حیدر آباد 47 کلو میٹر


کار کی رفتار کم کر کے سرمد نے انتہائی پریشانی اور خوف میں پاس بیٹھی لاش کو دیکھا اور انتہائی بے بسی سے سوچنے لگا: ”اب تو حیدرآباد کا فاصلہ بھی تھوڑا ہی رہ گیا ہے، لاش کو ہائی وے پر بھی پھینک نہیں سکا تو شہر میں اس سے کیسے جان چھڑا پاؤں گا! “ خوف اور بے بسی سے اس کے اندر درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں، اسے یقین ہو گیا کہ جیل ہی اس کا مقدر ہے۔ وہ جیل چلا جائے گا اور اس کا سارا کاروبار تباہ ہو جائے گا اور وہ اپنی بیوی اِرم کے آگے سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے گا۔ صبح میڈیا پر خبریں آجائیں گی اور وہ سدا کے لیے لعن طعن کا شکار ہو جائے گا۔ اس نے انتہائی غصّے سے پاس بیٹھی لاش کے چہرے کو دیکھاتو خوف اس کے غصّے پر غالب آ گیا۔ گہری ہوتی شام کے دھندلی روشنی میں اسے رانی کی لاش کا چہرہ مزید پراسرار لگا۔ اس نے ایک دم لاش کے چہرے سے نظر ہٹا کر باہر دیکھا۔ باہر کے ماحول نے اس کے اندر دہشت کو مزید بڑھا دیا۔ سورج ڈوب چکا تھا اور پورا آسمان لال ہوگیا تھا۔ رات ہونے والی تھی اور اس میں ہمت نہیں تھی کہ رات کے اندھیرے میں لاش کے ساتھ ہائی وے پر گھومتا پھرے۔ اس نے اپنے اندر خوف کی ایک نئی لہر اٹھتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس نے ترچھی نظر سے لاش کے چہرے کو دیکھنے کی کوشش کی، لیکن ہمت نہ پا کرا س نے نظریں پھیر لیں تو اچانک چونک پڑا۔ اس کے اپنے موبائل فون کی رنگ ٹون نے ہی اسے چونکا دیاتھا۔ اس نے ڈیش بورڈ سے موبائل اٹھاکر دیکھا، فون کی سکرین پراس کی بیوی اِرم کی تصویر تھی۔ اِرم کی کال کے ساتھ اِرم کی تصویر دیکھ کرایک لمحے کے لیے اسے خوف سے رچی تنہائی سے جیسے نجات مل گئی اور اس نے سکون کی ٹھنڈی سانس لے کہ کال اٹینڈ کی، لیکن ایک ہی لفظ اس کے منھ سے نکلا: ”اِرم۔ ۔ ۔ “

”تم ہو کہاں ابھی تک! ؟ “ اِرم نے ایک دم اونچی آواز میں پوچھا۔

”ہائی وے پرہی ہوں! “ اس نے تھکی ہاری آواز سے کہا۔

”کیا۔ ۔ ۔ ! “ اِرم انتہائی حیرت سے چلائی: ”تم پانچ گھنٹے سے ہائی وے پر کیا کر رہے ہو؟ “

”کیا مجھے پانچ گھنٹے گزر گئے ہیں ہائی وے پر! “ سرمد کو اس بات پر خود بھی حیرت ہوئی۔

”اوہ مائی گاڈ! “ اِرم نے انتہائی پریشانی سے کہا: ”تمھیں تووقت کا بھی احساس نہیں رہا! آخر ہوا کیا ہے ایسا؟ “

”نن۔ ۔ ۔ نہیں کچھ بھی تونہیں۔ ۔ ۔ “ وہ زیادہ نہ بول سکا۔

”لیکن سرمد۔ ۔ ۔ تم کچھ پریشان بھی لگ رہے ہو! “ اِرم نے فکر مندی سے کہا۔

”ہاں! پریشانی تو ہے کچھ۔ ۔ ۔ “ سرمد کے منھ سے بے اختیار جملہ نکل گیا۔

”کون سی پریشانی؟ کیا ہو ا ہے؟ “ اِرم نے مزید پریشانی سے پوچھا۔

” کچھ نہیں ہوا، مَیں فون بند کرتا ہوں! “ سرمد مزید بات کرنا نہیں چاہتا تھا۔

”فون بند مت کرنا! “ اِرم ایک دم چلائی: ”مجھے لگتا ہے کہ ہائی وے پر کوئی مسئلہ ہو گیا ہے تمھارے ساتھ! “

