پاکستان میں عوامی تحریکیں اور مزاحمتی ادب
آج کے پاکستان میں جس طرح اظہار رائے کے دروازے بند کیے جارہے ہیں۔ صحافیوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ دھمکیاں دی جارہی ہیں اور حتی کہ اہل خانہ کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے تو اس سب کا مقصد یہ ہے کہ لوگ لکھنا بند کردیں یا صرف وہ لکھیں جس کی ہماری ریاست اور اس کے اہل کار اجازت دیں جن میں کہیں بھی ان سے سوال نہ پوچھے جائیں اور نہ ہی ان کے بیانیے سے اختلاف کیا جائے۔
مثلاً ان سے یہ نہ پوچھا جائے کہ ساہیوال سانحے میں معصوم خاندان کے قاتلوں کو کیسے شک کا فائدہ دے کر بری کردیا گیا۔ سینکڑوں افراد کا قاتل راؤ انوار کیسے ریاست کے تحفظ میں سر اٹھا کر چلتا ہے اور نقیب اللہ محسود اور ارمان لونی کے قتل پر سوال اٹھانے والے محسن داوڑ اور علی وزیر کی زبان بندی کیوں کی جاتی ہے۔ ان سب کے خلاف لکھنا ہی مزاحمتی ادب ہے۔
انتظار حسین کا ایک علامتی افسانہ ہے۔ ”صبح کے خوش نصیب“ اس میں ایک گاڑی جنگل کے درمیان گھنٹوں سے کھڑی ہے اور چلنے کا نام نہیں لے رہی۔ انجن ہے کہ دھواں اڑائے جارہا ہے لیکن گاڑی نہیں سرکتی۔ ساکت گاڑی کے ارد گرد انجن کا دھواں پھیلتا رہتا ہے اور لوگوں کے دم گھٹنے لگتے ہیں۔ لیکن نہ گاڑی چلتی ہے اور نہ انجن کا دھواں بند ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں۔
”مجھے پھر اس گھڑی کا خیال آیا جب ہم اس گاڑی میں سوار ہوئے تھے۔ ہم گاڑی میں بیٹھے لوگ کس طرح ایک احساس تحفظ کے ساتھ ان پر ترس کھارہے تھے جو پیچھے رہ گئے تھے۔ اب وہ ہم پر ترس کھائیں گے خوش نصیبی اور بدنصیبی کا کتنی جلدی آپس میں تبادلہ ہوگیا۔ صبح کے خوش نصیب شام ہوتے ہوتے بد نصیب بن چکے ہیں۔ اچھے رہے وہ لوگ جو گاڑی میں سوار نہ ہوسکے۔ “
اب قاری خود سمجھ کر فیصلہ کرسکتے ہیں کہ یہ کس گاڑی کی بات ہورہی ہے اور ارد گرد دھواں پھیلانے والے کون ہیں۔
انوار احمد کا ایک افسانہ ہے ”شہر کا پہلا محبِ وطن بچہ“ جو ایک ایسے شہر کے بارے میں ہے جو سینکڑوں برس سے مسلسل آباد ہے۔ مگر وہاں بدن روح کو اور مکان مکیں کو ترستے ہیں۔
انوار احمد لکھتے ہیں۔
”وہ جب وہاں پہنچا تو محفل اپنے عروج پر تھی۔ ایک سے ایک صاحب کمال وہاں موجود تھا۔ اسے بڑا رنج ہوا جب اس نے دیکھا کہ ہر صاحب کمال اپنی باری آنے پر ایک ہی لطیفہ سنا دیتا ہے اور ہر مرتبہ اسی لطیفے پر سارے لوگ کھلکھلاکر ہنستے ہنستے بے دم ہوجاتے ہیں پھر جیبوں سے سرکاری رومال نکال کر آنکھوں کے کونے صاف کرنے لگتے۔ “
اب اپنے آپ سے پوچھیے کہ یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے۔ اور یہ کون سے صاحب کمال ہیں جن میں سے ہر صاحب کمال اپنی باری پر ایک ہی لطیفہ سناتا ہے اور لوگ ہنس ہنس کر سرکاری رومال سے آنکھیں صاف کرتے ہیں۔
