پاکستان میں عوامی تحریکیں اور مزاحمتی ادب
جنرل ضیاءالحق کے ہی دور میں شائع ہونے والی ایک اور کتاب سعیدہ گزدر کے افسانوں کا مجموعہ ”آگ گلستاں نہ بنی“ ہے جو بھٹو کو پھانسی دیے جانے کے ایک سال بعد 1980 ءمیں شائع ہوئی تھی۔ سعیدہ گزدر نے اپنے افسانوں میں بہت کھلے انداز میں فوجی آمریت کی عکاسی کی ہے۔ جہاں دیگر لکھنے والے علامتی انداز اپنا رہے تھے وہاں سعیدہ گزدر کھل کر آمریت کو بے نقاب کررہی تھیں مثلاً ان کے دو افسانے ”آگ گلستاں نہ بنی“ اور ”کوئل اور جنرل“ ہیں۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کسی اور افسانہ نگار نے اپنے افسانے کے عنوان میں جنرل کے عہدے کو براہ راست نشانہ بنایا ہو۔
سعیدہ گزدر اپنا افسانہ ”آگ گلستاں نہ بنی“ سومیری داستان گل گامِش کے دو کرداروں سے شروع کرتی ہیں۔ گل گامِش کو انتظار حسین نے بھی اپنی کہانی ”کشتی“ میں استعمال کیا ہے اور اس سے پہلے سید سبط حسن اپنی کتاب ”ماضی کے مزار“ میں گل گا مِش کی کہانی پر تفصیلی گفت گو کرچکے تھے۔ گل گا مِشکی کہانی میں پرومیتھیس کی طرح عالمی مراحمتی ادب کا عظیم شاہکار ہے۔
مگر یہاں انتظار حسین کے افسانے ”کشتی“ اور سعیدہ گزدر کے افسانے ”آگ گلستان نہ بنی“ کا موازنہ کیا جائے تو انتظار حسین ہمیں علامتوں کے ہجوم میں گم کردیتے ہیں مگر سعیدہ گزدر بہت واضح اور دو ٹوک الفاظ میں حالات کی عکاسی کرتی ہیں۔ وہ سومیری داستان کے مصرعے دہراتی ہیں۔
”گل گامِش نے شہر کو ناپاک کردیا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ دلہن شب عروسی اسی کے ساتھ گزارے
پہلے بادشاہ بعد میں جائز شوہر
اور یہ سب دیوتاؤں کی مرضی سے ہورہا ہے۔
اب دلہن چننے کے لیے ڈھول بجتی ہے
تو شہر کراہتا ہے ”
راہ گیر کی باتیں سن کر ان کدو کا چہرہ سفید ہوگیا
میں وہاں جاؤں گا جہاں گل گامِش
لوگوں پر جبر کرتا ہے
میں اسے للکاروں گا۔ ”
اور میری آواز اریک شہر میں گونجے گی
میں پرانے نظام کو بدلنے آیا ہوں
پس آگے آگے ان کدو اور عورت اس کے پیچھے روانہ ہوئے۔
سعیدہ گزدر نے چوں کہ اپنی کتاب کا انتساب ہی اس کے نام کیا ہے جنہوں نے جمہوریت اور انسانی وقار کی خاطر اذیتیں برداشت کیں اور شہید ہوئے اس لیے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہاں گل گامِش جنرل ضیاءالحق ہے اور دلہن وہ جمہوریت ہے جودیوتاؤں کی مرضی سے پامال ہورہی ہے۔
”آگ گلستان نہ بنی“ کی راوی ایک لڑکی ہے جس سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
”وہ تین مرتبہ مجھ سے پوچھ گچھ کرنے آچکے ہیں۔ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ میرا محبوب تھا وہ مجھ سے پوچھتے ہیں
”کس جماعت سے اس کا تعلق تھا؟ “
”سچ سچ بتاؤ وہ کس سازش میں شریک تھا؟ “
”اس کے منصوبوں میں کو ن لوگ اس کے ساتھ تھے۔ ؟ “
میں دکھ اور غم سے پھٹ پڑتی ہوں اور ضبط نہیں کرپاتی۔ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہوں۔ تب وہ مجھے یوں دیکھتے ہیں جیسے پکا ہوا لذیذ پھل ان کے سامنے رکھا ہو۔ میرے آنسوؤں کو میری کمزوری سمجھ بیٹھتے ہیں اور جھک کر بڑے دلاسے سے کہتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں تم معصوم ہو، تمہارا کوئی دو ش نہیں۔ بس ہمیں اس کے دوستوں کے نام اور ان کا پتا بتا دو۔ تم سیدھی سادھی لڑکی ہو ”وہ ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے میرے حسن اور میری جوانی کو ننگی نظروں سے دیکھتے ہیں۔
