حیدر آباد 47 کلو میٹر
”لیکن کیا! “ ارم نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی: ”دوسروں کو لفٹ دیتے پھرتے ہو، کبھی میرے لیے بھی سوچا ہے تم نے! “
”پلیز۔ ۔ ۔ اِرم پلیز۔ ۔ ۔ ! “ سرمد نے ہمت کر کے کَہ دیا : ”وہ میری کار میں بیٹھے بیٹھے مر گئی ہے! “
اِرم نے سرمد کے ہاتھوں سے خود کو چھڑانے کی مزاحمت ختم کر دی۔ اس کے چہرے پر غصّے کے بجائے حیرت اور پریشانی کے آثار نمودار ہوگئے۔
سرمد نے اپنے ہاتھوں کا زور کم کرتے ہوئے تھکی ہاری آواز میں کہا: ”وہ۔ ۔ ۔ ایک لاش ہے اِرم۔ ۔ ۔ “
اِرم کی آنکھوں میں خوف کے سائے لہرانے لگے، اس کاسار اجسم کانپنے لگا۔ سرمد نے سہارا دے کر اسے پاس پڑے صوفے پر بٹھادیا اور خود فرش پر بیٹھ کر اِرم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کرپشیمانی سے بولا: ”میرا کوئی قصور نہیں ہے اِرم۔ ۔ ۔ اب تم ہی بتا کیا کروں مَیں؟ “
ارم نے خشک ہوتے ہونٹوں سے بولنے کی کوشش کی: ”کیا۔ ۔ ۔ کیا۔ ۔ ۔ وہ۔ ۔ ۔ واقعی لاش ہے! “
”ہاں اِرم! “ سرمد نے ٹھنڈی سانس لی: ”تم خود چل کردیکھ لو۔ اٹھو، اٹھو چلو کار پورچ میں! “
اِرم اپنی جگہ ساکت بیٹھی رہی۔ اس کے پورے وجود میں پریشانی اور خوف پھیل چکا تھا۔ سرمد نے اسے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر اٹھایا اور ہاتھ پکڑ کر لاؤنج کے دروازے پر لے آیا۔ سرمد نے لاؤنج کا دروازہ کھولا تو اِرم نے خوف سے سرمد کو تھام لیا۔ پورچ میں کھڑی کار کی فرنٹ سیٹ پر زندہ لڑکی کی طرح بیٹھی رانی کی لاش ہلکی روشنی میں بہت ہی پرسرار دکھائی دے رہی تھی۔ اِرم دہشت کی حالت میں ایک دم واپس پلٹ کر لاؤنج کی میں چلی گئی۔ اس کے جسم کی کپکپی اور بڑھ گئی اور اس کے چہرے پر پسینا آگیا۔ سرمد نے قریب آکر اسے بانہوں میں جکڑلیا، ”ارم پلیز۔ ۔ ۔ ! مجھے معاف کردو۔ “
سرمد اِرم کو صوفے پر بٹھا کر خود اس کے قدموں کے پاس فرش پر بیٹھ گیا۔ ہاتھ جوڑ کر اِرم کے چہرے کو دیکھا اور بے حد نادم لہجے میں کہنے کی کوشش کی: ”پلیز ارم۔ ۔ ۔ ! مجھے معاف کردو! “
ارم نے سرمد کے جوڑے ہوئے ہاتھوں کو نیچے کیا، اور کوئی بھی جواب نہیں دیا۔
سرمد بے حد پریشانی اور منّت سے بولا : ”میرے سبھی دوستوں نے میری مدد کرنے سے انکار کر دیا تو پھر۔ ۔ ۔ پھرمجھے صرف گھر کا راستہ ہی سمجھ آیا۔ ۔ ۔ ! “
”اِرم پتھر کے بت جیسی خاموش بیٹھی رہی۔
سرمد کی آنکھیں بھیگ گئیں : ”دیکھو اِرم! اگر۔ ۔ ۔ تم نے بھی میری مدد کرنے سے انکار کر دیا تو۔ ۔ ۔ “ وہ آگے نہ بول سکا اور اپنا سر اِرم کے گھٹنوں پررکھ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔
اِرم کچھ دیر تو خاموش بیٹھی رہی، کچھ سوچتی رہی اور پھر سرمدکے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ سرمد نے سر اٹھا کر اِرم کے چہرے کی طرف دیکھا تو اس نے سرمد کے آنسو پونچھ لیے۔
پلیزاِرم! میری مدد کرو! ”سرمدنے پریشانی سے کہا۔
اِرم نے ایک لمبی سانس لے کر خود کو سنبھالنے کی کوشش کی: ”میرے خیال میں ہمیں پولیس کو اطلاع کردینی چاہیے۔ “
سرمد چونک اٹھا: ”کیسی باتیں کرتی ہو! تم مجھے جیل بھجوانا چاہتی ہو کیا! “
”تو پھر کیا کریں! “ اِرم نے پریشانی سے جواب دیا۔
”یہی تو مَیں تم سے پوچھ رہا ہوں! “ سرمدنے فرش سے اٹھ کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے اِرم کا ہاتھ پکڑ لیا۔
اِرم نے ایک لمحہ سوچ کر کہا: ”اگرپولیس کو نہیں بتا سکتے، تو پھر لاش کو ہائی وے پرہی کہیں پھینک دیتے! “
سرمد نے انتہائی لمبی سانس لی: ”مَیں نے کئی دفعہ کوشش کی لیکن موقع ہی نہیں ملا۔ مَیں بری طرح سے ڈر گیا تھا۔ “
لاؤنج میں خاموشی چھا گئی۔ سرمد نے اِرم کا ہاتھ چھوڑ کردونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔ کافی دیر تک دونوں سوچتے رہے اور پھر اِرم کی ہلکی آواز نے پراسرارخاموشی کو توڑا: ”سرمد! “
سرمد نے اپنے سر سے ہاتھ ہٹا کر اِرم کی طرف دیکھا۔
”کیوں نہ لاش کو جام شورو کے پل سے دریا میں پھینک دیں! “ اِرم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا : ”لاش ملے گی بھی تو یہ ہی سمجھا جائے گا کہ لڑکی نے خودکشی کی ہوگی! “
سرمد کو پھر خوف نے گھیر لیا: ”مگر اس میں بہت بڑا رسک ہے۔ پل کے دونوں طرف پولیس بھی موجود ہوتی ہے! “
”تو پھر۔ ۔ ۔ “ اِرم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا: ”رات کے اندھیرے میں ہی کسی ویرانے میں لاش کو پھینک آتے ہیں۔ “
”خطرہ تو اس میں بھی ہے نا۔ “ سرمد مزید پریشان ہو گیا: ”اگر کسی نے دیکھ لیا تو ہم پکڑے جائیں گے! “
”تو پھر کیا کریں لاش کا! “ اِرم کی پریشانی میں خوف بھی شامل ہو گیا۔
سرمد نے کچھ سوچ کر کہا: ”ایک حل ہے اس کا۔ ۔ ۔ “
”کیا؟ “ اِرم نے ایک دم پوچھا۔
”کیوں نہ۔ ۔ ۔ لاش کو۔ ۔ ۔ اپنے گھر کے لان میں ہی دفن کر دیں! “ سرمد نے کچھ الجھے ہوئے لہجے میں کہا۔
اِرم نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد اثبات میں گردن ہلائی: ”ہاں۔ ۔ ۔ شاید۔ ۔ ۔ یہی بہتر ہے۔ “
سرمد نے ایک طویل سانس لی، جیسے اس کے سر سے بڑا بوجھ اترگیا ہو۔
لان میں رات کو کھدائی کرتے ہوئے سرمد کا پورا جسم پسینے سے شرابور ہوگیا۔ مسلسل کھدائی کرتے ہوئے اس کی سانس پھول گئی تھی لیکن اس نے اپنا ہاتھ نہیں روکا۔ اس نے جلد از جلد یہ کام پورا کرناچاہا۔ خوف کے بجائے ایک جستجو اس کے اندر جاگ اٹھی تھی۔ وہ بھول گیا تھا کہ قریب کھڑی کارمیں ایک لاش بھی موجود ہے۔ کار پورچ اور لان کی ساری لائٹس بند تھیں۔ رات کے اندھیرے میں کچھ جھینگروں کی آواز خاموشی کو توڑ رہی تھی، یا تھوڑی تھوڑی دیر بعد کسی چوکی دار کی آواز گونجتی تھی: ”خبردار۔ ۔ ۔ ہوشیار۔ ۔ ۔ “
