پاکستان میں عوامی تحریکیں اور مزاحمتی ادب


 ”سامنے چوراہے پر پولیس کا پہرہ تھا۔ چاروں سڑکوں کو ڈرم رکھ کر ٹریفک کے لیے بند کردیا تھا۔ اکا دکا گاڑیوں کی چیکنگ ہورہی تھی۔ ایک کونے میں بنے کھوکے کے سامنے اسٹور میں جلتی آگ پہ چائے کے دیگچے رکھے تھے۔  سپاہی چارپائیوں پر، نیم دراز کرسیوں پربیٹھے اور چوراہے میں ٹہلتے بہت غیر مانوس اور پرائے لگ رہے تھے۔

ہمیں رکشے کی پچھلی سیٹ پر نیم دراز دیکھ کر ایک سپاہی نے ٹارچ کی روشنی اندر پھینکی اور بولا۔

 ”ہونہہ، پی رکھی، باہر آؤ“

 ”میرا دوست ہے بیمار ہے بہت سخت“

سپاہی نے بے یقینی سے دوبارہ اندر جھانکا اور ٹارچ پتلون کی بیلٹ میں اڑس کر بولا۔

 ”زیادہ پی کر بندہ بیمار ہوجاتا ہے۔  باہر نکلو۔ “

احمد داؤد کے اس افسانے میں وہ مریض دوست بالآخر سڑکوں پر ہی فوت ہوجاتا ہے۔  جسے احمد داؤد شہید قرار دیتے ہیں۔  اس افسانے کو پڑھیے اور گلگت سے گوادر تک جگہ جگہ لگے ہوئے ناکے یاد کیجیے تو آپ کو یہ مزاحمتی ادب اپنے معاشرے کی عکاسی کرتانظر آئے گا۔ چاہے وہ بلوچستان ہو یا وزیرستان کوئی بھی ان ریاستی رویوں سے محفوظ نہیں۔

اعجاز راہی کا افسانہ ”سہیم ظلمات“ یعنی اندھیروں کے شریک۔ یہ افسانہ علامتی ہونے کے باوجود بہت کچھ کھلے الفاظ میں بیان کرتا ہے۔

 ”عذرا کی بے گورو کفن لاش۔ میرے گھر کے دروازے پر پڑی تھی۔ اس کے جسم کے بعض حصوں کو گِدھوں نے نوچ لیا تھا۔ جہاں سے تازہ تازہ لہو بہہ بہہ کر زمین کے سینے کو سیراب کررہا تھا۔ ہر دروازے کے سامنے ایک عذرا کی لاش پڑی تھی اور ان کے جسموں سے بہنے والے لہو نے پدما کو سرخ کردیا تھا اور جب سرخ پدما میں سیلاب آیا تو میرا، ہمارا سب کچھ بہہ گیا۔ “

اعجاز راہی اس افسانے میں کچھ آگے چل کر لکھتے ہیں۔

 ”زلزلے کی کدالیں لمحہ بہ لمحہ بنیادوں کو کھوکھلا کررہی ہیں“ وہ سنی ان سنی کرکے کہتا رہا لیکن تم محسوس نہیں کررہے۔  تم محسوس نہیں کرتے۔  تم ہمیشہ کی طرح اس بار پھر محسوس نہیں کرو گے۔  ”

بوڑھا فوجی ہنسا، پھر دوسرا، پھر تیسرا اور ہولے ہولے اس کے فکر زدہ چہرے پر قہقہوں کا ٹڈی دل ٹوٹ پڑا۔  ”

اعجاز راہی کا یہ افسانہ ”سہیم ظلمات“ جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاء کے نفاذ کے صرف آٹھ ماہ بعد مزاحمتی ادب کے مجموعے ”گواہی“ میں شائع ہوا تھا۔ اس کے مرتب اعجاز راہی تھے جنہیں اس جرم کی پاداش میں کئی برس تک ملازمت سے برطرفی کا زہر پینا پڑا تھا۔ اس مجموعے میں مختلف افسانہ نگاروں کی چودہ کہانیاں شامل تھیں۔

