حیدر آباد 47 کلو میٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپر ہائی وے پر سو کلو میٹرسے زیادہ کی رفتارسے ڈرائیو کرتے ہوئے سرمد سی ڈی پلیئر میں چلتے کشورکمار کے گیت سے سر ملانے کی کوشش کر رہا تھا:

زندگی اک سفر ہے سہانا

یہاں کل کیا ہو کس نے جانا

اسی لمحے اس کے فون کی بیل، گیت کے ساتھ بجنے لگی۔ اس نے ڈیش بورڈ سے موبائل اٹھا کر دیکھا۔ موبائل کی سکرین پر اِرم کی تصویر دیکھ کر مسکرا دیا۔ اس نے سی ڈی پلیئر بند کر کے کال اٹینڈ کی: ”ہیلو جان! “

”کیا تم کراچی سے نکل چکے ہو؟ “ دوسری طرف سے اِرم نے پوچھا۔

”ہاں جان! “ سرمد نے جواب دیا، ”مَیں تو پچاس کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے بھی کر چکا ہوں۔ “

”ایسا نہ ہو کہ حیدرآباد پہنچنے کے بعد گھر آنے کے بجائے کسی محفل میں جا بیٹھو! “

”نہیں میری جان! کیسی باتیں کر رہی ہو؟ “

”سرمد تمھیں پتاہے کہ چوکی دار اور اس کی بیوی آج چھٹی پر ہیں، اکیلی ہوں گھر میں۔ سیدھے گھر آنا، شام ہو رہی ہے۔ “

”جو حکم! “ سرمد نے مسکرا کر جواب دیا: ”مَیں ایک ڈیڑھ گھنٹے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں! “

سرمد نے موبائل فون کو واپس ڈیش بورڈ پر رکھا۔ مڑ کر دیکھا تو اس کا پیر بے اختیار ایکسی لیٹر سے ہٹ کر بریک پر جا پڑا اور کار روڈ کے کنارے کھڑی ایک خوب صورت لڑکی کے پاس جا کر رک گئی، جس نے اسے رکنے کا اشارہ کیا تھا۔

”جی محترمہ! “ سرمد نے مسکرا کر بے حد حسین لڑکی کی طرف دیکھا۔

”میری کار خراب ہو گئی ہے، پلیز آپ دیکھیں! “ خوب صورت لڑکی نے گزارش کی۔

”ضرور، مَیں تو ایک منٹ میں آپ کی کار ٹھیک کر دوں گا۔ “ سرمد مسکرا کر کار سے اتر آیا۔

سرمد نے کتنی ہی دیر کوشش کی کہ اس لڑکی کی کار سٹارٹ ہو جائے مگر ہر طرح کی کوشش کے بعد جب وہ کار سٹارٹ نہ کر سکا اور جان گیا کہ یہ اس کے بس کی بات نہیں، تو اس نے معذرت خواہانہ انداز میں لڑکی کی طرف دیکھا: ”سوری! کار میں کوئی بڑی خرابی لگتی ہے۔ “

”اب مَیں کیا کروں! “ لڑکی کچھ پریشان ہو گئی۔

”کیا مَیں ہیلپ لائن پر فون کروں؟ “ سرمد نے پوچھا۔

”نہیں! پتا نہیں وہ کب آئیں، مجھے جلدی ہے۔ “ لڑکی نے جواب دیا۔

”تو پھرمَیں آپ کو ہائی وے پر کسی مکینک تک پہنچا دیتا ہوں، اس کو لے کر آجائیں۔ “

”کیا! “ لڑکی جیسے چڑ سی گئی۔ ”مَیں کیا کسی مستری کے ساتھ دھکے کھاتی پھروں گی۔ “

سرمد نے ایک نظر کچھ ہی فاصلے پر پانی کا ڈِبا لیے کھڑے بوڑھے شخص کو دیکھا: ”مَیں آپ کے ڈرائیور کو کسی مکینک کے پاس۔ ۔ ۔ “

”وہ میری کار کا ڈرائیور نہیں ہے۔ “ اس نے سرمد کی بات آدھے سے ہی اچک لی : ”اس آدمی کاوہ تو سامنے ہوٹل ہے، میری مدد کے لیے آ گیا تھا“

