ادب میں جانوروں کا تذکرہ


مینا ملنے پر بچی خوشی سے پھولے نہیں سماتی اور ہر وقت اس سے کھیلتی رہتی ہے۔ چند ہفتوں بعد بادشاہ اودھ اپنے چمن کا دورہ کرنے آنے والے ہیں۔ جب کالے خان کو اس دورے کا علم ہوتا ہے تو گھبرا جاتا ہے اور کسی طرح مینا کو واپس لے آتا ہے۔ جب بادشاہ اپنے برطانوی افسروں کے ساتھ باغ میں آتا ہے تو مینا وہ الفاظ دہرانے لگتی ہے جو اس نے کالے خان کی بیٹی سے سیکھے تھے اس پر بادشاہ سلامت غصے میں آجاتے ہیں اور کالے خان ڈر کے مارے بے ہوش ہوجاتا ہے اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہ جاننے کے لیے آپ کو نیر مسعود کی کہانی ”طاوس چمن کی مینا“ پڑھنی چاہیے جو ہندوستان کی تاریخ کے اس دور کی یاد تازہ کرتی ہے جب یہاں کی اشرافیہ اور نواب کبوتر اڑانے اور شطرنج کھیلنے میں مصروف تھے اور برطانیہ قبضے کررہا تھا۔

سلطنت اودھ پر واجد علی شاہ کا اقتدار ختم ہونے والا تھا اور برطانوی اہل کار وہاں قبضے کے لیے پر تول رہے تھے۔ اس کہانی کے اختتام پر بھی اودھ پر برطانوی قبضہ مکمل ہوجاتا ہے بالکل اسی طرح جیسے منشی پریم چند نے اپنی مشہور کہانی ”شطرنج کے کھلاڑی“ میں دکھایا ہے اور جس پر بنگال کے مشہور ہدایت کار ستہ جیت رے نے اپنی واحد اُردو فلم بھی بنائی ہے۔ یہاں پر ہمیں رتن ناتھ سرشار کا ”صف شکن بٹیر“ بھی یاد آتا ہے جو ضیاءمحی الدین نے بڑی خوب صورتی سے پڑھا بھی ہے۔

پرندوں پر کہانیوں میں مظہر الاسلام کی کہانیاں ”پنجرہ“ اور ”ایک شام نے چڑیا کو چُگ لیا“ بھی قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ محمود احمد قاضی کی کہانی ”کبوتر گلی“ جو 2013 ءمیں ”روشنائی“ کے 54 ویں شمارے میں شائع ہوئی ہے جسے احمد زین الدین نکالتے ہیں۔ اسی طرح ”آدمی پرندہ ہے“ جو 2000 ءمیں سہ ماہی ”خیال“ کے دوسرے شمارے میں شائع ہوئی ہے جسے انجم سلیمی اور نذر جاوید نکالتے ہیں۔ اسی طرح عشرت نقوی کی کہانی ”گہری پیاس اور کوے“ بھی ہے جو 1988 ءمیں ماہنامہ ”نیرنگِ خیال“ کے چونسٹھ ویں شمارے میں چھپی ہے۔

پرندوں کے بارے میں انتظار حسین کی دو اور کہانیاں ”اجنبی پرندے“ اور ”مورنامہ“ ہیں۔ ”اجنبی پرندے“ میں ایک آدمی کی کہانی ہے جو اُن پرندوں سے بیزار ہے جنہوں نے اس کے کمرے میں گھونسلے بنالیے ہیں اور مسلسل آتے جاتے رہے ہیں۔ انہیں بھگانے کی لگاتار کوششوں میں ناکامی کے بعد کمرے میں رنگ و روغن کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور پرندوں کے گھونسلوں کو اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ پرندے کمرے میں آنا چھوڑ دیتے ہیں مگر کمرے کا مالک خوش ہوجاتا ہے مگر جلد ہی اُسے احساس ہوتا ہے کہ اب کمرہ بہت سنسان ہوگیا ہے نہ پرندوں کی چہچہاہٹ ہے، نہ پروں کی پھڑپھڑاہٹ۔

پھر کیا ہوتا اس کے لیے کہانی پڑھیے۔ انتظار حسین کی ”مورنامہ“ ان موروں کی داستان ہے جو بھارتی راجستھان میں ایٹمی دھماکوں کے بعد اذیتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کہانی میں بھارتی دیو مالائی کردار استعمال کیے گئے ہیں اور جنگ کے طبل بجتے نظر آتے ہیں۔ آج کے پاک بھارت تناؤ کے دور میں ”مورنامہ“ ایک بار پھر پڑھی جانی چاہیے۔ پرندوں کے بارے میں ایک اور کہانی ابوالفضل صدیقی کا افسانہ ”ایک اڑان میں“ ہے۔ اس کہانی کے شروع میں بے شمار پرندے ایک پرسکون اور سرسبز جگہ پر امن و چین سے رہ رہے ہیں مگر ایک اُلّو خوش نہیں ہے کیوں کہ وہ صرف رات کو نکلتا ہے۔

