کیا وہ لڑکی جھوٹی تھی؟
”وصی آخر آپ وہ بات کہتے کیوں نہیں جسے سننے کے لیے میرے کان ترس رہے ہیں“۔ اس نے کافی کا کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
”کیا مطلب“؟ میں چونک اٹھا۔
”کیا یہ بھی میں ہی بتاؤں گی؟ آپ نہیں جانتے کیا؟ “ اس نے منہ بنایا۔
”شاید میں ڈرتا ہوں۔ ایک طلسم ہے یا خواب ہے۔ میں اس خواب سے بیدار ہونا نہیں چاہتا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں نے کچھ کہا تو طلسم ٹوٹ جائے گا۔ اس لیے خاموش رہتا ہوں“۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے۔
”کبھی کبھی آپ کی باتیں مجھے بالکل سمجھ نہیں آتیں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے اپنا نام بالکل اچھا نہیں لگتا“۔ وہ بولی۔
”اور تمہاری باتیں جیسے بہت آسان ہیں۔ ہم کیا بات کر رہے تھے تم نے کوئی اور قصہ چھیڑ دیا“
”اچھا بتائیے یہ میرا نام جو آبگینہ چودھری ہے۔ کیا اچھا لگتا ہے آپ کو؟ “ اس نے میری بات کو نظر انداز کرتے ہوئے سوال کیا۔
”اچھا؟ میرا مطلب ہے کوئی برائی بھی نہیں ہے“۔
”مجھے آپ پر اس وقت بہت غصہ آ رہا ہے۔ زہر لگ رہے ہیں آپ مجھے“۔ اس نے منہ بنا کر کہا۔ مگر لہجہ اس کے الفاظ کی نفی کر رہا تھا۔
”اچھا بتاتا ہوں، مجھے تمہارا نام بالکل بھی اچھا نہیں لگتا۔ بھلا یہ بھی کوئی نام ہے۔ ویسے نام میں کیا رکھا ہے۔ ’رنگ پیراہن کا، خوش بو زلف لہرانے کا نام‘ ۔ میں کچھ بے ربط جملے بول رہا تھا۔
”اب فیض صاحب کو بیچ میں نہ لائیے۔ ہماری بات ہو رہی ہے۔ “
”ہاں تو تمہارا نام بدل دیتے ہیں۔ کیا نام رکھوں؟ “ میں نے سوچنے کی کوشش کی۔
”آبگینہ وصی کیسا رہے گا“۔ اس نے دھیرے کہا۔
میں ایک دم چونک اٹھا۔ میں تو کچھ بھی نہ کہہ سکا تھا اور اس نے کس خوبی سے اپنے دل کی بات کہہ دی تھی۔
”واقعی بہت اچھا لگے گا“۔ میں نے اس کے چہرے پر نگاہ ڈالتے ہوئے کہا جو تمتما رہا تھا۔
”کتنا اچھا لگے گا ناں جب میں کسی کو بتاؤں گی کہ میں آبگینہ وصی ہوں۔ بس اب انتظار نہیں ہوتا۔ میں تو روز اپنے کمرے میں بیٹھی گھنٹوں سوچتی رہتی ہوں کہ کب آپ مجھے اپنے گھر لے جائیں گے۔ ویسے تو کب سے آپ کی ہو چکی ہوں لیکن کچھ اخلاقی، مذہبی اور قانونی تقاضے بھی تو ہوتے ہیں۔ آپ اپنے والدین کو میرے گھر کب بھیجیں گے مجھے مانگنے کے لیے۔ “
شاید یہی وہ لمحہ تھا میں جس سے ڈرتا تھا۔ خوشی کے بجائے میرے چہرے پر تفکرات ابھر آئے۔ آبگینہ نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔
”آپ پریشان کیوں ہیں؟ کوئی مسئلہ ہے کیا؟ “
”آبگینہ تم ایک بڑے زمیندار کی بیٹی ہو، ایک بڑی حویلی میں رہتی ہو اور میں ایک شاعر ہوں۔ میرے پاس اس دولت کا عشر عشیر بھی نہیں جو تمہارے ابا جان کے پاس ہے۔ میرے پاس تو اپنا گھر بھی نہیں ہے، میں کرائے کے مکان میں رہتا ہوں۔ میں نے اگر اپنے والدین کو تمہارے گھر بھیجا تو تمہارے ابا فوراً انکار کر دیں گے“۔
”کیسے انکار کر دیں گے۔ میں ہوں ناں۔ میں امی سے پہلے بات کر لوں گی۔ میں لاڈلی ہوں سب کی۔ میری بات رد نہیں کریں گے اور ابھی گزشتہ برس ہی میرے تایا کے بیٹے نے محبت کی شادی کی ہے۔ کسی نے برا نہیں منایا (مانا) تو پھر میرے لیے کیوں انکار کریں گے۔ اور پھر آپ خود کو دولت کے ترازو میں کیوں تول رہے ہیں۔ آپ ایک شاعر ہیں، دانشور ہیں، آپ کا مرتبہ ان سے کہیں بلند ہیں، ان کے پاس تو صرف پیسا ہے اور کچھ نہیں، بس آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ آپ کے امی ابو کب ہمارے گھر آئیں گے“۔ اس نے پر اعتماد لہجے میں کہا۔