”مَیں نے کہا ناکچھ نہیں ہوا! “ سرمد نے انتہائی بے زاری سے کہا۔

”اوکے۔ ۔ ۔ تم نہیں بتاتے تو مَیں ہائی وے پولیس ہیلپ لائن پر فون کرتی ہوں کہ وہ تمھیں سرچ کرلیں۔ “ اِرم نے انتہائی پریشانی سے کہا۔

” نہیں! “ سرمدایک دم چلایا: ”فون مت کرنا ہائی وے پولیس کو! “

”تو پھر تم خود ہی بتا دو، کیوں پریشان ہو! ؟ “ اِرم نے پوچھا، ”اور کیا کر رہے ہو پانچ گھنٹے سے ہائی وے پر؟ “

سرمد نے کوئی جواب نہیں دیا، باہرپھیلتے اندھیرے کی وجہ سے کا ر کی ہیڈ لائٹس آن کر دیں۔

”تم جواب کیوں نہیں دے رہے؟ “ اِرم نے فکرمندی سے پوچھا۔

”کیا جواب دوں! “ سرمد نے ٹھنڈی سانس لی۔

”تم بتاتے ہو یا مَیں کال کروں ہائی وے پولیس کو؟ “ اِرم نے پختہ لہجے میں کہا۔

”پلیز اِرم! ایسا کچھ مت کرنا ورنہ۔ ۔ ۔ “ وہ جملہ پورا نہ کر سکا۔

”ورنہ کیا؟ “ اِرم کی پریشانی مزید بڑھ گئی۔

”بب۔ ۔ ۔ بس مَیں جلدی گھر پہنچ جاؤں گا۔ “ سرمد نے سامنے نظر آتے جام شورو ٹول پلازہ کو دیکھتے ہوئے کہا، ”جام شورو پہنچ گیا ہوں مَیں۔ “

”اوکے۔ ۔ ۔ مَیں انتظار کر رہی ہوں تمھارا۔ “ اِرم نے قدرے سکون سے کہا اور کال ڈس کنکٹ کر دی۔

سرمد نے ٹھنڈی سانس لے کر موبائل فون کو ڈیش بورڈ پر رکھا۔ خوف اور پریشانی کے ملے جلے تآثرسے لاش کے چہرے کی طرف دیکھا۔ لاش کی کھلی آنکھیں دیکھ کر اسے یہ سکون محسوس ہوا کہ اگر کسی نے دیکھا بھی تو شک نہیں کرے گا۔ کچھ لمحوں بعد اس کی کار نے جام مشور ٹول پلازہ کراس کر لیا۔

حیدرآباد بائی پاس کے ٹول پلازہ سے کچھ آگے جا کر، اس نے کار کو سڑک کی ایک جانب روک دیا۔ یہ آخری موقع تھا کہ حیدرآباد شہر میں داخل ہونے سے پہلے وہ لاش کوکارسے باہر پھینک سکے۔ وہ کتنی ہی دیر تک کار میں بیٹھا انتظار کرتا رہا لیکن مسلسل ٹریفک اور گاڑیوں کی تیز روشنی کی وجہ سے اسے موقع نہ مل سکا، تب اس نے خود میں ہمت پیدا کی کہ کار میں بیٹھے بیٹھے ہی لاش کی طرف والا دروازہ کھول کر وہ لاش کو دھکا دے کر گرادے گا اور تیزی سے نکل جائے گا۔ اس نے لاش کا سیٹ بیلٹ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور بیک مرر میں پیچھے سے آتی گاڑیوں کو دیکھ کر چونک گیا۔