اب کچھ چمگاڈر اُلّو کو ورغلاتے ہیں کہ وہ چاہے تو پورے جنگل پر قبضہ کرسکتا ہے۔ پھر ایسا کرنے کے لیے اُلّو اور چمگاڈر زور دار چیخوں کا سہارا لیتے ہیں اور دیگر پرندوں کو ڈرا دھمکا کر جنگل پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ اسی طرح ایک کہانی منشا یاد کی بھی ہے جس کا عنوان ہے ”ایک تھی فاختہ“۔ اس کہانی میں ایک بچہ اپنی ماں سے کہانیاں سنتا ہے جس میں ایک کہانی فاختہ کی ہے۔ اب بچے نے فاختہ کو کبھی نہیں دیکھا، اب بچہ ضد کرتا ہے کہ اُسے فاختہ دیکھنی ہے۔

بچے کا باپ اُسے ایک قریبی باغ لے جاتا ہے مگر وہاں کوئی فاختہ نہیں ہے پھر وہ دوسرے اور تیسرے باغ جاتے ہیں جہاں دیگر پرندے ہیں مگر فاختہ نہیں ہے۔ باپ اور بچہ ناخوش واپس آجاتے ہیں اب بچے کا باپ محکمہ باغات کے ایک افسر کو فون کرکے پوچھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ شہر میں کووں کی بہتات کے باعث فاختائیں وہاں سے کوچ کرگئیں ہیں۔ یہ کہانی ہمارے اپنے معاشرے پر کتنی صادق آتی ہے۔ منشی پریم چند نے اُردو ادب میں جانوروں سے متعلق چند بہترین کہانیاں لکھی ہیں۔

مثلاً اُن کی کہانی ”غم نداری بزبخر“ ہے یعنی اگر آپ کے پاس کوئی غم نہیں تو بکری خرید لیں۔ اس کہانی میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح گھر والوں کی تازہ دودھ پینے کی معصوم سی خواہش کس طرح غیر متوقع مسائل اور پریشانیوں کا باعث بنتی ہے۔ بکریوں کے بارے میں انتظار حسین کی غالباً بہترین کہانی کا عنوان ہے ”برہمن بکرا“ جس میں ایک برہمن اولادِ نرینہ سے محروم ہے۔ کوئی رشی اُسے مشورہ دیتا ہے کہ وہ ایک بکرے کی بھینٹ چڑھائے یعنی قربانی دے۔

برہمن ایک بکرا خرید کر اُسے خوب کھلاتا پلاتا ہے جس پر بکرا قہقہہ مار کر کہتا ہے ”یہ سب وقت کی بات ہے، میرے پچھلے جنم میں برہمن میں تھا اور تم بکرے تھے اور میں نے بیٹے کی خواہش میں تمہاری قربانی کی تھی۔ “ یہ سن کر برہمن لرز جاتا ہے اور قربانی ملتوی کردیتا ہے۔ کچھ عرصے بعد برہمن پھر بکرے کو قربان کرنا چاہتا ہے تو بکرا روتے ہوئے کہتا ہے بہت جلد کوئی اور تمہاری قربانی دے رہا ہوگا۔ اب اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ برہمن کی قربانی کون دیتا ہے تو اس کے لیے آپ انتظار حسین کی کہانی پڑھیے۔

بکروں کے بارے میں ایک اور کہانی جو اس وقت ذہن میں آرہی ہے اس کا عنوان ”دام شیندن“ ہے جو منشا یاد کی تحریر ہے اور جسے ڈاکٹر اقبال آفاقی نے منشایاد کے منتخب افسانوں میں شامل کیا ہے اس کہانی میں ایک شخص بکروں کی زبان سیکھ لیتا ہے اور اُن سے محبت کرنے لگتا ہے مگر اُسے ہر سال بے شمار بکرے قربان ہوتے دیکھنے پڑتے ہیں۔ جب اُس کے اپنے گھر میں قربانی ہوتی ہے تو وہ منظر دیکھ نہیں پاتا اور اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے اور اس کے رشتے دار قربانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔

جب وہ شخص خود ایک بچے کا باپ بنتا ہے تو اس کے ”عقیقے“ کے لیے بکرے کی قربانی دینی ہوتی ہے وہ خود اس سے بچنا چاہتا ہے مگر رشتے دار اُسے مجبور کرتے ہیں کہ وہ خود بکرا ذبح کرے۔ بالآخر مجبوراً وہ بکرا ذبح کردیتا ہے مگر جب اس کا گوشت پکاکر اُسے پیش کیا جاتا ہے تو اس کے گوشت سے اُسے خود اپنے بچے کی خوش آتی ہے اور پھر وہ کبھی گوشت نہیں کھا پاتا۔ منشا یاد کی ایک کہانی کا ذرا طویل عنوان ہے ”چیزیں اپنے تعلق سے پہچانی جاتی ہیں“۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8