اس کی بات سے مجھے حوصلہ ہوا اس کے باوجود میرا دل کہہ رہا تھا کہ یہ اتنی آسان بات نہیں ہے۔ میرا دل کسی ان جانے خوف سے کپکپا رہا تھا۔
”میں تو آج ہی بات کرنے کے لیے تیار ہوں“۔ میں نے کہا۔
”بس تو پھر ٹھیک ہے۔ میں بھی اپنی امی سے بات کر لوں گی، پھر کل شام کو بات ہو گی“۔ آبگینہ کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔
میں گھر آیا تو خاصا پریشان تھا۔ بالآخر میں نے امی سے بات کی۔ ساری بات بتائی۔ وہ پہلے تو خاموشی سے سنتی رہیں پھر بولیں۔
”بیٹے میں تمہارا دل تو نہیں توڑنا چاہتی لیکن میرا اندازہ یہی ہے کہ وہ لوگ نہیں مانیں گے۔ ہمارا گھرانا ان کے خاندان سے مالی لحاظ سے بہت کم تر ہے۔ وہ اپنی بیٹی کی شادی کسی امیر اور بڑے خاندان میں کریں گے“۔
”امی آپ پہلے ہی مایوسی کی باتیں نہ کریں، ایک بار ان کے گھر تو جائیں“۔
”اچھا میں تمہارے ابو سے بات کرتی ہوں“۔
میں اپنے کمرے میں چلا گیا لیکن دل نہیں لگ رہا تھا۔ پھر سوچا کسی سے مشورہ کرنا چاہیے۔ میں نے موٹرسائیکل کو کک لگائی اور سیدھا اسد صاحب کے گھر پہنچ گیا۔ وہ ڈنر کر رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر خوش ہو گئے۔
”اچھا ہوا تم آ گئے۔ آیندہ شمارے کے حوالے سے کچھ باتیں کرنی تھیں۔ پہلے بتاؤ کھانا کھا لیا ہے؟ نہیں کھایا تو پہلے کھانا کھا لو پھر بات کریں گے“۔
”جی نہیں، مجھے مطلق بھوک نہیں ہے، آپ بات کیجیے“۔ میں نے فوراً کہا۔
وہ چونک اٹھے۔ ”کیا بات ہے تم کچھ پریشان لگ رہے ہو“؟
”کچھ نہیں، میں بھی آپ سے ایک مشورہ کرنے آیا تھا“۔
”اچھا میں چائے بنواتا ہوں، تم پہلے اپنی بات کرو۔ میری باتیں تو ہوتی رہیں گی“۔
میں نے انہیں مختصر قصہ سنایا اور پوچھا کہ کیا کرنا چاہیے۔ وہ پوری بات سننے کے بعد کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے۔
”بھئی جب لڑکی خود کہہ رہی ہے کہ اپنے والدین کو بھیجو تو بھیج دو۔ تمہیں اس سے محبت ہے تو پھر دیر کس بات کی“؟
شاید میں خود بھی یہی سننا چاہتا تھا۔ اس لیے مجھے ان کا مشورہ اچھا لگا۔ خود میرے لیے بھی آبگینہ کے بغیر اب ایک پل رہنا بھی مشکل تھا۔ میں گھر واپس آ گیا۔ امی نے ابو سے بات کر لی تھی اور انہیں منا لیا تھا کہ وہ رشتے کی بات کرنے جائیں۔
اب مجھے آبگینہ سے ملنے کا شدت سے انتظار تھا کہ اس سے ملوں اور اسے سب کچھ بتاؤں۔ اس کا پی ٹی سی ایل کا نمبر تو میرے پاس تھا لیکن میں خود مل کر سب کچھ بتانا چاہتا تھا اور اس سے پوچھنا چاہتا تھا۔
مقررہ وقت پر میں طے شدہ ریسٹورنٹ میں پہنچ گیا۔ وقت گزرتا گیا لیکن وہ نہیں آئی تھی۔ میرے دل میں طرح طرح کے وسوسے آ رہے تھے۔ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ پھر جب چار گھنٹے کے بعد میں مایوس ہو کر اٹھنے لگا تو وہ آتی دکھائی دی۔ اسی طرح مسکراتی ہوئی، دیدہ زیب لباس پہنے ہوئے اور مہکتے ہوئے وہ قریب آئی اور میرے سامنے بیٹھ گئی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


