔ اب ہم چڑیوں اور چیلوں سے کبوتر کی طرف آتے ہیں۔ مظہر الاسلام کی کہانی ”کندھے پر کبوتر“ ایک علامتی افسانہ ہے جس میں جنرل ضیاءالحق کے دور کا پاکستان دکھایا گیا ہے۔ اس کہانی میں ایک اسکول کا بچہ جس کے کاندھے پر کبوتر ہے اپنے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کررہا ہے۔ گھر کا چوکیدار دروازہ نہیں کھول رہا اور گھر کے اندر سے بدبو دار سڑاند آرہی ہے۔
بچہ ایک کھڑکی کا شیشہ توڑ کر گھر میں جھانکتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ چوکیدار ایک بھیڑیے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ گھر سے کبوتر اور بچے کو نکال دیا گیا ہے اور چوکیدار گھر پر قابض ہے۔ گو کہ یہ کہانی 1982 ءمیں شائع ہوئی، یہ اب بھی امن کی علامات کبوتر اور بچے کی شکل میں پیش کرتی ہے جن کو آج بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ذرا آرمی پبلک اسکول پشاور کے واقع کو یاد کیجیے۔ پرندوں پر ایک اور کہانی رضیہ فصیح احمد کی ”نیل کنٹھ“ ہے جو اُن کی کہانیوں کے مجموعے ”نقاب پوش“ میں شامل ہے۔
اس کہانی میں دو نیل کنٹھ دکھائے گئے ہیں جو ایک ہی درخت کی مختلف شاخوں پر بیٹھے ہیں جن کو کہانی کی مصنفہ دیکھ رہی ہے۔ دونوں پرندے خاموش اور افسردہ نظر آتے ہیں اور اُن کی آنکھیں جھکی ہوئی ہیں۔ کہانی نویس کو حیرت ہے کہ یہ پرندے اتنے غم گین کیوں ہیں۔ کہانی کی مصنفہ اپنے شوہر کے انتظار میں ہے اور پرندوں کو دیکھ کر سوچتی ہے کہ یہ ضرور ایک دوسرے سے لڑے ہوں گے۔ ہوسکتا ہے کہ پرندوں کا یہ جوڑا ایک دوسرے سے اکتا چکا ہو یا ممکن ہے نر پرندے نے کسی اور مادہ پرندے کو دیکھ ہو جس پر مادہ نے سوچا ہو کہ نر اُسے دھوکا دے رہا ہے۔
یا ہوسکتا ہے کہ نر پرندہ بہت دیر تک اِدھر اُدھر اُڑتا پھرا ہو اور مادہ پرندے نے اس کا بہت دیر انتظار کیا ہو۔ کچھ دیر بعد ایک پرندہ اپنے پر پھڑ پھڑا کر اُڑ جاتا ہے۔ افسانہ نگار دیکھتی ہے کہ کچھ دیر بعد پیچھے رہ جانے والا پرندہ غنودگی کے عالم میں درخت سے گر کر مرجاتا ہے۔ جب افسانہ نگار کا شوہر گھر آتا ہے تو وہ اپنے شوہر کو بتاتی ہیں کہ کس طرح نر پرندے نے اپنی مادہ کو دھوکا دے کر چھوڑ دیا اور مادہ اس غم میں چل بسی۔
خاوند کو پرندوں کے بارے میں بہت کچھ پتا ہے اور وہ مردہ پرندے کو جاکر اٹھالاتا ہے اور اپنی بیوی کو دکھاتا ہے کہ مردہ پرندہ دراصل نر ہے۔ اُردو ادب میں پرندوں کے بارے میں کہانیوں کا ذکر اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک کہ غالباً اس سلسلے کی بہترین کہانی کا ذکر نہ کریں۔ نیر مسعود کی تحریر کردہ ”طاوس چمن کی مینا“ ایسی ہی ایک کہانی ہے۔ اس کہانی میں سن 1850 ءکے لگ بھگ کا لکھنو دکھایا گیا ہے، ایک غریب آدمی جس کا نام کالے خان ہے ایک بیٹی کا باپ ہے، جو کھیلنے کے لیے ایک مینا کی طلب گار ہے۔
کالے خان کی اہلیہ کچھ عرصہ پہلے وفات پاچکی ہے اور اب کالے خان ہی بچی کا ماں باپ دونوں ہے۔ وہ اپنی بچی سے بہت محبت کرتا ہے اور کسی طرح بھی اسے افسردہ نہیں دیکھ سکتا۔ جب کالے خان کو شاہی باغ جس کا نام ”طاوس چمن“ ہے میں ملازمت مل جاتی ہے تو اُس کا کام پرندوں کی دیکھ بھال ہوتا ہے۔ موقع ملنے پر وہ وہاں سے ایک مینا چرا لاتا ہے یہ سمجھے بغیر کہ بادشاہ سلامت کو طاوس چمن کے چالیس پرندوں کے نام تک یاد ہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


