پاکستان کی ایک بیٹی امریکہ میں


میں نے جہاز میں ہی امیگریشن کے کارڈ اور صحت کے سرٹیفکیٹ کا فارم بھرلیا تھا اور تھکن کے باوجود جلدی جلدی نکل کر آئی کہ لائن میں جتنی جلدی پہنچ جاؤں گی اتنی جلدی فارغ ہوکر جلداز جلد ابو کے پاس ہسپتال پہنچ سکوں گی۔ میں امریکا آتی تھی تووہاں بھی یہی کرتی تھی۔ کیوں کہ وہاں بھی آنے والوں کی طویل لائن میں آخر میں ہونے کی وجہ سے دیر ہوجاتی تھی۔

امیگریشن کے ہال میں ایک طوفانِ بدتمیزی تھا۔ میں لائن کے درمیان میں تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آگے سے کوئی افسر آکر کسی پیچھے والے کو لے کر آگے چلا جاتا تھا۔ جان پہچان، رشتہ داری، سورس سفارش کے بل بوتوں پہ لائن کی دھجیاں کی جارہی تھیں۔ امیگریشن کے افسر تھکے ہوئے چہروں پر فرعونوں کی رعونت کے ساتھ دبئی سے چڑھنے والے پاکستانیوں سے بات کررہے تھے جومزدور بھی تھے جاہل بھی۔ کوئی کیمبل پور سے تھا تو کوئی میرپور خاص کا باسی۔ پاکستان کے دور دراز کے علاقوں سے پیسہ کمانے کے لیے جانے والے مزدوروں کے ساتھ امیگریشن والوں کا رویہ دیکھ کر مجھے غصہ تو بہت آیا مگر میں خود اس وقت بہت پریشان تھی۔ لائنوں کی توڑ پھوڑ کو دیکھتی رہی اور خاموشی سے انتظار کیا کہ باری آجائے تو باہر جاؤں۔

امیگریشن کا ٹھپا لگوا کر میں باہر آئی تو میرا سوٹ کیس مجھے سامنے ہی نظر آگیا، اسے لے کر اسکین کراکر گرین چینل سے نکلنے لگی تو کسٹم افسر نے مجھے روک لیا، ”دبئی سے آئی ہیں بی بی ذرا چیک کرادیں۔ “

”نہیں، میں امریکا سے آرہی ہوں، ذرا جلدی میں ہوں۔ میرے والد کی طبیعت خراب ہے فوراً ہی ہسپتال جانا ہے۔ کچھ نہیں ہے میرے پاس۔ “ میں نے تقریباً التجا سی کی تھی۔

”نہیں بی بی چیک تو کرانا ہوگا۔ “ اس نے مشکوک لہجے میں کہا۔ میں نے سوٹ کیس کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ اس نے جلدی جلدی دائیں بائیں ہاتھ مارا اور مجھے جانے کی اجازت دے دی۔
باہر میرا ماموں زاد بھائی مجھے لینے کے لیے کھڑا تھا۔
”ابو کیسے ہیں؟ “ میں نے دیکھتے ہی سوال کیا۔

”ابھی تک آئی سی یو میں ہیں۔ “ اس نے جواب دیا۔ ”چلو، ہسپتال ہی چلو، پہلے ابو کو دیکھ لوں۔ “ وہ مجھے تیزی سے ڈرائیو کرتا ہوا ہسپتال لے کر پہنچا تھا۔ امی آئی سی یو کے باہر کاریڈور میں ایک بنچ پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ تشویش ان کے چہرے پر تھی۔ ہم دونوں ماں بیٹی گلے لگ گئے۔ دونوں کے چہرے آنسوؤں سے تر تھے۔ ”امی ابو اچھے ہوجائیں گے نا؟ “ میں نے سوال کیا، یہ جانتے ہوئے کہ امی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔

میں آئی سی یو کی نرس سے ملی۔ اس نے مجھے آئی سی یو کا نیلا گاؤن دیا جسے پہن کر میں اندر گئی۔ ابو بے ہوش تھے۔ ان کے منہ سے سانس کی نالی میں ٹیوب جارہا تھا۔ ان کے جسم کے مختلف حصوں میں مختلف ٹیوب لگے ہوئے تھے۔ ان کی آنکھیں بند تھیں اور وہ مشین کے ذریعے سانس لے رہے تھے۔ ان کے سینے کا زیروبم ان کی زندگی کی شہادت دے رہا تھا۔ میں نے ان کے چہرے کو چوما، ان کی پیشانی پہ اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ بہت دیر تک ان کے پیروں کے پاس کھڑے ہوکر دھیرے دھیرے ان کے تلوے سہلاتی رہی، ان کی انگلیوں کو سہلاتی رہی۔

ان کا شیو بڑھا ہوا تھا۔ چہرے پر ویرانی تھی مگر مجھے لگا جیسے ایک سکون سا بھی ہے۔ یا اللہ میرے ابو کوبچالے! میرے دل کی دھڑکن سے یہی آواز آرہی تھی۔ میرے مالک میرے ابو کو بچالے، میرے خدا حفاظت کر ان کی۔ مالک وہی کر جو میرے ابو کے لیے میری امی کے لیے میرے لیے اچھا ہے۔ تیرے پاس کیا کمی ہے مالک! تھوڑے دن اور یہ زندہ رہ لیں گے تو کیا ہوگا مدد کر مولا۔ مولا۔ مولا۔ میرے مولا۔

میں نے اسلم کوکہا کہ امی کو گھر لے جائے انہیں تھوڑا آرام کی ضرورت ہے میں یہاں بیٹھی رہوں گی۔ میں نے سوچا کہ صبح ڈاکٹر سے میں خود بات کرلوں گی تو کچھ اندازہ ہوگا کہ آگے کیا صورتِ حال بنے گی۔ امی نے جانے سے منع کردیا تھا اور کہا کہ وہ بھی صبح تک میرے ساتھ رکیں گی۔

ہم دونوں ماں بیٹی وہاں بیٹھے رہے۔ ابو کی باتیں کرتے رہے۔ بیتے دنوں کی چھوٹی چھوٹی باتیں۔ وہ مجھے ہر وقت یاد کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا، ”ابو کا بلڈ پریشر بڑھا ہوا تھا اور وہ پابندی سے ڈاکٹر کے پاس جارہے تھے۔ ہر دفعہ پانچ سو روپے فیس ہوتی۔ ہر دفعہ دو ہزار روپے کا ٹیسٹ ہوتا مگر گزشتہ چھ مہینوں سے ان کا بلڈپریشر اوپر نیچے ہی ہورہا تھا، قابو سے باہر۔ ہم لوگوں کے پاس تو پیسے ہیں، خدا کا دیا سب کچھ ہے مگر جن کی تنخواہیں تین ہزار چار ہزار مہینے ہوتی ہوگی، ان کا کیا ہوتا ہوگا؟ کیسے علاج کراتے ہوں گے وہ لوگ؟ کس طرح سے دوائیں آتی ہوں گی ان کی؟ ہر چیز مہنگی ہے دوائیں، ڈاکٹر اور ہسپتال۔ “ امی نے بڑے افسوس سے کہا۔

”انہیں ہوا کیا تھا امی؟ “ میں نے سوال کیا۔

”سب ٹھیک تھا بیٹے۔ ٹھیک ٹھاک سوئے تھے۔ صبح اٹھے تو سر میں درد تھا۔ میں نے بلڈ پریشر لیا تو بڑھا ہوا تھا حالانکہ انہوں نے اپنی دوا بھی کھائی تھی۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو فون کرکے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ بلڈ پریشر کی ایک گولی اور کھالیں جو میں نے انہیں کھلادی مگر پھر نجانے کیا ہوا کہ وہ یکایک زمین پر گرگئے۔ ساتھ ہی بے ہوش ہوگئے تھے۔ ساجد کی مدد سے میں نے انہیں اٹھا کر میز پر لٹایا۔ ڈاکٹر کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ فوراً ہی انہیں ہسپتال لے جائیں۔

میری تو سمجھ میں ہی کچھ نہیں آیا تھا۔ تمہارے ماموں جان کو فون کیا تو وہ ایدھی کی ایمبولینس لے کر پہنچے۔ میں بھی ایمبولینس میں ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی۔ اتنی تکلیف دہ گاڑی تھی کہ کیا بتاؤں۔ تم نے نہیں دیکھا ہوگا چھوٹی سوزوکی وین میں یہ ایمبولینس ہوتی ہے۔ جھٹکوں کے ساتھ چلاتا ہوا ڈرائیور بڑی تیزی سے ہمیں لے کر نکلا مگر صبح کا وقت اور صبح کی ٹریفک۔ کوئی بھی ایمبولینس کو راستہ دینے کو تیار نہیں تھا، سائرن کے باوجود۔ کچھ ڈرائیور کی بے ہنگم ڈرائیوری اور کچھ ٹریفک پولیس کی مدد سے ہم لوگ ٹریفک سے نکل کر ہسپتال پہنچے۔ یہ غنیمت تھا کہ جیسی بھی ہے کم از کم ایمبولینس مہیا تو ہے، چلتی تو ہے، مل تو جاتی ہے۔ سرکار نے یہ نظام چلایا ہوتا تو کچھ بھی نہیں ملتا لوگوں کو۔ ”امی نے طویل جواب دیا تھا۔

”کیزولٹی میں ڈاکٹر نے دیکھا، جلدی جلدی کچھ انجکشن لگائے، آکسیجن دیا۔ پھر کہا کہ انہیں آئی سی یو کی ضرورت ہے جس کا خرچا تقریباً دس ہزار روپے روز کا ہوگا۔ اگر ہم لوگ راضی ہیں تو کم از کم ساٹھ ہزار روپے ایڈوانس جمع کرانے ہوں گے۔ میں گھر سے پندرہ ہزار لے کر نکلی تھی۔ ساٹھ ہزار کس کے پاس ہوتے ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ جلد انہیں آئی سی یو میں شفٹ کریں، میں دو گھنٹے میں بینک سے پیسے منگوادوں گی مگر ڈاکٹر نے کہا کہ ہسپتال کا قانون تو وہی ہے جو اس نے بتایاد تھا۔ پھر تمہارے ماموں جان نے جا کر بات کی تو جانے کے دوگھنٹے کے بعد انہیں لایا گیا۔ میں گھر گئی چیک بک نکال کر بینک سے پیسے نکالے۔ تب سے یہاں بیٹھی ہوں، تمہارے انتظار میں اور اس انتظار میں کہ ڈاکٹر اچھی خبر دیں۔ “

علاج مہنگا ہوگا، یہ تو مجھے پتا تھا مگر اس طرح سے ہوگا، اس کا اندازہ مجھے نہیں تھا۔ میں ان کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھی رہی تھی۔ امی نے کہا کہ ”نجانے غریب لوگ کیا کرتے ہوں گے۔ گھر پر ہی دم توڑدیتے ہوں گے۔ راستے میں ہی جان نکل جاتی ہوگی۔ کیزولٹی سے ہی بن علاج کے گھر چلے جاتے ہوں گے۔ کس کے پاس اتنا پیسہ ہوتا ہے۔ ہم تو خوش قسمت ہیں، خدا کی مہربانی ہے، جتنا بھی شکر کریں کم ہے۔ “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5