اِرم پانی کی بوتل اور گلاس لے کر لاؤنج کے دروازے سے نکل کر پورچ میں آئی تو ایک لمحے کے لیے اس کے پاؤں ایک جگہ جم گئے۔ خوف کی ایک لہر اس کے پورے جسم میں دوڑ گئی۔ آج اسے اپنے ہی گھر کا ماحول پراسرارمحسوس ہو رہا تھا۔ اس نے اپنے خوف پر قابو پانے کی کوشش کی اور سرمد کو پانی پلانے کے لیے آگے بڑھی۔ کار کے پاس پہنچ کر اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی کارمیں موجود لاش کی طرف دیکھا تو اس کے قدموں نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ اِر م کو ایسا لگا جیسے رانی کی لاش کی آنکھیں اسے گھور رہی ہوں۔ لاش کی گھورتی آنکھوں نے اس پر دہشت طاری کر دی۔ خوف کی وجہ سے اس کی آنکھیں پھٹی سی رہ گئیں، حلق خشک ہو گیا اور اس کا سارا جسم کانپنے لگا، اچانک اس کے کانپتے ہاتھ میں سے گلاس گر ا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ لان میں کھدائی کرتے کرتے سرمد نے چونک کراِرم کی طرف دیکھا۔ اس نے کھدائی چھوڑ کر اِرم کو بازو سے پکڑا تو اِرم خوف کی شدت بچنے کے لیے سرمد سے لپٹ گئی۔ سرمد نے اسے پورچ میں لے جانا چاہالیکن اِرم کوئی بات کیے بغیر سرمد کو بازو سے کھینچتی ہوئی اندر لے گئی۔
لاؤنج میں داخل ہوتے ہی اِرم نے خوف سے کانپتی آواز میں بات کرناشروع کی: ”نہیں۔ ۔ ۔ نہیں سرمد۔ ۔ ۔ ! اگر۔ ۔ ۔ لاش گھر کے لان میں دفن رہی تو۔ ۔ ۔ تومَیں۔ ۔ ۔ نہیں رہ سکوں گی اس گھر میں! “
سرمد بے حدپریشان ہوگیا۔ اس نے اپنے ہاتھوں اور کپڑوں پر لگی لان کی گیلی مٹی کو دیکھا : ”اب تو مَیں نے گڑھا کھودبھی لیا ہے! “
اِرم دہشت سے کانپنے لگی، اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے : ”نہیں۔ ۔ ۔ نہیں سرمد۔ ۔ ۔ ! لاش والے گھر میں۔ ۔ ۔ مَیں ایک دن بھی نہیں رہ سکوں گی! “
سرمد نے اِرم کو صوفے پر بٹھادیا اور خود فرش پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے اِرم کے چہرے کی طرف دیکھا: ”تم پریشان نہ ہو اِرم، ! ہم یہ گھر ہی بیچ دیں گے! “
اِرم نے خوف سے گردن ہلا کر انکارکردیا، ”نہیں۔ ۔ ۔ نہیں سرمد۔ ۔ ۔ اگر گھر خریدنے والوں نے لان کی کھدائی کی تو۔ ۔ ۔ ! “
”اتنی دور کی مت سوچو! “ سرمد نے بے زاری، پریشانی اور غصّے کے ملے جلے لہجے میں کہا: ”تم تو بلا وجہ میری پریشانی بڑھا رہی ہو۔ “
”تم بھی توکچھ سوچو سرمد! “ اِرم نے خوف سے خشک ہوئے ہونٹوں سے کہا: ”اگر۔ ۔ ۔ کبھی بھی۔ ۔ ۔ لاش ظاہر ہوگئی تو۔ ۔ ۔ ہم دونوں پر سیدھا سیدھا قتل کا مقدمہ بن جائے گا! “