اب ہم آتے ہیں جدید افسانوی ادب کے ایک اور بڑے نام رشید امجد کی طرف ان کا ایک افسانہ ہے ”بنجر لہو منظر“ جو مزاحمتی ادب کا ایک شاہ کارہے۔
اس افسانے میں ایک شخص جو راوی ہے اپنے شہر کی کتھا سناتے ہوئے کہتا ہے کہ اب اس کے شہر پر دوسرے حکومت کرتے ہیں۔ اس لیے اب یہ ان کا شہر بن چکا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ انسان شعور سے عاری ہیں اور انہیں شعور سکھانا ضروری ہے۔
یہ بتاتے ہوئے راوی چادر اوڑھ کر سونا چاہتا ہے مگر اس کے گرد چابک کی سرسراہٹیں گونجتی ہیں اور کہتی ہیں۔
”تمہیں معلوم نہیں کہ چادر کے نیچے بھی سوچنا منع ہے“ پھر وہ ایک کتاب اٹھاتا ہے مگر وہ بے معنی ہوچکی ہے کیوں کہ اس میں لکھا ہے غلامی کا دور ختم ہوا۔
شڑاب شڑاب ایک بار پھرچابک کی آواز آتی ہے۔
ٹکٹکی میرے گھر کی دیواروں پر دستک دیتی ہے۔
وہ کہتا ہے میں غلام ابن غلام ابن غلام حاضر ہوں۔
ٹکٹکی مسکراتی ہے۔
اس طرح یہ افسانہ آگے بڑھتا ہے۔
امجد رشید ”بنجر لہو منظر“ میں آگے لکھتے ہیں۔
”کنٹرول روم میں بیٹھا ہوا وہ ایک بٹن آف کرتا ہے۔ ریڈیو، ٹی وی، اخباروں اور رسالوں میں گونجتی آوازیں، تصویریں اور خبریں ایک لمحے میں غائب ہوجاتی ہیں۔ چہرے، شکلیں، پلک جھپکتے میں گم ہوجاتی ہیں۔
صرف ایک بٹن آف کرنے کا وقفہ۔ ایک پورے کا پورا دور ختم ہوگیا۔ بس اتنی سی بات۔
وہ دوسرا بٹن آن کرتا ہے۔
ایک لمحے میں ریڈیو، اخباروں اور رسالوں میں نئی آوازیں، نئی خبریں، ٹی اسکرین پر ایک پل میں پرانی تصویر کی جگہ نئی تصویر۔
ایک بٹن آف، دوسرا آن۔ ایک لمحے کا وقفہ۔
شہر، گھر، دفتر اور ریستوران قید خانے میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
ٹی وی کی اسکرین پر پرانی اناؤنسر نئے دور کے شروع ہونے کی خبر دیتی ہے۔
میری بیوی ٹی وی آف کرکے حسرت سے کہتی ہے۔
انہوں نے ہمیں پھر فتح کرلیا ہے۔
فاتح جرنیل ٹینک پر سوار بڑے چوک میں آتا ہے۔ ہجوم کو دیکھتا اور پوچھتا ہے۔
یہ کون ہیں
”لوگ ہیں جناب“
وہ ہنستا ہے۔ ”اچھا تو یہ لوگ ہیں۔ “
یہ کیا ہے؟ ”گھڑی ہے جناب وقت بتاتی ہے“
لیکن ہمیں تو وقت کی کوئی ضرورت نہیں
اسے بند کردو، اور کلینڈر کو پیچھے لے جاؤ۔
ٹکٹکی پر بندھا شخص کراہتا ہے۔
اور خون کی مہک سونگھ کر کتے غراتے ہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں



ڈاکٹر ناظر محمود صاحب ۔۔۔ بہت اعلیٰ تجزیہ ، انتہائی دقیق معلومات اور بھرپور توجہ سے تیار شدہ آرٹیکل ہم تک پہنچانے پر تبریک قبول فرمائیں ۔۔
میں سمجھتا ہوں اس مختصر تحریر میں گذشتہ پچاس سال کے مزاحمتی ادب کا اس خوبصورت انداز میں احاطہ کیا گیا ہے کہ ہم جیسے لاکھوں طلباء کےلئے ایک جامع لائبریری جیسی رہنمائی مل گئی ہے اب اسی احاطے میں رہ کر ہم اگر مذکورہ کتب ہی کا مطالعہ کر لیں تو ہم پاکستانی کے مزاحمتی ادب پر بھرپور جانکاری حاصل کر سکتے ۔۔ آپ پر سلامتیاں نازل ہوں اور علمی و قلمی تاثیرات میں اضافہ ہو