سوات کے سات رنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دریائے سوات

 یہ اور بات ہے کہ خوابوں کی تعبیر کا وقت وہ نہیں تھا۔ اب جب وقت آیا تھا تو وہ دوست ساتھ نہیں تھے۔ اب نئے مسافروں کے ساتھ ان راستوں کو کھوجنا تھا۔ بلال عالم ایک صحافی ہیں۔ سوات سے تعلق رکھتے ہیں۔ میری ان سے جب بھی بات ہوئی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ بہتر انداز میں رہنمائی کی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ رہائش کے انتظامات میں زیادہ دقت نہیں ہوئی۔ اس سلسلے میں بلال عالم کی بہت مشکور ہوں۔ رہائش کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کے انتظامات کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں تھا۔ یہ شعبہ علی بھائی نے اپنے ذمے لے لیا تھا۔ اور نہایت کم بجٹ میں ہمیں بہترین ٹرانسپورٹ کی نوید سنا دی تھی۔ اب کافی حد تک انتظامات مکمل ہو چکے تھے۔ کہ ایک روز علی بھائی کا فون آیا۔

؛فاطمہ، وہ گاڑی والے سے میری بات ہوئی ہے، وہ کہہ رہا ہے کالام کی روڈ تو بہت خراب ہے۔ آپ لوگ کشمیر چلے جاوٗ۔ اتنے ہی بجٹ میں آپ لوگ سوات سے زیادہ خوبصورت جگہ چلے جاؤ گے ؛

علی بھائی کی یہ بات سن کر میں بہت حیران ہوئی۔

:مگراب تو ہوٹلز کی بکنگ بھی ہو چکی ہے :

میں نے حیران کن لہجے میں کہا۔

علی بھائی نے جب کالام کی روڈ کی ساری تفصیلات بتائیں۔ تو مجھے بھی ماننا ہی پڑا کہ وہاں جا کر ہم راستوں میں ہی کھو کر رہ جائیں گے۔ ویسے بھی اگر مہوڈنڈ میرا عشق ہے تو رتی گلی جھیل سے بھی مجھے کم محبت نہیں ہے۔ اس لئے میں نے اپنے خوابوں کا رخ کشمیر کی طرف موڑ لیا۔ اب مجھے باقی ممبرز سے بات کرنی تھی۔ میں جانتی تھی کہ ممبرز اعتراض کریں گے مگر مجھے لگتا تھا کہ میں اُنہیں سمجھا لوں گی۔ مگر میں غلط سوچ رہی تھی اور دور کھڑے سوات کے پہاڑ بھی مسکراتے ہوے میری طرف دیکھ رہے تھے کیونکہ سوات کے آسمانوں پر ہمارا نام لکھا گیا تھا اور اب تو یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ ہم سوات کے علاوہ کہیں اور چلے جاتے۔

 سو ممبرز نے جگہ کی تبدیلی پر خوب شور مچایا۔ ایسے میں اچانک سے علی بھائی کا ایکسیڈنٹ بھی ہو گیا۔ بہت کچھ ایسا ہوا جس سے یہ لگا کہ ہم نہیں جا پایئں گے مگر ہم کیسے نہ جاتے، ہم تو پہاڑوں کے مہمان بننے جا رہے تھے۔ سوات کے سارے رنگ ہمارے منتظر تھے۔ ہمیں ان رنگوں میں بھیگنا تھا۔ جولائی کی ایک حبس بھری رات میں ہماری آوارگی کا آغاز ہو گیا تھا۔

کوٹ مومن آنے میں اور کتنا وقت رہ گیا ہے :

میں نے زاہد بھائی سے پوچھا۔ حافظ زاہد نہایت عمدہ لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ اپووا کے ممبر بھی ہیں۔ ڈرائیور کے ساتھ والی نشست انہوں نے سنبھالی ہوئی تھی اور ہمارے چہروں پر مُسکراہٹیں بکھیرنا بھی انہی کا خاصہ تھا۔ ہمارے گروپ میں زیادہ تر نوجوان لکھاری ہی تھے۔ مگر ابھی ہمارا گروپ ادھورا تھا۔ ابھی ایک شہزادی کے ہم منتظر تھے۔ کوٹ مومن سے ہم نے اس شہزادی کو اپنے ساتھ شامل کرنا تھا۔ مگر کوٹ مومن آنے میں ابھی کچھ وقت تھا اور زاہد بھائی نے بھی مجھے اشارے سے بتا دیا تھا کہ ابھی ایک گھنٹہ ہے۔