اسی طرح کے مزاحمتی ادب میں افضل توصیف کا ایک افسانہ ہے ”پچیسواں گھنٹہ“۔  اس میں وہ اکثر لوگوں کی خود غرضی اور معاشرے سے لاتعلقی کو خوب نشانہ بناتی ہیں۔  مثلاً یہ دیکھیے۔

 ”یہ وہی ہے جو کہا کرتا تھا اور بالکل SMVG چہرے کے ساتھ۔ “ میں زندگی سے بالکل مطمئن ہوں اس لیے کہ میں صرف اپنے لیے سوچتا ہوں اور اپنی آخرت کے لیے۔  ”

بکری بھی کچھ اسی طرح سوچتی ہے جگالی کرتے ہوئے اس کا چہرہ بھی اتنا ہی خالی ہوتا ہے۔  ”

پھر آگے چل کر افضل توصیف لکھتی ہیں۔

 ”مگر تم کہتے ہو راوی خشک ہوگیا ہے اس میں ریت اڑتی ہے۔  ہاں اڑتی ہے پھر؟ میں چاہتا تھا وہ بات کو جاری رکھے۔  راوی کا پانی سوکھ نہ جاتا تو سارے موسم آتے جاتے رہتے۔  گرمی۔ سردی۔ بسنت بہار۔ اب کیا ہے۔  ایک ویسٹ لینڈ کا منظر ہے۔  اگر ایسا نہ ہوتا تو آج ہم کسی آنے والے موسم کی بات کرسکتے تھے۔  آخر تمہارا بھی تو ہاتھ ہے اس ویسٹ لینڈ کی تعمیر میں۔ “

آج 2019 ءمیں ہم جو اپنے ارد گرد ویسٹ لینڈ دیکھ رہے ہیں۔  افضل توصیف نے پچاس سال پہلے اس ویسٹ لینڈ کی نشان دہی کی تھی لیکن ہماری ریاست اور اس کے حکم ران نہ اس وقت اس پر فکر مند تھے نہ اب ہیں۔  انہیں صرف اپنے مفادات سے غرض ہے۔  ان کے اپنے ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن بنتے رہنے چاہئیں باقی ملک اگر ویسٹ لینڈ بن جاتا ہے تو ان کی بلا سے۔  ان کو تو اپنے ”قومی سلامتی“ کے بیانیے گانے بجانے سے فرصت نہیں ہے۔  یہی وہ ویسٹ لینڈ ہے جو سو برس پہلے ٹی ایس ایلیٹ نے پہلی جنگ عظیم کے پس منظر میں لکھاتھا۔ ۔ ۔ ؟

اکرام اللہ کا افسانہ ”سیاہ آسمان“ بھی اسی مزاحمتی ادب کی ایک کڑی ہے۔  اس میں راوی اندھیری سیڑھیوں پر چڑھتا جارہا ہے۔  مگر نہ سیڑھیاں ختم ہوتی ہیں اور نہ اس کا مطلوبہ فلیٹ سامنے آتا ہے اور وہ سینکڑوں سیڑھیاں بس چڑھتا چلا جارہا ہے۔  لکھتے ہیں۔

 ” میں نے اپنے سر کے ارد گرد کسے لوہے کے کڑے کو ہاتھ لگاکر دیکھا وہ اب بھی اتنا تنگ اور سرد تھا کہ میرے سر اور ماتھے کی کھال کے اندر گھسا جارہا تھا۔ دھاتیں سردی سے سکڑ جاتی ہیں نا۔ ہر زن و مرد کے سر کے ارد گرد خدا معلوم کیوں اور کیسے لوہے کے کڑے خود بخود کسے گئے جو روز بروز تنگ سے تنگ تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔  بچوں کے سروں پر تو لوہے کے پورے خود کس گئے ہیں اور نومولودتو خیر اب پیدا ہی خودوں سمیت ہوتے ہیں۔ “

اکرام اللہ نے تویہ افسانہ عرصہ پہلے لکھا تھا لیکن آج بھی ہمارے تعلیمی نظام کے ذریعے میڈیا کو استعمال کرکے ہمارے اور ہمارے بچوں کے دماغوں کوشکنجوں میں نہیں جکڑا جارہا؟

اکرام اللہ آگے لکھتے ہیں۔

 ”آئندہ پندرہ بیس سال بعد انشاءاللہ کسی کو لوہے کی کڑوں کی تنگی کی شکایت نہ رہے گی کیوں کہ اس وقت تک ہر شکایت کرنے والے کا بھیجا تڑخی ہوئی کھوپڑی میں سے ابل کر خارج ہوچکا ہوگا۔ “

کس قدر درست لکھا تھا اکرام اللہ نے کیا اب بھی اس ادب کی صداقت پر شبہ کیا جاسکتا ہے۔

اسی طرح امراؤ طارق کے افسانے ”کیمرہ پروسیڈنگ“ کو لیجیے۔  جس عدالت کی کارروائی بند کمرے میں ہورہی ہے۔  جسے پڑھ کر کافکا کا افسانہ ”ٹرایل“ یاد آجاتا ہے۔  مگر امراؤ طارق کے افسانے میں مقدمہ ایک کہانی کار کے خلاف چل رہا ہے لکھتے ہیں۔

 ”جناب والا ملزم کہانی کار نے ایسی کہانیاں لکھنی شروع کردیں جن میں معاشرے کی کسی ایسی برائی کی نشان دہی ہوتی جن پر پردہ ڈالنا پورے معاشرے کے مفاد میں تھا۔ “

فیصلے کے مطابق پورے شہر میں منادی کرادی جاتی ہے کہ کوئی دکان دار ملزم کہانی کار کو کاغذ قلم یا لکھنے پڑھنے سے متعلق کوئی بھی چیز فروخت نہ کرے ورنہ سخت سزائیں دی جائیں گی۔ اب ملزم اپنی انگلیاں فگار کرکے اپنے خون سے کہانیاں لکھتا رہتا ہے۔

 ”می لارڈ خون سفید ہوجانے کی چیز ہے یا زیادہ سے زیادہ خون تھوکا جاسکتا ہے۔  اس سے کہانیاں لکھنا خلاف روایت ہے اور روایت سے بغاوت ہے اور عالی جاہ اس طرح ملزم بغاوت کے جرم کا مرتکب ہوا ہے۔ “

افسانے کے آخر میں امراؤ طارق ملزم کہانی کار کی بیوی سے یہ الزام کہلاتے ہیں۔

 ”جناب والیٰ جب میرے شوہر کی زبان کٹ گئی تو اس نے کہانیاں لکھنا شروع کردیں۔  اس کا قلم ضبط ہوا۔ اس نے خون میں انگلیاں ڈبولیں۔  پھر اس کی انگلیاں قلم ہوئیں اور اب پھر زبان کاٹنے کی سفارش کی گئی ہے۔ “ مقدمے کے آخر میں عدالت اپنے فیصلے کو تاقیامت محفوظ کرلیتی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7

One thought on “پاکستان میں عوامی تحریکیں اور مزاحمتی ادب

  • 07/01/2020 at 5:10 شام
    Permalink

    ڈاکٹر ناظر محمود صاحب ۔۔۔ بہت اعلیٰ تجزیہ ، انتہائی دقیق معلومات اور بھرپور توجہ سے تیار شدہ آرٹیکل ہم تک پہنچانے پر تبریک قبول فرمائیں ۔۔
    میں سمجھتا ہوں اس مختصر تحریر میں گذشتہ پچاس سال کے مزاحمتی ادب کا اس خوبصورت انداز میں احاطہ کیا گیا ہے کہ ہم جیسے لاکھوں طلباء کےلئے ایک جامع لائبریری جیسی رہنمائی مل گئی ہے اب اسی احاطے میں رہ کر ہم اگر مذکورہ کتب ہی کا مطالعہ کر لیں تو ہم پاکستانی کے مزاحمتی ادب پر بھرپور جانکاری حاصل کر سکتے ۔۔ آپ پر سلامتیاں نازل ہوں اور علمی و قلمی تاثیرات میں اضافہ ہو

Comments are closed.