”لیکن۔ ۔ ۔ ہم نے تو قتل نہیں کیا! “ سرمد مزید پریشان ہو گیا۔
”مگر اس وقت۔ ۔ ۔ تمھاری کہانی پر کوئی بھی اعتبار نہیں کرے گا۔ ۔ ۔ اور مَیں۔ ۔ ۔ مَیں جیل نہیں جانا چاہتی! “ اِرم کا گلا خشک ہوگیا۔
سرمد کے چہرے پر شدید دکھ اور مایوسی چھا گئی: ”اِرم! دوستوں کی طرح تم نے بھی اکیلا چھوڑ دیا مجھے! “
نہیں سرمدایسی بات نہیں۔ ”اِرم نے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا اور سرمد کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا:“ مَیں تمھیں کیسے چھوڑ سکتی ہوں! ”
سرمد نے کوئی جواب نہ دیا اور اس نے سرجھکا لیا۔
اِرم نے ایک لمحہ سوچنے کے بعد کہا: ”سرمد! ہم اس مردہ لڑکی کے ورثا سے بھی تو رابطہ کر سکتے ہیں نا۔ “
”مگر اِرم تب بھی تو۔ ۔ ۔ ! “ سرمد پریشانی کی وجہ سے اپنا جملہ پورا نہ کر پایا۔
”پھر دیکھا جائے گا۔ ہو سکتا ہے کوئی بہتری کی صورت نکل آئے۔ “ اِرم نے اسے دلاسا دیا۔
سرمد نے کوئی بھی جواب نہ دیا، سوچ میں پڑ گیا۔
اِرم نے پھر اسے دلاسا دیا: ”کچھ نہیں ہوگا سرمد! کیوں کہ تم نے قتل نہیں کیا ہے۔ “
سرمد خاموش رہا۔
اِرم نے پیارسے سرمد کے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر کہا: ”تم پریشان نہ ہو۔ مَیں ہوں نا۔ ۔ ۔ ! مَیں ہوں نا تمھارے ساتھ سرمد! “
”مگر اس کے وارثوں کا کیسے پتا چلے گا؟ “ سرمد نے ٹھنڈی سانس لی۔
”لڑکی کے پاس کوئی سامان تھا؟ “
”ہاں! “ سرمدنے جواب دیا: ”ایک پرس، موبائل فون اور ایک بیگ۔ “
پھر تو کوئی مسئلہ نہیں۔ ”اِرم نے کہا:“ تم یہ سب چیزیں گاڑی سے نکال کرلے آؤ۔ ”
تھوڑی دیر کے لیے ذہن سے نکل جانے والے خوف کوسرمد نے ایک بار پھر اپنی رگوں میں دوڑتا محسوس کیا۔ کچھ دیر وہ چپ چاپ سوچتا رہا اور پھر اٹھ کر باہر نکل گیا۔
کار میں سے رانی کا سامان لے کر واپس لاؤنج میں آیا۔ اس نے رانی کا سامان اِرم کے پاس صوفے پر رکھا تو وہ خوف کے مارے اٹھ کھڑی ہوئی۔
”تم یہ سامان چیک کرو تب تک مَیں واش روم سے ہو کر آتا ہوں۔ “ سرمد نے اپنے کیچڑ آلودہ جسم اور کپڑوں کی طرف دیکھا اور بیڈ روم کی طرف چلا گیا۔
سرمد نے جسم صاف کیا اور کپڑے بدل کر واش روم سے باہر نکلا تو اس نے اِرم کو خوف کی حالت میں ڈبل بیڈ کے کونے پر بیٹھے دیکھا۔ سرمد نے فکرمندی سے پوچھا: ”تم نے سامان چیک کیا؟ “
” نہیں! “ اِرم کی آواز میں اب بھی خوف کا تآثر تھا: ”تم۔ ۔ ۔ تم خود ہی چیک کر لو! “
سرمد نے لاؤنج سے رانی کا پرس اور بیگ لا کر بیڈ پر رکھ دیا اور ٹھنڈی سانس لے کر اِرم کی طرف دیکھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


