کیا وہ لڑکی جھوٹی تھی؟
”آبگینہ! اب تم نے کیا سوچا ہے؟ “ آخر میں نے پوچھا۔
”کیا مطلب؟ کس بارے میں؟ “ اس نے چونکنے کی اداکاری کی۔
”زندگی کے بارے میں، میرا مطلب ہے تم بمشکل بائیس برس کی ہو۔ ابھی تو بہت طویل سفر ہے زندگی کا۔ اکیلے یہ سفر کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ “ میں نے تمہید باندھی۔
جواب میں وہ اس طرح بولنے لگی جیسے کبھی پہلے بولا کرتی تھی۔ یعنی نان اسٹاپ۔
”زندگی کتنی ہے یہ تو کسی کو پتا نہیں۔ میرے خاوند کی عمر مجھ سے پچیس برس زیادہ تھی وہ خاندانی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ انہیں قتل کر دیا گیا لیکن میری بھابی کا بچہ پیدا ہوتے ہی دنیا سے چلا گیا۔ پتا نہیں میں کتنا جیؤں گی تو پھر خواہ مخواہ یہ سوچوں کہ میرا کیا بنے گا۔ ویسے مجھے کسی چیز کی کمی نہیں۔ بہت دولت ہے میرے پاس۔ دولت سے بڑھ کر بھی بھلا کوئی چیز ہوتی ہے دنیا میں۔ “
”میں صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ اگر۔ “ میں کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن اس نے میری بات کاٹ دی۔
”آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں وہ میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ میں آپ کو پہلے ہی بتا چکی ہوں کہ میں آپ سے پیار نہیں کرتی۔ اب چودھری امجد مر گیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کا چانس بن گیا ہے۔ میں آپ سے کبھی شادی نہیں کروں گی۔ سارا گاؤں مر جائے پھر بھی نہیں، سمجھے آپ“؟ اس نے اپنی طرف سے بات ختم کر دی لیکن بات ختم نہیں ہوئی تھی۔
”ہاں ہاں سمجھ گیا، سب کچھ سمجھ گیا، میں سمجھ گیا کہ تم دنیا کی سب سے بڑی جھوٹی ہو۔ میں نے تم جیسی جھوٹی لڑکی دنیا میں نہیں دیکھی۔ تم کسی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جھوٹ بولتی ہو۔ جواب نہیں تمہارا۔ کہاں سے سیکھا یہ جھوٹ بولنا؟ بولو؟ “ بولتے ہوئے میری آواز خاصی بلند ہو گئی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ وہ جواب میں مجھ سے بھی اونچا بولے گی لیکن اس کے الٹ ہوا۔ وہ چپ چاپ چند لمحے میری طرف دیکھتی رہی کپکپاتی ہوئی آواز میں بولی۔
”میں جھوٹ نہیں بول رہی ہوں۔ میں سچ کہہ رہی ہوں۔ میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی، نہیں کر سکتی۔ پلیز آپ چلے جائیے“۔
”ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں۔ اس جگہ سے، تمہارے گاؤں سے، اور پھر کبھی تمہارے سامنے نہیں آؤں گا لیکن کیا تم وعدہ کر سکتی ہو کہ مجھے اپنے دل سے بھی نکال دو گی“؟
آبگینہ نے منہ پھیر لیا۔ اس کا جسم لرز رہا تھا، مجھے ایسا لگا جیسے وہ رو رہی ہے۔ مجھ سے برداشت نہ ہو سکا میں نے آگے بڑھ کر اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اس کا چہرہ اپنی طرف گھمایا۔ آنسو اس کے گالوں پر موتیوں کی طرح لڑھک رہے تھے۔
”آپ نے ٹھیک کہا، میں جھوٹی ہوں، میں نے آپ سے جھوٹ بولا۔ اس لیے کہ میں نہیں چاہتی تھی کہ آپ کو کچھ ہو۔ آپ کو دولت کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔ اس دن جب پہلی بار میں نے اپنی امی کو آپ کے بارے میں بتایا تھا تو آپ کو پتا نہیں کتنا بڑا ہنگامہ ہوا تھا۔ ابو کو بھی پتا چل گیا تھا۔ وہ تو اسی وقت اپنے بندوں کو بندوقیں دے کر بھیج رہے تھے کہ آپ کو قتل کر دیں۔ میں ان کے پیروں میں گر گئی۔ رو رو کر ان کو منایا کہ وہ مجھے اور آپ کو معاف کر دیں۔ اور پھر معافی اس شرط پر ملی تھی جس پر میں نے حرف بہ حرف عمل کیا۔ میں نے محبت کر کے شاید کوئی جرم کیا تھا اسی لیے انہوں نے اسی وقت میری شادی چودھری امجد سے طے کر دی۔ ویسے بھی ان سے پرانا جھگڑا چل رہا تھا۔ اس طرح بدلے کی آگ بھی ٹھنڈی پڑ سکتی تھی۔ اس طرح مجھے قربان کر دیا گیا۔ میں نے سوچا کہ اگر آپ کو اصل بات بتائی تو آپ کو چین نہیں آئے گا اور آپ مجھے حاصل کرنے کے کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے اور میرے خاندان کو آپ کو ختم کرنے کا بہانہ مل جائے گا۔ اس لئے میں خود بری بن گئی۔ آپ سے جھوٹ بولا۔ لیکن آپ کو پتا ہے اس دن کے بعد مجھے کبھی نیند نہیں آ سکی۔ ہر رات انگاروں پر لوٹتے ہوئے گزاری ہے۔ اتنا پیار کرتی ہوں میں آپ سے“۔ وہ سسک رہی تھی۔
”تو پھر تم شادی سے انکار کیوں کر رہی ہو؟ “
”بات وہ نہیں ہے۔ اب میں اپنے خاندان کے دباؤ میں نہیں ہوں اور نہ آؤں گی۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ اب میں اپنے آپ کو آپ کے قابل نہیں سمجھتی“۔ وہ رو رہی تھی۔
”آبگینہ! یہ کیا بات ہوئی۔ تم یہ فیصلہ کیسے کر سکتی ہو۔ تم سے اچھی لڑکی تو دنیا میں نہیں ہو گی، تمہاری یہ بات میں نہیں چلنے دوں گا۔ اب تو تم سے شادی کر کے رہوں گے۔ تمہیں اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا“۔
”میری مرضی کے بغیر ہی لے جائیں گے“؟
”اسی لیے تو کہہ رہا ہوں کہ ذرا سوچو، اپنا نہیں تو میرا خیال کر لو۔ ایک بارمیری بات مان لو، اس کے بعد تو ساری زندگی تمہاری ہی چلنی ہے“۔
میں نے بے بسی کے انداز میں کہا اور آبگینہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہنس پڑی۔ اب اتنا تو میں سمجھتا ہی تھا کہ اس کی ہنسی کا مطلب کیا ہے۔