 میرے ساتھ والی نشست پر ریحانہ عثمانی بیٹھی تھیں۔ ریحانہ آپا ہماری سب سے سنئیر ممبر ہیں۔ ریڈیو پاکستان سے کئی سالوں سے وابستہ ہیں۔ شاعری بھی کرتی ہیں اور کیا کمال کی شاعری کرتی ہیں۔ مگر اس وقت وہ خاموش تھیں اور جاتے ہوے لاہور کی خوبصورتی دیکھ رہی تھیں۔ میری پیچھے والی سیٹ پر میری لاڈو رانی مہوش احسن بیٹھی تھی۔ مہوش شاعرہ، کالم نگار تو ہے ہی مگر اس کی سب سے خوبی اس کا با ادب ہونا ہے۔ یہ میری اتنی عزت کرتی ہے کہ کبھی کبھی مجھے بہت شرمندگی ہونے لگتی ہے۔

 یہ سفر مہوش کے لئے بہت خاص تھا کیونکہ وہ یہ سفر اپنے ہمسفر احسن کے ساتھ کر رہی تھی۔ سوات کے حسین راستے ہوں اور آپ کی محبت آپ کے ساتھ ہو۔ اس سے زیادہ خوبصورت زندگی نہیں ہو سکتی۔ مہوش کے ساتھ اپووا کی ہارر سپرسٹار فلک زاہد اپنے مخصوص انداز کے ساتھ کسی گہری سوچ میں گم تھی۔ ہمارے ساتھ اس سفر میں دو ٹایئگر گرلز بھی ہمارے ساتھ تھیں۔ حفظہ اور علینہ۔ علینہ کو میں اس سفر سے پہلے بہت کم جانتی تھی مگر سوات کے ان راستوں نے مجھے جس علینہ سے ملوایا وہ بہت خوبصورت ہے۔

 جو لمحوں میں میرے دل کے قریب ہو گئی۔ اس کے علاوہ ہمارے جتنے ممبرز تھے سب کا ذکر میں ساتھ ساتھ کرتی رہوں گی۔ مگر مجھے تو نایاب جیلانی کا انتظار تھا۔ نجانے کوٹ مومن کیوں نہیں آ رہا۔ وہ لڑکی جس کی منظرکشی سے مجھے عشق ہے۔ جس کے لفظ مجھے باندھ لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ سفر کتنا خوبصورت ہو گا۔ یہ سوچ کر ہی میں مسکرا اُٹھی۔

لو جی، کوٹ مومن آ گیا۔ :

علی بھائی کے کہتے ساتھ ہی ہماری کوسٹر رک گئی تھی۔ ایک عجیب سی خوشبو ہماری راہوں میں آ کر بیٹھ گئی تھی۔ مہوش اور فلک نیچے اُتر چکی تھیں۔ میں منتظر تھی کہ کوٹ مومن کی شہزادی اب ہماری ہمسفر بنے۔

؛فاطمہ، آپ بھی اُتریں، آپ کا نایاب سے پردہ ہے ؛

علی بھائی نے مسکراتے ہوے کہا۔ چاروناچار مجھے اُترنا ہی پڑا۔ اُترتے ساتھ ہی مہوش اور فلک کے ساتھ مجھے ایک بہت پیاری سی لڑکی نظر آئی۔ جس کے ساتھ ایک چھوٹی سی گڑیا اجنبی نظروں سے سب کی طرف دیکھ رہی تھی۔ نایاب آگے بڑھ کر مجھ سے ملیں اور یوں میری ساری جھجھک جاتی رہی۔ شہزادیاں کبھی خالی ہاتھ نہیں آتیں۔ سو ہماری یہ شہزادی بھی خالی ہاتھ نہیں آئی تھی۔ اپنے ساتھ آم اور کولڈ ڈرنکس لائی تھی۔ مسافروں کی پیاس بجھانے کا انتظام کرکے آئی تھی۔

نایاب کی خوشبو ہماری ہمسفر تھی۔ نایاب میرے ساتھ والی چھوٹی سی سیٹ پر بیٹھ چکی تھیں۔ ایک لمحے کو خیال آیا کہ نشست تبدیل کر لوں۔ اتنی سنیر لکھاری کے شیانِ شان اتنی چھوٹی سیٹ۔۔۔ ۔ نہیں یار۔۔۔ میں ان سے بات کرتی ہوں۔۔۔ مگر بات کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ نایاب کے آتے ساتھ ہی ہمارے مشاعرے کا آغاز ہو گیا۔ سب اپنے اپنے انداز میں نظمیں، غزلیں سنا رہے تھے۔ ماحول میں شوخی اور شرارت کے رنگ نمایاں ہو گئے تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •