سوات کے سات رنگ

میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ سوات کے پہاڑ وں کے ساتھ ساتھ مہوڈنڈ میری طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔ میں ان رنگوں میں کھو گئی تھی۔ میں نے بس کے مسافروں کی طرف نگاہ کی۔ ہماری شہزادی سمیت مسافروں کی اکژیت نیندوں کے سفر پر گامزن تھی۔ مگر نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ مجھے پہاڑوں سے ملنا تھا اور ان خوبصورت مناظر نے مجھے سونے کب دینا تھا۔
ہم واپس جا رہے ہیں
:فاطمہ، ایک پریشانی کی بات ہے :
یہ جملہ سنتے ہی میں نے چونک کر زاہد بھائی کی طرف دیکھا جو اچھے خاصے پریشان نظر آ رہے تھے۔ میں جو آڑو کے باغ میں آڑو توڑنے میں مصروف تھی۔ میرا ارادہ تھا کہ کم از کم آڑو کا ایک تھیلا تو بھر لیا جاے۔ یہ باغات کا سلسلہ سوات شہر میں داخل ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ ابھی ہم نے ناشتہ نہیں کیا تھا۔ ارادہ تھا کہ کچھ دیر اس باغ میں گزارنے کے بعد پھر ناشتہ کے لئے کسی ہوٹل کا رخ کیا جاے۔
:کیسی پریشانی: میں نے آڑو کھاتے ہوے سامنے دیکھا۔ ہمارے ممبرز کی اکژیت آڑووں کے ساتھ سلفیاں لینے میں مصروف تھی۔ پٹھان لوگ حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ یہ کون لوگ ہیں جو آڑو کو محبوبہ کی طرح سینے سے لگا لگا کر تصویریں بنوا رہے ہیں۔ اب انہیں کیا خبر کہ ہماری دنیا میں کیا کیا نہیں ہوتا۔
ہمارے سپانسرز نے ہمیں دھوکہ دے دیا ہے۔۔۔ ۔ ہم آج ہی لاہور واپس جا رہے ہیں :
ایک نہایت ہی کڑوا جملہ میری سماعتوں سے ٹکرایا تھا۔ سوات کے آڑو اچانک سے بہت کڑوے لگنے لگے تھے۔
کیا مطلب۔۔۔ میں سمجھی نہیں :
میں نے حیرت سے پوچھا۔ مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ زا ہد بھائی کیا کہہ رہے ہیں کیونکہ جو بھی تھا میرے لئے تو ناقابل یقین تھا۔ جواب میں زاہد بھائی نے جو کچھ مجھے بتایا اُس کے لئے پریشانی بہت چھوٹا لفظ تھا۔ مخٹصر یہ کہ ہمارے ٹرانسپورٹرز نے اچانک سے ہمارے مطلوبہ روٹس پر آگے لے جانے سے انکار کر دیا تھا۔ مگر مجھے زیادہ غصہ زاہد بھائی پر آ رہا تھا جو اتنی جلدی ہار مان گئے تھے اور واپس جانے کی بات کر رہے تھے۔
نہیں، نہیں۔۔۔ واپس نہیں جانا۔۔۔:
واپس جانے کے لئے تھوڑی آئے ہیں :
ایسی ہی نجانے کتنی ہی سوچییں میرے دماغ میں گردش کر رہی تھیں۔ مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ نہ سوات کے رنگ، نہ خوشبو، نہ پیڑ نہ پودے۔۔۔ سب بے وفا لگ رہے تھے۔ ابھی تو سوات شہر کی خوشبو سے ہم سب آشنا ہوے تھے۔ تمام ممبرز کچھ ہی دیر میں ناشتہ کے لئے ایک دیسی ڈھابہ ہوٹل میں موجود تھے۔ اور ممبرز کی سرگوشیاں بتا رہی تھیں کہ یہ راز اب راز نہیں رہا۔ تمام ممبرز اس سے آگاہ ہو چکے ہیں۔
فاطمہ، میری علی بھائی سے بات ہوئی ہے۔۔۔ ہم مینج کر لیں گے :
یہ خوشبووں جیسا جملہ بولنے والی ہستی علینہ کی تھی۔ میں نے مسکرا کر اپنی اس ٹائیگر دوست کی طرف دیکھا جو اس لمحے مجھے اس شہر محبت کے کسی پھول کی مانند ہی لگی تھی۔
تھوڑی ہی دیر میں ہم دریاے سوات دیکھنے کے لئے گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔ ایک بار پھر سے سوات کی خوبصورتی نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا تھا گو کہ ابھی سوات کے اصل رنگ شروع نہیں ہوے تھے۔ ابھی گرمی تھی، ہواوں کی سرگوشیوں میں بھی ابھی کوئی نئی بات نہیں تھی مگر پھر بھی سب اچھا لگ رہا تھا۔ ہماری بس میں ایک بار پھر سے میوزک کی زبان گونج رہی تھی۔ میرے ساتھ بیٹھی چھوٹی سی گڑیا ذوئی کی آواز بھی ان آوازوں میں شامل ہو چکی تھی۔ دریاے سوات کے پانیوں نے اپنی جھلک دکھانی شروع کر دی تھی۔ سفر ایک بار پھر سوات کے رنگوں میں رنگ گیا تھا۔
راستہ بتا دو بھائی۔۔۔
بھائی، یہ کالام کی طرف کون سی روڈ جاتی ہے :
ہمارا ڈرائیور مسلسل تیسری دفعہ ایک راہگیر سے راستہ پوچھ رہا تھا اور جواب میں راہ چلتے پٹھان نے جس سڑک کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اس کی بھی پچھلی روڈ کی طرح شاید کوئی منزل نہیں تھی۔ ہم تقریباً ایک گھنٹے سے راستہ راستہ کھیل رہے تھے مگر کالام کی طرف جانے والی سڑک ہماری نظروں سے اوجھل تھی۔ سوات میں آنے سے پہلے بہتر ہوگا کہ آپ ان راستوں کے متعلق معلومات حاصل کرکے آیئیں کیونکہ اس معاملے میں مقامی لوگوں پر انحصار کرنا سردرد کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
ہمارا ڈرایؤر بھی مقامی نہیں تھا۔ ایسے راستوں پر بہتر ہوگا کہ آپ کسی مقامی گاڑی والے کو ہی ساتھ لے کر چلیں۔ دو گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد بالاآخر ہمیں کالام والی روڈ مل ہی گئی۔ یہ وہی سڑک تھی جس پر ہم پہلے بھی آ چکے تھے۔ مگر تب یہ سڑک بھی ہمارے ساتھ شرارت کے موڈ میں تھی۔ کالام جانے والی سڑک اب ہماری رہنما تھی۔ مجھے لگتا ہے کالام جانے والی سڑک کو سڑک کہنا اس روڈ کی توہین ہے۔ یہ سڑک نہیں ہے یہ کوئی پتھروں کا شہر ہے۔
ایک ایسا شہر جہاں ہر چیز پتھر کی ہے۔ یہ کوئی معمولی پتھر نہیں ہیں۔ ان پتھروں سے خوف چھلکتا ہے۔ اس سڑک پر گاڑی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے اسی حساب سے خوف کی رفتار بھی تیز ہوتی چلی جاتی ہے۔ مجھے اس سڑک کی طوالت سے اب سخت بیزاری ہونے لگی تھی۔ کالام جانے والی یہ سڑک ابھی زیرتعمیر ہے جو خود تو تعمیر کے مرحلے سے گزر رہی ہے مگر مجھے لگتا ہے یہ اس روڈ پر چلنے والے مسافروں کو بھی اس تعمیر میں اپنے ساتھ شریک کرنا چاہتی ہے تبھی تو یہ مسافر اس سفر کے دوران گر گر کر سنبھلتے ہیں۔ میں اپنی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک مجھے سسکیوں کی آواز آنے لگی۔ میں نے بے اختیار پیچھے مُڑ کر دیکھا۔ میری آنکھیں جو منظر دیکھ رہی تھیں وہ میرے لئے تکلیف دہ ہونے کے ساتھ ساتھ ناقابل یقین تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