پیچھے کچھ ہی فاصلے سے ہائی وے پولیس کار آ رہی تھی۔ اس نے ارادہ بدل کر جلدی سے گیئر لگا یا اور سڑک پر آ گیا۔ خوف کی وجہ سے اس کے پاؤں کا دباؤ ایکسی لیٹر پربڑھ گیا۔ کچھ ہی منٹوں بعدو ہ بائی پاس کے وادھو واہ موڑ تک پہنچ گیا۔ کار کو وادھو واہ روڈکی طرف موڑا توآگے کھڑی پولیس نے اسے روک لیا۔ کچھ گاڑیاں پہلے ہی وہاں کھڑی تھیں۔ ایک سپاہی نے اسے لائن میں پیچھے گاڑی کھڑی کرنے کا اشارہ کیا۔ وہ پریشان ہوگیا۔ اسے یقین ہو گیا کہ رانی کے ورثا نے اس کی گم شدگی کی رپورٹ پولیس میں کر دی ہوگی اور اب وہ پکڑا جائے گا۔ چیکنگ کے لیے جیسے جیسے اس کی باری قریب آرہی تھی، اس کاجسم پسینے میں بھیگتا جا رہا تھا۔ اس کی باری آتے ہی پولیس انسپکٹر نے گاڑی میں ایک عورت کوپیچھے بیٹھے دیکھ کر بنا کچھ پوچھے ہی اسے جانے کا اشارہ کیا۔ سرمد نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس انسپکٹر کی طرف دیکھا اور کار کو آگے بڑھا دیا لیکن اس کی پریشانی اور بڑھ گئی تھی۔ شہری آبادی۔ ۔ ۔ روشنیاں۔ ۔ ۔ اردگرد لوگ ہی لوگ۔ ۔ ۔ نسیم نگر چوک پر پہنچا تو ٹریفک بلاک تھا۔ اس نے بریک لگایا توایک ہی منٹ میں اور کئی گاڑیاں اس کی کار کے پیچھے کھڑی ہو گئیں۔ اس کی کار بیچ میں پھنس گئی تھی۔ ایسا کوئی راستہ نہ بچا کہ وہ کارنکال کر لے جاتا۔ اس نے پریشانی کے عالم میں ساتھ بیٹھی لاش کی طرف دیکھا۔ رانی کی لاش بے حد خوب صورت زندہ لڑکی کی طرح بیٹھی ہوئی تھی اورپیدل جاتے ہوئے کسی کسی آدمی نے گھور کر رانی کی طرف دیکھا۔ وہ اور پریشان ہوگیا، اس نے دل ہی دل میں اللہ کو یاد کیا: ”یا اللہ! اب مَیں کیا کروں۔ ۔ ۔ کہاں جاؤں اس لاش کو لے کر۔ ۔ ۔ شہر میں تو پھنس جاؤں گامَیں۔ ۔ ۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ۔ ۔ “ کچھ سوچ کر اس نے ٹھنڈی سانس لی اور تھوڑا سا پرسکون ہو گیا۔ جیسے اس نے کوئی فیصلہ کر لیا ہو۔ اگلی کار کے چلتے ہی اس نے پہلے گئیر میں ڈال کر گاڑی چلانی شروع کر دی۔ اس نے گردن گھما کرلاش کے چہرے کی طرف دیکھا۔ شہر کی روشنیوں میں رانی کا چہرہ اور بھی حسین نظر آرہا تھا۔

سرمد نے اپنے گھر کے گیٹ پر پہنچ کردوتین مرتبہ ہارن بجایا۔ کچھ دیر بعد گیٹ تھوڑا کھلا اور گیٹ میں سے اِرم کا چہرہ ظاہر ہوا۔ کار کی طرف دیکھتے ہوئے اِرم کے چہرے پرشدیدغصّے کا تآثر ابھرا۔ اس نے گیٹ کے ایک پٹ کو غصّے سے دھکا دے کرکھول دیا اور دوسرا پٹ کھولے بغیر ہی واپس جانے لگی۔ سرمد ایک دم کار سے اترا اور دوڑتا ہوا پورچ میں چلا گیا۔ اِرم کو بازو سے پکڑ کر خوف اور پریشانی سے پوچھا: ”گھر میں کوئی ہے تو نہیں؟ “

”گاڑی میں کون ہے؟ “ اِرم نے دکھ اور غصّے سے سوال کیا۔

”پلیز یہاں کچھ مت پوچھو۔ گھر میں کوئی ہے تو نہیں؟ “ سرمد نے رازداری اور پریشان انداز میں پوچھا۔

”کوئی بھی نہیں ہے۔ “ اِرم نے گیٹ سے باہر کھڑی کار کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا: ”یہ لڑکی کون ہے؟ “

” تم۔ ۔ ۔ اندر چلی جاؤ اِرم۔ “ سرمد نے اِرم کا بازو چھوڑتے ہوئے آہستہ سے کہا: ”مَیں اندر آ کرتمھیں سب کچھ بتاتا ہوں۔ “

اِرم انتہائی غصّے میں لاؤنج کے دروزاے کو زور سے دھکا دیتے ہوئے اندر چلی گئی۔

سرمدنے جلدی سے جاکر مَین گیٹ کا دوسرا پٹ کھولا۔ اسی تیزی سے کاراندر کر کے، کار سے اتر کر گیٹ بند کر دیا۔ ایک لمحے کے لیے بند کیے ہوئے گیٹ کے پاس ہی کھڑا رہا۔ اسے ایسا لگا، جیسے اسے پناہ مل گئی ہو۔ ٹھنڈی سانس لے کر وہ واپس اندر جانے کے لیے مڑا۔ کار کے پاس پہنچ کر اس نے کار کے اندر بیٹھی رانی کی لاش کی طرف دیکھا تو اس کے پاؤں زمین پر جم گئے۔ دکھ، پریشانی، خوف اورندامت سے اس کی گردن جھک گئی۔ اسے سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اب اِرم سے کیسے نظریں ملا کر بات کرسکے گا!

اِرم لاؤنج میں پیٹھ کیے کھڑی تھی۔ سرمد نے آہستہ سے اس کے پاس جا کر کاندھے پر ہاتھ رکھا۔

اِرم نے کاندھے سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا : ”مجھے ہاتھ مت لگاؤ! “

سرمد نے اِرم کو بانہوں میں سمیٹنے کی کوشش کی: ”اِرم۔ ۔ ۔ پلیز۔ ۔ ۔ ! میر ی بات تو سنو۔ ۔ ۔ “

”مت بات کرو مجھ سے، چھوڑ دو مجھے! “ ا ِرم اس کی بانہوں سے نکل گئی۔

سرمد نے اِرم کو بازو سے پکڑتے ہوئے کہا: ”خدا کے واسطے اِرم! تم سن تو لو میری بات! “

”مجھے کوئی بات نہیں سننی تمھاری۔ “ ارم نے سرمد کو دھکا دے کر خود کو چھڑایا، اس کی آواز میں درد بھر آیا : ”مَیں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ تم اتنے نیچ بھی ہو سکتے ہو! “

”تم غلط سمجھ رہی ہو اِرم۔ پلیز۔ ۔ ۔ ! “ سرمد نے منّت کی۔

”سب سمجھتی ہوں مَیں! “ اِرم نے صدمے سے کہا: ”پہلے توشاید۔ ۔ ۔ یہ سب کچھ گھر سے باہر ہی ہوتا ہوگا، مگر آج تو تم گھر میں بھی لڑکی لے آئے ہو! “

”تمھیں غلط فہمی ہوئی ہے۔ “ سرمد نے پھر منّت کی: ”تم میری بات سنتی کیوں نہیں ہو! “

”اب بھی تمھاری باتیں سنوں! “ اِرم نے سخت نفرت سے کہا: ”سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ تو رہی ہوں مَیں! “

”تمھاری آنکھیں تمھیں دھوکا دے رہی ہیں! “ سرمد نے سمجھانے کی کوشش کی۔

”دھوکا تو تم مجھے دے رہے ہو۔ “ اِرم نے غصّے سے جواب دیا: ”لے آؤ اس لڑکی کو اندر، مَیں جا رہی ہوں یہ گھر چھوڑ کر! “

سرمد نے اِرم کے بازو کوسختی سے پکڑ لیا : ”ہائی وے پر اس کی گاڑی خراب ہو گئی تھی۔ مَیں نے تواسے صرف لفٹ دی تھی لیکن۔ ۔ ۔ لیکن۔ ۔ ۔ “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6