حیدر آباد 47 کلو میٹر


”سرمد تم۔ ۔ ۔ تم اس کا موبائل نکال کرچیک کرو، کسی بھی نمبر سے اس کے بارے میں معلومات مل جائیں گی۔ “

سرمد نے رانی کا پرس کھول کر اس میں سے موبائل فون نکال لیا۔ موبائل فون کو چیک کرتے ہوئے اس کا چہرہ انتہائی خوف اور حیرت میں ڈوبتا چلا گیا اور اس کی پریشانی اور بڑھنے لگی۔

”کیا بات ہے سرمد؟ “ اِرم نے پوچھا۔

یہ۔ ۔ ۔ یہ موبائل تو بالکل خالی ہے! ”سرمد نے پریشانی سے کہا:“ نہ تواس کے فون بک میں کوئی نمبر ہے اور نہ ہی کوئی میسج! ”

”اچھی طرح دیکھو! “ اِرم کی بھی پریشانی بڑھ گئی: ”شاید۔ ۔ ۔ شاید کال رجسٹر میں کچھ نمبرز محفوظ ہوں! “

موبائل فون کی سکرین کو دیکھتے ہوئے سرمد انتہائی خوف کی حالت میں بولا: ”اس کے تو کال رجسٹرمیں بھی کوئی نمبر نہیں ہے۔ نہ کوئی مسڈ کال، نہ کوئی رسیوڈ کال اور نہ ہی کوئی ڈائلڈنمبر! “

اِرم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سرمد نے شدید حیرت سے دوبارہ کہا: ”اس نے تو میری کار میں بیٹھنے کے بعداپنے فون پر ایک کال رسیوکی تھی۔ اور۔ ۔ ۔ اور اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے فون پر ایک کال آئی تھی۔ ۔ ۔ لیکن۔ ۔ ۔ وہ کال۔ ۔ ۔ بنا نمبر کے تھی! “

”کیا! “ اِرم اچانک چونک اٹھی۔

”ہاں اِرم! “ سرمد نے خوف سے کہا: ”وہ کال مَیں نے ریسیو بھی کی تھی لیکن۔ ۔ ۔ لیکن صرف۔ ۔ ۔ ایک چھوٹے بچے کے رونے کی آواز سنائی دی تھی اور۔ ۔ ۔ اور پھر۔ ۔ ۔ لائن ڈس کنکٹ ہو گئی تھی! “

خوف کے مارے اِرم پھر کانپنے لگی: ”مجھے تو۔ ۔ ۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا! “

” ارم! تم دیکھو تو سہی پرس میں اور کیا ہے؟ “ سرمد ایک بار پھر فون چیک کرنے لگا۔

”ارم نے نہ چاہتے ہوئے بھی پرس میں ہاتھ ڈالا تو اس کے ہاتھ میں کچھ چھوٹے چھوٹے کارڈز آگئے، “ شایدوزٹنگ کارڈز ہیں۔ ”

سرمد کوجیسے کچھ یاد آ گیا۔ اس نے موبائل ایک طرف رکھا: ”میرے خیال میں یہ اس کے اپنے ہی وزٹنگ کارڈز ہوں گے۔ “

”لیکن یہ کارڈزتوسارے کے سارے خالی ہیں! “ اِرم نے سارے کارڈز کو حیرت سے الٹ پَلٹ کر دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

سرمد کے لہجے میں شدیدحیرت کے ساتھ پراسراریت کاخوف بھی سما گیا تھا: ”لیکن۔ ۔ ۔ اس نے انھی کارڈز میں سے ایک کارڈ ہوٹل والے بوڑھے کو بھی دیا! “

اِرم نے کوئی بھی جواب نہ دیا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے پرس کھول کر بیڈ پر الٹ دیا۔ خالی کاغذوں کے کئی ٹکرے بیڈ پر بکھر گئے۔ سرمد نے حیرت سے کاغذوں کے ٹکڑوں کو اٹھا کر دیکھا۔ اس کے لہجے میں خوف کا تآثر گہرا ہوگیا: ”اِرم۔ ۔ ۔ ! خالی کاغذ کے یہ ٹکڑے۔ ۔ ۔ مختلف نوٹوں کے سائز کے ہیں نا! “

” ہاں بالکل! “ اِ رم کی آنکھوں سے شدید خوف جھلکنے گا۔ سرمد نے نوٹوں کے سائز کے کاغذوں کو ایک طرف رکھ دیا، اس کے چہرے پر پسینا آ گیا۔

” تم اس بیگ کو بھی کھول کر دیکھو۔ “ ارم نے خوف سے بیڈ پر پڑے بیگ کی طرف دیکھا: ”شاید۔ ۔ ۔ کوئی ایسی چیز مل جائے جس سے پتالگے کہ۔ ۔ ۔ “ اِرم نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔

سرمد نے بیگ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس کا ہاتھ کانپنے لگا۔ اس نے کانپتے ہاتھ سے بیگ کو اپنی طرف سرکایا اوربیگ کی زِپ میں ہاتھ ڈالا تو اسے ایسا لگاجیسے زِپ کھولنے سے ہی بیگ میں سے بھی کوئی پراسرار چیز نکل کر اس سے چمٹ جائے گی۔ وہ سوچ میں پڑ گیا۔

”تم۔ ۔ ۔ تم بیگ کیوں نہیں کھولتے! “ اِرم کو بھی بیگ سے اَن جانا سا خوف محسوس ہونے لگا۔

سرمد نے دل ہی دل میں دعا مانگی اور نہ چاہتے ہوئے بھی بیگ کی زِپ کھول دی۔ بیگ میں اوپر ہی اوپر سفید رنگ کا کپڑا بے ترتیبی سے پڑا نظر آ رہا تھا۔

سرمد نے کپڑے کو باہرکھینچنا شروع کیا۔ چھے سات میٹر کا سفید کپڑا باہر نکل آیا۔ سرمد نے پریشانی سے بیگ میں دیکھا : ”اور تواس میں کچھ بھی نہیں ہے! “

اِرم کے سارے وجودپرخوف چھاگیا: ”یہ۔ ۔ ۔ یہ سب کیا ہے سرمد! سب کچھ خالی خالی۔ ۔ ۔ سفید سفید۔ ۔ ۔ ! “

سرمد نے سفید لمبے کپڑے کی طرف دیکھتے ہوئے خوف کو اپنی روح میں اندر تک اترتے محسوس کیا۔ اس کے ہونٹ کاپننے لگے : ”اور یہ۔ ۔ ۔ دیکھو تو یہ کپڑا کفن جیسا تو نہیں؟ “

”اِرم چونک گئی:“ ہاں۔ ۔ ۔ ا س کپڑے کی لمبائی بھی کفن جتنی ہی ہے! ”

دفعتاً رانی کا موبائل فون بج اٹھا اور دونوں بہت شدت سے چونک اٹھے۔ بیڈ پر پڑا رانی کا موبائل مسلسل بجے جا رہا تھا لیکن موبائل کی سکرین پر کوئی نام یا نمبر نہیں تھا۔ اِرم موبائل کی سکرین کی طرف دیکھتے ہوئے خوف سے تھوڑاپیچھے ہوگئی۔ سرمد نے نہ چاہتے ہوئے بھی کانپتے ہاتھ سے موبائل فون اٹھا کر، کال رسیو کر کے فون کان پر رکھا تو اس کا چہرہ زرد پڑگیا۔ فون میں سے کسی ننھے بچے کے پراسرارقہقہے سنائی دے رہے تھے۔ سرمد نے فون کو کان سے ہٹاکر سپیکر آن کر دیا۔ کمرے میں بچے کے پر اسرار قہقہے گونجنے لگے۔ خوف سے اِرم پر کپکپی طاری ہوگئی۔ چند لمحوں بعد کال کٹ گئی اور کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ سرمدخوف سے موبائل کو پھینک کر اِرم کے قریب ہوگیا۔ ارم نے دہشت کی حالت میں سرمد کے دونوں ہاتھوں کو جکڑلیا۔ دونوں کے منھ سے کچھ بھی نہ نکل پایا۔ دونوں انتہائی شدت سے پراسراریت کے خوف میں مبتلا ہوگئے۔ اِرم کو اپنے ہی بیڈ روم کے ماحول اور بیڈ پر پڑے رانی کے پراسرار سامان سے سخت دہشت محسوس ہونے لگی۔ اِرم اٹھی اور شدیدخوف سے سرمدکھینچتی ہوئی لاؤنج میں لے گئی۔

لاؤنج میں صوفے پر ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے، رات کی خاموشی میں کتنی ہی دیر تک وہ دونوں سوچتے رہے، لیکن انھیں کچھ بھی سمجھ میں نہیں آیا۔ کافی دیر بعد سرمدنے خاموشی کوتوڑا، اس کے لہجے میں گہرا خوف اور فکرمندی تھی: ”اب۔ ۔ ۔ اب۔ ۔ ۔ آخر کیا کریں اِرم! ؟ “

اِرم نے ایک لمحہ سوچ کر جواب دیا: ”کیوں نہ اس لاش کو ہم ہائی وے پر چھوڑ آئیں! “

”کیا مطلب؟ “ سرمد نے پریشانی سے پوچھا۔

”اس لاش کو لڑکی کی اپنی گاڑی میں ہی ڈال آتے ہیں! “ اِرم نے جواب دیا۔

سرمد کی پریشانی بڑھ گئی: ”کوئی عقل کی بات کرو اِرم! “

”میری بات سمجھنے کی کوشش کرو سرمد! “ اِرم نے سرمد کا ہاتھ دبایا۔

سرمد سوچ میں ڈوب گیا۔

اِرم نے بات کو آگے بڑھایا: ”اس طرح ہماری جان تو چھوٹ جائے گی۔ “

”لاش کو یہاں سے سو کلو میٹر دور واپس اس کی کار میں ڈال کر آنا اتنا آسان کام نہیں ہے اِرم۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ اوریہ بہت بڑا رسک بھی ہے! “ سرمد نے انتہائی پریشانی، خوف اور تھکاوٹ سے جواب دیا۔

”اس سے بڑا رسک صبح ہوتے ہی شروع ہو جائے گا۔ “ اِرم نے کہا : ”صبح تو ہمارے گھر کا چوکی دار اور اس کی بیوی بھی آجائے گی اور پھر دن کی روشنی اور افراد کی موجودگی میں ہم کیسے اس لاش سے جان چھڑا سکیں گے؟ “

سرمد کے خشک گلے میں مزید خشکی آ گئی۔

”ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے سرمد! “ اِرم نے وال کلاک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ : ”رات کے صرف دو گھنٹے باقی ہیں! “

سرمد نے کچھ سوچ کر ٹھنڈی سانس لی: ”شاید۔ ۔ ۔ شاید تم ٹھیک کہتی ہواِرم۔ ۔ ۔ لاش کو واپس ہائی وے پر اس کی کار میں چھوڑ آنا ہی بہتر ہے! “

کار پورچ میں رات کے آخری پہر کا پراسرار اندھیرا اور خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ کار سے کچھ فاصلے پر کھڑی اِرم دہشت زدہ نظروں سے کار میں بیٹھی رانی کی لاش کو دیکھ رہی تھی، سرمد نے کار کا پچھلا دروازہ کھولا اور اس پر رانی کا سامان رکھ کراِرم کی طرف دیکھا: ”اب لاش کو آگے کی سیٹ سے نکال کر پچھلی سیٹ پربٹھاناہے۔ “

”نہیں۔ ۔ ۔ مَیں۔ ۔ ۔ مَیں پیچھے بیٹھ جاؤں گی۔ “ اِرم نے خوف سے ہلکی سی آواز میں کہا۔

سرمد نے لاش کی طرف دیکھا تو اس کے جسم میں خوف کی شدت بڑھ گئی: ”نہیں اِرم! مَیں اب اس لاش کے ساتھ مزید نہیں بیٹھ سکتا! “

اِرم خوف سے لاش کو دیکھتی رہی۔

سرمد نے لاش والی سائیڈ کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا: ”پلیز ارم! اس کو پیچھے بٹھانے میں میری مدد کرو۔ “

” اِرم خوف سے ایک قدم پیچھے ہٹ گئی:“ نہیں نہیں۔ ۔ ۔ لاش کو وہیں بیٹھا رہنے دو! ”

”تو پھر ٹھیک ہے مَیں پیچھے بیٹھتا ہوں، تم کار ڈرائیو کرو۔ “ سرمد نے لاش والی سائیڈ کا دروازہ بند کر دیا۔

” نہیں! مَیں ڈرائیو نہیں کروں گی۔ نہیں بیٹھ سکوں گی مَیں لاش کے ساتھ! “ اِرم کا وجود خوف سے کانپنے لگا۔

”تو آؤ! میری مدد کرو۔ “ سرمد نے پھر لاش والی سائیڈ کا دروازہ کھولا۔

اِرم نہ چاہتے ہوئے بھی سخت خوف کی حالت میں آگے بڑھی۔ سرمد نے لاش کو بازو اورکمر سے کھینچ کر تھوڑا سا باہر کی طرف سرکایا اور اِرم کی طرف دیکھا۔ ارم نے کانپتے ہاتھوں سے لاش کے بازو میں ہاتھ ڈالا تو خوف کی ٹھنڈی لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔ سرمد نے اپنے دونوں بازو لاش کی کمر میں ڈال کر لاش کو کھینچا تو لاش کا چہرہ اِرم کے کندھے پر آٹکرایا۔ دہشت کے مارے اِرم کے منھ سے چیخ نکل گئی اور اس نے لاش سے ہاتھ نکال لیے۔

”پلیز اِرم! کچھ تو خیال کرو، تمھاری کوئی ایسی چیخ کسی محلّے والے نے سن لی تو۔ ۔ ۔ “ سرمد نے رازداری کے لہجے میں کہا۔

اِرم نے کوئی جواب نہیں دیا، اور اس نے پھر لاش کو فرنٹ سیٹ سے نکالنے میں سرمد کی مدد کرنا شروع کی۔ جب انھوں نے لاش کو پچھلی سیٹ پر بٹھا دیا تو دونوں ہانپ رہے تھے۔

جام شورو ٹول پلازہ تک سرمد نے بہت احتیاط اور آہستہ رفتار سے ڈرائیو کی لیکن جیسے ہی کار ٹول پلازہ سے آگے نکلی تو اس نے ایک دم سے ایکسی لیٹر پر پاؤں کا دباؤبڑھا دیا۔ ایک ہی منٹ میں کار کے سپیڈ میٹر کا کانٹا سو کے ہندسے سے اوپر چلا گیا۔ لاش پچھلی سیٹ پر ایک زندہ لڑکی کی طرح سکون سے بیٹھی رہی، لیکن اِرم اب بھی شدید خوف کی کیفیت میں مبتلا تھی اور اس نے اپنا ایک ہاتھ ڈرائیونگ کرتے ہوئے سرمدکے کندھے پر رکھ دیا تھا۔ اِرم کو بار بار یہ دہشت بھرا خیال آ رہا تھا کہ جیسے کسی بھی و قت لاش کا ہاتھ اسے پیچھے سے پکڑ لے گا۔ کار اسی رفتارسے آگے بڑھتی رہی اور کار کے اندر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اس خاموشی کو سرمد کی آواز نے توڑا۔ اس کی آواز میں سخت خوف اور پریشانی شامل تھی: ”ارم! اب اگر رانی کی کاراپنی جگہ پر موجود نہ ملی تو۔ ۔ ۔ ! “

اِرم نے ٹھنڈی سانس لے کر سپر ہائی وے کے دونوں طرف پھیلے اندھیرے کو دیکھا اور بڑی مشکل سے بولنے کی ہمت کی: ”ابھی سے تو ایسی باتیں مت سوچو! “

”ہوسکتا ہے، اس کی کار وہاں سے ہٹا لی گئی ہو! “ سرمد کے اندر وسوسہ جنم لینے لگا۔

اِرم نے ہائی وے کے دوسری جانب سے آنے والی گاڑیوں کی روشنیوں کی طرف دیکھا اور سرمد کو دلاسا دینے کی کوشش کی : ”تم فکر مت کرو، اب تو مَیں بھی تمھارے ساتھ ہوں! “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6