”یہ تو مجھ سے بھی نہیں ہو گا کہ مَیں مستری کو لے کر واپس یہاں آؤں۔ “ سرمد نے بے زاری سے کہا۔

”نہیں نہیں، کسی مکینک کو توحیدرآباد سے مَیں بھی بھیج سکتی ہوں۔ “ لڑکی نے جواب دیا۔

سرمد خوشی سے مسکرا دیا: ”پھر تو کوئی مسئلہ نہیں، حیدرآباد تک تومَیں آپ کو لفٹ دے سکتا ہوں! “

لڑکی بھی مسکرا دی : ”مَیں آپ کی لفٹ کی آفرقبول کرتی ہوں۔ “

سرمد کے دل میں پھول کھلنے لگے۔

لڑکی نے گاڑی سے ایک چھوٹا ٹریول بیگ نکال کر سرمد کے ہاتھ میں دیا، اور اپنے پرس سے وزٹنگ کارڈ نکال کر بوڑھے شخص کی طرف بڑھایا، اور کارڈ دیتے ہوئے بولی: ”مہربانی بابا! اگر ہائی وے پولیس میری گاڑی کے بارے میں پوچھے تو ان کویہ کارڈ دِکھا دینا۔ “

بوڑھے نے کوئی جواب نہیں دیا۔ لڑکی سے کارڈ لے کر دیکھا اور مسکرا دیا۔ لڑکی جا کر سرمد کی گاڑی میں بیٹھ گئی۔

”میرا نام سرمد ہے۔ “ اس نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے مسکرا کر لڑکی کی طرف دیکھا۔

لڑکی نے کوئی جواب نہیں دیا۔

”آپ حیدرآباد میں رہتی ہیں؟ “ سرمد نے گاڑی آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا۔

”ہاں۔ “ لڑکی نے مختصر ساجواب دیا۔

”کیا آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں؟ “

”رانی! “

”رانی کی کہانی میں کوئی بادشاہ بھی ہوگا! “ سرمد نے شرارت سے کہا۔

رانی نے کوئی جواب نہیں دیا، بس تھوڑا سا مسکرا دی، اور اس کاچہرہ مزید خوب صورت ہو گیا، جیسے کوئی گلاب کِھل اٹھا ہو۔

”رانی صاحبہ! “ سرمد نے مسکرا کر کہا: ”آپ نے بتایا نہیں کہ آپ کی زندگی میں کوئی بادشاہ ہے کہ نہیں؟ “

”نہیں! “ رانی نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

”کیوں! آپ نے شادی نہیں کی؟ “

”نہیں! “ رانی نے سرد لہجے میں جواب دیا۔

”تو پھر۔ ۔ ۔ ! شادی کے علاوہ کوئی شہنشاہ؟ “ سرمد کے لہجے کی شوخی برقرار رہی۔

”بالکل نہیں! “ رانی نے سرد لہجے میں جواب دیا۔

اسی لمحے رانی کے پرس میں رکھے موبائل فون کی بیل بجنے لگی۔ رانی نے پرس سے موبائل نکالا اور کان پر رکھ کر ایک دم کال کرنے والے کو کہا : ”مَیں اس وقت تم سے بات نہیں کر سکتی۔ انتظار کرو! مَیں آرہی ہوں۔ “ رانی نے موبائل واپس پرس میں رکھ دیا۔

سرمد مسکرا دیا : ”کس کا فون تھا؟ “

”بس۔ ۔ ۔ ایسے ہی۔ ۔ ۔ کسی کا۔ ۔ ۔ “ رانی نے بات بنانے کی کوشش کی۔

سرمد کے چہرے پر ذومعنی مسکراہٹ آ گئی : ”لگتا ہے آپ کی زندگی میں بھی کوئی ہے۔ ۔ ۔ “

”آپ اتنی بکواس کیوں کر رہے ہیں۔ “ رانی ناراض ہوگئی: ”کیوں مجھ سے فری ہونے کی کوشش کر رہے ہیں؟ “

”آپ مجھے سے بداخلاقی کر رہی ہیں! “ سرمد نے اپنا غصّہ ضبط کر کے کہا: ”اگر مجھے پتا ہوتا تو مَیں آپ کو لفٹ ہی نہ دیتا۔ “