سعیدہ گزدر کے لکھے ہوئے یہ الفاظ پڑھتے ہوئے آج اگر آپ کے ذہن میں بے نظیر بھٹو اور مریم نواز کے ساتھ کیے گئے سلوک کی بازگشت آئے تو سمجھ لیجیے کہ یہ مزاحمتی ادب کام یاب اور لافانی ہے۔ جس نے اپنے اندر تاریخ کے عرق کو محفوظ کرلیا ہے۔ ہنری جیمز نے کہا تھا۔ Agreat deal of history produces a little literature یعنی بہت تاریخ گزرنے پر تھوڑا سا لٹریچر پیدا ہوتا ہے۔
سعیدہ گزدر کے افسانوں کے مجموعے ”آگ گلستاں نہ بنی“ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس پر جنرل ضیاءالحق کی حکومت نے پابندی لگادی تھی۔ اسی طرح فخر زمان کے دو شعری مجموعوں اور دو ناولوں پر مارشل لا دورمیں پابندی لگادی تھی۔
اب اختر جمال کا افسانہ ”سالگرہ کا کیک“ دیکھیے۔ ایک ماں جس کا بیٹا سیاسی قیدی ہے جیل میں بیٹے کی سالگرہ کا کیک لاتی ہے۔
”ملاقاتیوں میں چند برقع پوش عورتیں بہت سے مرد بچے اور بچیاں شامل تھے۔ میں لکڑی کی بنچ پر ایک طرف ٹوکری لے کر بیٹھ گئی اور اپنے بیٹے کا انتظار کرنے لگی۔
میرے سامنے سلاخوں کی دوسری جانب ایک انیس سالہ لڑکا ہتھکڑیاں اوربیڑیاں پہنے کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چراغوں کی جوت تھی ان آنکھو ں سے اس کی بوڑھی ماں اپنی بجھتی ہوئی آنکھوں کی شمعیں منور کرنے آئی تھی۔ ماں کی آنکھوں سے مسلسل پانی بہہ رہا تھا۔
”اس کے قریب ایک قیدی جس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں نہ تھیں اپنے ہاتھ سلاخوں سے باہر نکالے اپنی چار سالہ ننھی بچی کو ہاتھوں میں اٹھائے کھڑا تھا۔ بچی نے اپنا ننھا سا خوبصورت چہرہ سلاخوں سے لگا رکھا تھا اور سلاخوں کی دوسری جانب اس کے باپ کے ہونٹ تھے۔ وہ اسے شدت سے چوم رہا تھا۔ میری بیٹی کو تکلیف نہ ہونے دینا اور اس کا دودھ بند نہ کرنا۔ سنا ہے ڈبے مہنگے ہوئے ہیں۔ “
اختر جمال کا یہ افسانہ پڑھیے اور پھر یاد کیجیے بے نظیر بھٹو کی جیل میں اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو سے آخری ملاقات، جس میں باپ سلاخوں کے اس طرف ہے اور بیٹی اس طرف۔ جیلر سے درخواست کی جاتی ہے کہ بیٹی باپ کو گلے لگانا چاہتی ہے مگر جیلر اعلیٰ حکام کی ہدایات کا پابند ہے اور درخواست رد کردی جاتی ہے۔
یاد کیجیے رات کے پچھلے پہر مقید بیٹی مریم نواز کی مقید بیمار باپ نواز شریف سے اسپتال میں مختصر ملاقات جس کے بعد صبح منہ اندھیرے بیٹی کو واپس جیل منتقل کردیا جاتا ہے۔
اختر جمال کا افسانہ پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ عہد گزرنے ہی میں نہیں آتا۔ یہ سانحہ بھی لکھو معجزوں کے خانے میں۔ جو رد ہوئے تھے جہاں میں کئی صدی پہلے۔ وہ لوگ ہم پہ مسلط ہیں اس زمانے میں۔
اب احمد داؤد کا افسانہ ”شہید“ دیکھیے۔ جس میں ایک دوست دوسرے دوست کو رات کے اندھیرے میں اسپتال لے جانے کی کوشش کررہا ہے۔ مریض دوست کا اپنڈکس غالباً پھٹ چکا ہے اور وہ شدید تکلیف میں ہے۔ بمشکل ایک رکشے کا بندوبست ہوتا ہے تو آگے سینے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں



ڈاکٹر ناظر محمود صاحب ۔۔۔ بہت اعلیٰ تجزیہ ، انتہائی دقیق معلومات اور بھرپور توجہ سے تیار شدہ آرٹیکل ہم تک پہنچانے پر تبریک قبول فرمائیں ۔۔
میں سمجھتا ہوں اس مختصر تحریر میں گذشتہ پچاس سال کے مزاحمتی ادب کا اس خوبصورت انداز میں احاطہ کیا گیا ہے کہ ہم جیسے لاکھوں طلباء کےلئے ایک جامع لائبریری جیسی رہنمائی مل گئی ہے اب اسی احاطے میں رہ کر ہم اگر مذکورہ کتب ہی کا مطالعہ کر لیں تو ہم پاکستانی کے مزاحمتی ادب پر بھرپور جانکاری حاصل کر سکتے ۔۔ آپ پر سلامتیاں نازل ہوں اور علمی و قلمی تاثیرات میں اضافہ ہو