پاکستان میں عوامی تحریکیں اور مزاحمتی ادب
اسی طرح مسعود اشعر کے افسانوں کو پڑھیے تو ان کے کئی افسانے مشرقی پاکستان کے سانحے کی تنبیہ یا باز گشت معلوم ہوتے ہیں۔ مسعود اشعر کے افسانوں کا مجموعہ ”آنکھوں پر دونوں ہاتھ“ 1974 میں شائع ہوا تھا۔ اس کے ایک افسانے کا عنوان ہے ”اپنی اپنی سچائی“۔ مشرقی پاکستان کے واقعات کے پس منظر میں لکھے گئے اس افسانے کی یہ سطریں دیکھیے جو ایک عورت سے کہلوائے گئے ہیں۔
”رات کو توپوں کی گھن گرج میں وہ آئے اور کہنے لگے اپنے مرد ہمارے حوالے کردو، سارے مرد ہمارے ساتھ آجائیں۔ میں نے کہا یہ میرا بیٹا تو مرد نہیں ہے، بچہ ہے مگر انہوں نے میری طرف اس طرح دیکھا جیسے وہ میری بات نہیں سمجھے، جیسے میری آواز ان کے کانوں تک پہنچی ہی نہیں۔
”تم بھی یہاں سے کہیں نہیں جاؤ گی! “
” میں یہاں سے کہاں جاسکتی ہوں! مگر تم لوگ یہ تو دیکھو“۔ ”ہم سب کچھ دیکھ لیں گے۔ “ انہوں نے ایک قہقہہ لگایا۔ ”تم سامنے سے ہٹ جاؤ۔ “
میں سامنے سے ہٹنے کا مطلب نہیں سمجھتی تھی مگر جب وہ میری بیٹی کی طرف بڑھے تو ان کا مطلب سمجھ گئی اور آگے بڑھی۔ ”یہ تو میری بیٹی ہے۔ یہ تمہاری بیٹی ہے یہ مرد نہیں ہے۔ “
”بیٹی، کس کی بیٹی! “ ان کی آنکھیں سادہ کاغذ کی طرح بالکل سفید تھیں!
اور پھر زمین کی کوکھ ننگی ہوگئی۔ میری بیٹی اپنے باپ اور بھائیوں کے سامنے ننگی ہوگئی۔ انہوں نے اس کی ساڑھی پکڑ کر کھینچی اور وہ ساڑھی لمبی ہونے کے بجائے ان کے ہاتھوں میں لپٹ گئی۔ ساڑھی ختم ہوگئی میری بیٹی درو پدی نہیں تھی۔ ”
مسعود اشعر کا یہ افسانہ پڑھتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ گوکہ اس میں کرداروں کے کوئی نام نہیں ہیں۔ نہ ہی موقع واردات کی کوئی وضاحت ہے مگر کہانی پڑھتے ہوئے آپ سب سمجھ جاتے ہیں کہ یہ کس دور میں اور کس جگہ پر ہوا ہوگا اور یہ مزاحمتی ادب کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
مسعود اشعر کے ایک اور افسانے ”ڈاب اور بیئر کی ٹھنڈی بوتل“ میں مغربی پاکستان کے کچھ لوگ مشرقی پاکستان کا سفر کررہے ہیں اور لانچ پر مقامی بنگالی ان کے میزبان ہیں۔ مسعود اشعر لکھتے ہیں۔
”حسنہ بیگم کے شوہر نے جن صاحب کو ہمارا ناخدا بنایا تھا ان کا نام ابوالکلام محمد جلیل الدین تھا۔ جسے مختصر کرکے وہ اے کے ایم جلیل لکھا کرتے تھے مگر جب حسنہ بیگم کے شوہر نے ان کا تعارف کرایا تو جلیل کی ج، ذ، بن گئی تھی اور ہمارے لیے ہنسی روکنا مشکل ہوگیا تھا۔ لانچ پر جب بھی ہمیں ان کے نام کایہ تلفظ یاد آتا تو ہنسی کے مارے برا حال ہوجاتا۔ “
یہ تھا وہ مغربی پاکستانی رویہ جس کی عکاسی مسعود اشعر نے کی ہے جو بالآخر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں نکلا تھا۔
اسی پس منظر میں مسعود اشعر کے ایک اور افسانے کا عنوان ہے ”بیلا نائی رے، جولدی، جولدی“ یعنی ”وقت نہیں ہے جلدی کرو“ اس افسانے میں بھی ہمیں مغربی پاکستانیوں کے استحصالی رویے اور تضحیک آمیز باتوں کی صاف عکاسی نظر آتی ہے۔ یہ افسانہ مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن کے خلاف لکھا گیا ہے۔ اس دور میں مزاحمتی ادب لکھنے والوں میں شہزاد منظر اور زین العابدین بھی بڑے نام ہیں۔
مظہرالاسلام کے افسانوں کا مجموعہ ”گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی“ جنرل ضیاءالحق کے دور میں 1982 میں شائع ہوا۔ اس کا ایک افسانہ ”کندھے پرکتوبر“ ایک ایسے بچے کی کہانی ہے۔ جو اسکول سے واپس آکر اپنے گھر کوبند پاتا ہے۔ اس کا چوکیدار غایب ہے اور گھر کے اندر سے سڑی ہوئی بدبو کی شدید بساند اٹھ رہی ہے۔ وہ درازہ کھولنے کی کوشش میں ناکام ہوکر دیوار پر چڑھتا ہے تو کیا دیکھتا ہے مظہر الاسلام کی زبانی سنیے۔
”جسم کو سنبھالتے ہوئے اس نے صحن میں جھانکا تو حیرت اس کے چہرے پر ناچنے لگی۔ چوکیدار اکڑ کر کسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا دھڑ بھیڑیے کے دھڑ میں تبدیل ہوگیا تھا۔ اسے یقین نہ آیا تو اس نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر پسینہ خشک کیا۔ آنکھیں ملیں اور پھر صحن میں جھانکا۔ چوکیدار واقعی بھیڑیا بن چکا تھا اور کسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ کرسی کے قریب ہی ایک چوہا کوئی چیز کتر رہا تھا۔ اس نے گھبرائی ہوئی آواز میں پکارا۔ چوکیدار۔ چوکیدار۔ چوکیدار غرایا، غراہٹ میں ملی بو اس کی طرف لپکی تو اس نے سانس روک کر دونوں انگلیاں کانوں میں ٹھونس لیں۔ اسے یوں لگا جیسے بھونچال آگیا ہو اور دیوار گرنے کے لیے بے چین ہو۔ وہ جم کر دیوار پر بیٹھ گیا۔ بھیڑیے کی طرف ٹکٹکی باندھ کر سوچنے لگا کیا چوکیدار کے اندر پہلے سے بھیڑیا موجود تھا یا باہر سے آکر کوئی بھیڑیا اس کے اندر داخل ہوگیا ہے۔ وہ یہ سوال کسی اور سے بھی پوچھنا چاہتا ہے۔ یہ بات سننے اور پڑھنے والو اگر آپ کو اس سوال کا جواب معلوم ہے تو آپ ہی اسے بتا دو۔ “
مظہر الاسلام کی اس کتاب کو چھپے کوئی چار عشرے گزر چکے ہیں لیکن چوکیدار اب بھی بھیڑیا بن کر کرسی پر بیٹھا ہے اور گھر سے اٹھنے والی سڑاند بدستور آرہی ہے بلکہ اس میں اضافہ ہوچکا ہے۔ لیکن مظہر الاسلام کا یہ افسانہ مزاحمتی ادب کا ایک شاہ کار اس وقت بھی تھا اور آج بھی ہے۔
اسی طرح 1984 میں نعیم آروی کے افسانوں کا مجموعہ ”گرد آلود شام“ شائع ہوا۔ اس کا ایک افسانہ ”گودھرا کیمپ“ بنگالیوں اور بہاریوں کے حالات کی درد انگیز عکاسی کرتا ہے۔ افسانے کے آغاز پر ایک بنگالی عورت خاردار تاروں سے لپٹی اپنے شوہر کو پکارتی ہے۔ شمس الدین، شمو دین۔ وہ پاگل ہے اور اس کا شوہر مکتی باہنی کے ساتھ لڑتے ہوئے مارا گیا ہے۔ کراچی کے گودھرا کیمپ کے فلیٹوں میں بنگالی فوجیوں کو گراؤنڈ کردیا گیا ہے۔ یعنی وہ کیمپ میں زیر حراست ہیں۔ جس کے دروازوں پر میانوالی اور جہلم کے سپاہی پہرے دے رہے ہیں۔ پھر یہ گودھرا کیمپ خالی ہوجاتا ہے اور کچھ دن بعد اس میں لٹے پٹے بہاری آباد ہوتے ہیں۔ ان میں ایک عورت بھی ہے۔ نعیم آروی لکھتے ہیں۔
”خاردار تاروں کے قریب ایک ادھیڑ عمر عورت بیٹھی ہوئی زمین پر لکیریں کھینچ رہی تھی۔ بہاری عورت چاہے کچھ ہوجائے سر پر آنچل ضرور ڈالتی ہے مگر اس کا سر ننگا تھا، ساڑھی میلی اور اس پر جگہ جگہ پیوند لگے تھے۔ مجھے قریب دیکھ کر سر اٹھایا۔ کیا بتاؤں اس کی سادہ آنکھوں میں کیا تھا۔ وہ کئی لمحے خالی خالی نگاہوں سے گھورتی رہی پھر اچانک اٹھ کھڑی ہوئی اور میرے قریب آکر سوال کیا۔
”تمہیں نہال ملا تھا۔ نہال ببوا مل جائے تو کہیو تمری ماں انتظار کررہی ہے۔ “
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں



ڈاکٹر ناظر محمود صاحب ۔۔۔ بہت اعلیٰ تجزیہ ، انتہائی دقیق معلومات اور بھرپور توجہ سے تیار شدہ آرٹیکل ہم تک پہنچانے پر تبریک قبول فرمائیں ۔۔
میں سمجھتا ہوں اس مختصر تحریر میں گذشتہ پچاس سال کے مزاحمتی ادب کا اس خوبصورت انداز میں احاطہ کیا گیا ہے کہ ہم جیسے لاکھوں طلباء کےلئے ایک جامع لائبریری جیسی رہنمائی مل گئی ہے اب اسی احاطے میں رہ کر ہم اگر مذکورہ کتب ہی کا مطالعہ کر لیں تو ہم پاکستانی کے مزاحمتی ادب پر بھرپور جانکاری حاصل کر سکتے ۔۔ آپ پر سلامتیاں نازل ہوں اور علمی و قلمی تاثیرات میں اضافہ ہو