”تو اب بھی مجھے اتار دیں گاڑی سے! “ رانی نے مزید غصّے سے کہا اور سیٹ بیلٹ کھولنے لگی۔

”شاید اتار بھی دیتا آپ کو۔ ۔ ۔ “ سرمد نے کار کا ایکسی لیٹر دبا کر رفتار بڑھا دی : ”مگر راستے پر ایسے اتارنا بداخلاقی ہو گی اور شاید جرم بھی! “

رانی نے خاموشی سے نظریں ہائی وے پر جما دیں اور کوئی جواب نہ دیا۔ سرمدچپ چاپ ڈرائیو کرنے لگا، اور دل ہی دل میں غصّہ ہوتا رہا کہ رانی کو لفٹ ہی کیوں دی تھی۔ اپنے اوپر جبر کرتے ہوئے اور غلطی کے احساس کی وجہ سے اسے اپنے گلے میں کانٹے چبھتے محسوس ہوئے۔ وہ اسی رفتا ر سے ڈرائیو کرتا رہا، اور دوسرے ہاتھ سے پچھلی سیٹ پر پڑی پانی کی بوتل اٹھانے کی کوشش کی، مگر اس کا ہاتھ بوتل تک نہ پہنچ سکا۔ تب اس نے غصّے کو ضبط کیا، لہجے کو نرم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے رانی کی طرف دیکھا: ”پلیز بیک سیٹ سے بوتل اٹھا دیں۔ “

رانی نے کوئی بھی جواب نہیں دیا۔ خاموشی سے سامنے ہائی وے پر دیکھتی رہی۔

”مَیں نے آپ سے کچھ گزارش کی ہے محترمہ! “ سرمد نے سرد لہجے میں کہا : ”مہربانی کر کے پانی کی بوتل پکڑا دیں! “

رانی ہائی وے کی طرف دیکھتی رہی۔

سرمد اپنا غصّہ مزید ضبط نہ کر سکا: ”آخر مَیں نے کون سا قصور کیا ہے کہ منھ بسورکربیٹھی ہیں؟ “

رانی خاموش بیٹھی رہی، کار کے آگے چلتی ہوئی کوچ کو دیکھتی رہی۔

سرمد نے تیز رفتار کار کو اچانک فل بریک لگا ئی تو کار سڑک سے اترکر، کلومیٹرکے پتھر سے ٹکرانے سے بچ کر رک گئی۔ کلو میٹر کے پتھر پر لکھا تھا

حیدرآباد 47 کلومیٹر

سرمد نے انتہائی غصّے بھری نظروں سے رانی کی طرف دیکھا اور پھر ٹھنڈی سانس لے کر سیٹ بیلٹ کھولا۔ پچھلی سیٹ سے بوتل اٹھا کر اس کا ڈھکن کھولا، اور پھر کچھ سوچ کر رانی کی طرف دیکھا: ”ایک ہی بوتل ہے اور گلاس بھی نہیں ہے۔ پانی پیناچاہیں توبے شک پہلے آپ پی لیں۔ “

رانی نے کوئی بھی جواب نہیں دیا۔

”پیئں گی؟ “ سرمد نے پانی کی بوتل رانی کی طرف بڑھائی۔

رانی چپ بیٹھی رہی۔

سرمد کا ضبط کیا ہوا غصّہ دوبارہ اس کے لہجے میں شامل ہوگیا: ”آپ تو ایسے ناراض بیٹھی ہیں، جیسے مَیں نے آپ سے کوئی غلط بات کَہ دی ہو! “

رانی نے کوئی بھی ردِعمل ظاہر نہ کیا۔

”آپ میری بات کا جواب کیوں نہیں دے رہیں؟ “ سرمد نے اب مزید غصّے سے کہا: ”رانی صاحبہ! مَیں آپ سے بات کر رہا ہوں، دوسرا کوئی بھی نہیں ہے گاڑی میں! “

رانی سکون کے ساتھ خاموش بیٹھی رہی۔

”آخر کون سا جرم کیا ہے مَیں نے آپ کا؟ “ سرمدنے چلا کر پوچھا۔

رانی نے پھر کوئی جواب نہ دیا۔

سرمد کے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے، وہ کار کا دروازہ کھول کہ نیچے اتر آیا اورجاکر رانی کی طرف کا دروازہ کھول کر کہنے لگا: ”مہربانی کر کے اتر جائیں میری کار سے، مَیں کسی کوچ کوروکتا ہوں آپ کے لیے۔ “

رانی نے کوئی جواب نہیں دیا۔

سرمد کا غصّہ انتہا پر پہنچ چکا تھا اور اس نے رانی کو بازو سے پکڑ کر کھینچا : ”اترو! میری جان چھوڑو! “

کھینچنے کی وجہ سے سیٹ بیلٹ میں جکڑا ہوا رانی کا جسم دروازے کی طرف ڈھلک گیا۔ سرمد چونک گیا۔ وہ رانی کے لڑھکے ہوئے جسم کوسیٹ پر سیدھا کر کے چلایا: ”رانی! “

رانی کے جسم میں کوئی بھی حرکت نہ ہوئی، اس کی آنکھیں کھلی رہیں۔

سرمد نے کار کے باہر کھڑے کھڑے ہی رانی کے جسم کو جھنجھوڑا، اس کی نبض دیکھی، اس کی ناک کے نیچے ہاتھ رکھ کر سانس کو محسوس کرنے کی کوشش کی، لیکن رانی کے جسم میں زندگی کی کوئی علامت موجود نہ تھی۔ خوف کے مارے سرمد کے چہرے پر پسینا آگیا۔ وہ سمجھ گیا کہ ظاہری طور پرکار کی سیٹ پرآنکھیں کھولے زندہ انسان کی طرح بیٹھے رانی مر چکی ہے۔

”یا اللہ! مَیں کس مصیبت میں پھنس گیا! اب مَیں کیا کروں! “ بے اختیار سرمدکے منھ سے الفاظ نکلے۔ اس مصیبت سے جان چھڑانے کے خیال سے پہلے ہی ہائی وے پولیس کارکے سائرن کی آواز اس کے کانوں تک پہنچ گئی۔ اس نے چونک کر ہائی وے کی طرف دیکھا، کچھ ہی فاصلے پر پولیس کار سائرن بجاتی چلی آ رہی تھی۔ سرمدنے ایک دم سے کار کا دروازہ بندکردیا اور کارمیں موجود رانی کی لاش کی طرف دیکھا۔ رانی کی کھلی آنکھیں کسی زندہ لڑکی جیسی نظر آ رہیں تھیں۔

ہائی وے پولیس کی کار سرمد کی کار کے پیچھے آ کر رکی۔ پٹرولنگ آفیسر نے کار میں سے اتر کر پوچھا: ”اینی پرابلم؟ “

”نوسر! نو پرابلم! “ سرمد نے مسکرانے کی کوشش کی۔ اپنے ایک ہاتھ کی چھوٹی انگلی سیدھی کر کے دکھائی اور روڈ کے ساتھ کچے میں اتر گیا۔ پینٹ کی زِپ کھولی اور کچھ دیر دوسری طرف منھ کرکے کھڑا رہا۔ ایک دو منٹ کی اداکاری کے بعد اس نے زِپ بند کی اور واپس مڑا تو دیکھا کہ پولیس کار کچھ فاصلے پر ہی رکی ہوئی تھی۔ وہ اپنی کار کی طرف آیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی کار کا دروازہ کھولا اور ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا۔ کار کا دروازہ بند کر کے اس نے پاس بیٹھی ہوئی لاش کو خوف سے دیکھا اور تھرکتے ہاتھ سے اگنیشن سوئچ میں چابی گھمادی۔ پولیس کار اپنی جگہ پر کھڑی رہی اور سرمد نے اس کے پاس سے گزرتے ہوئے سپیڈ بڑھا دی۔ کچھ فاصلے پر پہنچ کر بیک مرر میں دیکھا تو پولیس کار یو ٹرن لے کر دوسرے ٹریک پر واپس جا رہی تھی۔ سرمد نے ٹھنڈی سانس لی اور پاس بیٹھی رانی کی لاش کو دیکھاتو خوف اس کے پورے وجود میں سما گیا۔ اس کا گلا خشک ہو گیا۔ اس نے کار کی سپیڈ ایک دم کم کردی اور سیکنڈ گئیر لگا کر سوچوں میں گم ہو گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *